انتخابی مہم کے لیے سیکیورٹی کی ضرورت

سب سے بنیادی نقطہ بہر کیف دہشت گردی اور انتہاپسندی یا کالعدم اور جنگجو تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا ہے۔


Editorial April 17, 2013
سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم درہم برہم ہونے اور الیکشن دفاتر پر موجود کارکنوں پر تشدد کے ان گنت واقعات صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں۔ فوٹو: فائل

دہشت گردی کی مسلسل وارداتوں سے ملک میں قیامت کا سا ہنگامہ اٹھائے جانے کا منظر نامہ ابھرتا نظر آرہا ہے۔ تاہم یہ حقیقی نہیں، اس لیے کہ ابھی ریاستی رٹ قائم کرنے اور انتخابی امیدواروں کو مکمل تحفظ دلانے کے لیے قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ترکش سے اپنے تیر شاید نکالے نہیں ہیں۔یقیناً سارا منظر ہی بدل جائے گا اگر ایک بار قانون نافذ کرنے والوں کو فری ہینڈ مل جائے ۔

اصولاً تو کسی کی مجال نہیں ہونی چاہیے تھی کہ وہ انتخابات کے التوا کی سازش میں کامیابی کا سوچے۔ سب سے بنیادی نقطہ بہر کیف دہشت گردی اور انتہاپسندی یا کالعدم اور جنگجو تنظیموں کے گرد گھیرا تنگ کرنے کا ہے۔ اب تک تو یہی گمان ہوتا ہے کہ یہ قوتیں بالادست ہیں اور اپنے ماردھاڑ کے ایجنڈے پر کمربستہ ہیں ۔ انتہاپسند قوتوں کی ملک دشمنی اور ریاست بیزاری کی انتہا یہ ہے کہ اب انھوں نے اپنی حکمت عملی بھی زیادہ سفاکانہ بنالی ہے ، وہ آسمانی اور زمینی بلائوں کی طرح انتخابی فضا میں محو پرواز عقابوں اور گھات لگائے شکاریوں کی طرح اپنے شکار پر جھپٹتے ہیں ۔

ان کا مقصد صرف ایک ہے کہ لوگ ڈر کر گھروں میں دبک کر بیٹھ جائیں اور پولنگ اسٹیشنز پر سناٹا ہو۔ وہ ووٹرز کوخوف و ہراس میں مبتلا کرکے اور پولنگ اسٹیشنوں سے دور رکھ کر انتخابات کے انعقاد کو ناکام بنانے کے جنون میں مبتلا ہیں۔ان کی ڈوریاں کہیں اور سے بھی ہلائی جا رہی ہیں۔مگر ریاستی مشینری ان کا یہ بھرم زمیں بوس کرسکتی ہے۔ انتخابات سر پر آچکے ہیں، وزارت داخلہ ، سیاسی رہنما،الیکشن کمیشن ، عدلیہ اور ملک کے جمہوریت پسند عوام دہشت گردی کے خلاف یک زبان ہوکر انتخابی عمل کی تکمیل کا عہد کریں۔

ایسے کئی ممالک ہیں برادر ملک ایران بھی ان میں شامل ہے جہاں پرتشدد واقعات اور قتل وغارت گری کے باوجود الیکشن پروسیس مکمل ہوا اور انتقال اقتدار کا راستہ دہشت گردی کے باعث نہ روکا جاسکا ۔ اپنی ہولناک مگر بد نصیبی پر مبنی اسٹرٹیجی پر عمل درآمد یہ عناصرجس طرح سے کر رہے ہیں اس کا اندازہ گزشتہ روز کے درد ناک واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جس میں بیک وقت کئی مقامات پر بہیمانہ حملے کیے گئے۔ پشاور میں اے این پی کے جلسہ میں خود کش حملے ، بلوچستان کے شہرخضدار میں مسلم لیگ (ن ) کے صوبائی صدر سردار ثنا اللہ خان زہری کے قافلے پر ریموٹ کنٹرول بم حملہ جس میں 19 افراد جاں بحق جب کہ درجنوں زخمی ہوگئے، پشاور میں پی پی پی کے نامزد امیدوار ذوالفقار افغانی کے گھر پر دستی بم سے حملہ جب کہ کوئٹہ میں جے یو آئی ( ف) کے رہنما عبدالرحمان کھیتران راکٹ حملے میں پھر بچ گئے ۔

سیاسی جماعتوں کی انتخابی مہم درہم برہم ہونے اور الیکشن دفاتر پر موجود کارکنوں پر تشدد کے ان گنت واقعات صورتحال کی سنگینی کو واضح کرتے ہیں، اور ملکی سالمیت کے لیے پیدا شدہ خطرات کے حوالے سے ارباب اختیار کو ان عناصر کے خلاف ٹھوس اقدامات کو اب یقینی بنانا چاہیے۔نگراں وفاقی وزیر داخلہ ملک حبیب خان نے کہا ہے کہ سیاسی جماعتوں کے رہنمائوں کو ان کی گریڈنگ کے تحت سیکیورٹی فراہم کی جائے گی، امن وامان کی موجودہ صورت حال کے باوجود انتخابات ہوں گے۔

ادھر الیکشن کمیشن نے کہا کہ اے این پی کی لیڈر شپ کی سیکیورٹی واپس لینے کے لیے کسی قسم کے احکامات جاری نہیں کیے،تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کو وفاقی اورصوبائی نگراں حکومتیں ہر ممکن سیکیورٹی فراہم کریں جب کہ سینیٹ میںمختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان نے امیدواروں کی سیکیورٹی واپس لینے پر احتجاج کرتے ہوئے کہا ہے کہ ریاست کی تمام سیکیورٹی سابقہ فوجی آمرکے لیے استعمال کی جا رہی ہے،جب کہ سیاسی جماعتوں اور سیاسی امیدواروں کو نہتا چھوڑ دیاگیا ۔

حقیقت میں یہ وقت وضاحتوں ، اخباری بیانات اور آپس کی چپقلش اور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کا قطعی نہیں، سامنے چنگیزی اور بے لگام خود سر فورسز ہیں جو ریاستی سیٹ اپ اور انتخابات کے پورے پروسیس کو تلپٹ کرنے کی دھمکیاں دینے کے بعد اب ان پر جس دیدہ دلیری سے عمل کررہی ہیں اس سے عوام میں بالعموم اور سیاسی جماعتوں میں بالخصوص کسی قسم کی سراسیمگی،سنسنی اور خوف و ہراس ہر گز نہیں پھیلنا چاہیے۔مسلم لیگ (ن) بلوچستان کے صدر نواب ثناء اللہ خان زہری پر بم حملے کی ذمے داری کالعدم تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ، ترجمان نے پنجگور میں الیکشن کمیشن کے دفتر پر بم حملہ کی ذمے داری بھی قبول کی۔ حالات ابتر نہیں ہونے چاہئیں ۔

ادھر شمالی وزیرستان ایجنسی میں چیک پوسٹ پرخودکش حملہ کے نتیجے میں4سیکیورٹی اہلکارشہید اور4 زخمی ہوگئے جب کہ اورکزئی ایجنسی میں فورسز اورشدت پسندوں کے درمیان جھڑپوں میں ایک سیکیورٹی اہلکار شہید اور11دہشتگرد مارے گئے ۔کراچی میں قتل وغارت کا سلسلہ ہنوز جاری ہے ۔ضرورت اس امر کی ہے کہ سیکیورٹی مسائل کا جلد حل تلاش کیا جائے اور قانون نافذ کرنے والے ادارے مدافعتی سیکیورٹی کارروائی کے بجائے بے رحمانہ و جارحانہ اسٹرٹیجی اپنائیں اور غارت گر قوتوں کے مذموم عزائم خاک میں ملا دیں۔

اس وقت اولین ترجیح انتخابی امیدواروں کے جلسوں ، قافلوں،کارنر میٹنگز اور پولنگ کے دن ملک گیر سیکیورٹی میکنزم کے اطلاق اور اس کے موثر ہونے کو دی جائے ۔ اس آزمائش میں پورے اترنے کے بعد ہی ملک میں انتخابات کے شفاف اور آزادانہ ہونے کی ایک نئی تاریخ رقم ہوگی۔مختصر یہ کہ سیاست دان، سول سوسائٹی اور سیکیورٹی پر مامور ادارے دہشت گردوںکے اس ظالمانہ چیلنج کو قبول کریں اور دہشت گردوں کو منہ توڑ جواب دیا جائے۔