اے پی ایم ایل کے 21 کارکنوں کا 7روز کا جسمانی ریمانڈ

ملزمان کوہنگامہ آرائی،مقابلے اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا.


Staff Reporter April 21, 2013
ملزمان کوہنگامہ آرائی،مقابلے اور دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کیا گیاتھا۔ فوٹو: وکی پیڈیا/فائل

عدالت نے ہنگامہ آرائی، توڑ پھوڑ ،جلائوگھیرائو، ڈکیتی،پولیس مقابلہ ،اقدام قتل اوردہشت گردی کے الزام میں گرفتار آل پاکستان مسلم لیگ کے کارکنوں کا 7روز کا جسمانی ریمانڈ دیدیا ۔

تھانہ فیروز آباد نے مذکورہ الزامات میں گرفتار سید وصی ، بلال ، احسان میمن ، محمد شاہد ، محسن ، علم الدین ، محمد ایوب ، سید محمد غفران ، خرم ، محمد اقبال ، فواد اور عابد سمیت 21ملزمان کا جسمانی ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج غلام مصطفی میمن کے روبرو پیش کیا تھا، اس موقع پر پولیس نے 14یوم کے جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی تھی ۔

تاہم فاضل عدالت نے 7یوم کے جسمانی ریمانڈ پر پولیس کی تحویل میں دیدیا ہے،قبل ازیں پولیس نے ریمانڈ پیپرکی منظوری کیلیے پبلک پراسیکیوٹر کے آفس سے رجوع کیا تھا لیکن انھوں نے ملزمان کو ماتحت عدالت کے روبرو پیش کرنے کی ہدایت کی تھی اور ریمانڈ پیپر واپس کردیا تھا ، سٹی کورٹ کے متعلقہ وکیل سرکار نے ملزمان کو انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے ریمانڈ حاصل کرنے کیلیے ریمانڈ پیپر منظور نہیں کیے اور واپس بھیج دیا تھا۔



اپنے ریمارکس میں کہا کہ ایف آئی آر میں دہشت گردی ایکٹ کا اندراج ہے ، ملزمان نے سرکاری مداخلت اور کھلم کھلا پولیس سے اسلحہ چھیننے ،ہوائی فائرنگ ،علاقے کے میکنوں اور دکانداروں کو ہراساں کیا ہے ، لہذا ملزمان کا فعل دہشت گردی کے زمرے میں آتا ہے اور واپس دہشت گردی کی خصوصی عدالت سے رجوع کرنے کی سفارش کی تھی ۔

استغاثہ کے مطابق گزشتہ روز مذکورہ کارکنوں نے سابق صدر پرویز مشرف کی گرفتاری کے خلاف طارق روڈ کے اطراف ریلی نکالی تھی اور ہوائی فائرنگ کرکے دکانداروں کو ہراساں کیا تھا، پولیس کی مداخلت پر سرکاری کام میں مداخلت کی تھی ،ملزمان کے خلاف تھانہ فیروزآباد میں مقدمہ درج ہے۔