نئے صوبے کا مطالبہ کرنیوالوں پر لعنت سندھ ایک ہی رہے گا مراد علی شاہ

پانچ سال قبل کراچی میں دہشت کا ماحول تھا،ہم نے شہریوں کوخوف کے ماحول سے باہرنکالا


Staff Reporter May 23, 2018
کالاباغ ڈیم کے حق میں ریلیاں نکالنے والے ہم پرسندھ دوحصوں میں بانٹنے کاالزام لگارہے ہیں،الزام مستردکرتا ہوں،سندھ اسمبلی میں خطاب

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے نئے صوبے کا مطالبہ کرنے والوں پرلعنت بھیج دی کہتے ہیں سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔

پانچ سال قبل شہر میں دہشت کا ماحول تھا، ہم نے کراچی کے شہریوں کوخوف کے ماحول سے باہر نکالا۔سانگھڑ میں کالاباغ ڈیم کے حق میں ریلیاں نکالنے والے ہم پرسندھ کو دو حصوں میں بانٹنے کا الزام لگارہے ہیں میں یہ الزام مسترد کرتا ہوں پورا سندھ میرا ہے، سید مراد علی شاہ کہا کہ سندھ کے عوام نے بار بار پیپلز پارٹی کو منڈیٹ دیا ہے، آئندہ عام انتخابات میں ایک بار پھر منتخب ہوکر سندھ میں حکومت بنائینگے۔

سندھ اسمبلی میں گزشتہ ایک ہفتہ سے جاری بجٹ بحث کو سمیٹتے ہوئے وزیراعلی مراد علی شاہ نے حزب اختلاف خصوصا ایم کیوایم پر سخت تنقید کی، قائد حزب اختلاف انکے حواس پر چھائے رہے بار بار اپوزیشن لیڈر کا ذکر کیا، اپنے ڈھائی گھنٹے طویل خطاب میں وزیراعلیٰ نے کراچی سے لیکرکشمور تک ترقیاتی کاموں کی تفصیلات سے ایوان کو آگاہ کیا اور ان کا کہناتھا کہ پیپلز پارٹی کے پانچ سالہ دور حکومت میں سندھ کے شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں طور پر ترقی ہوئی ہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ہماری کوشش رہی ہے کہ اسمبلی کی قوانین کے تحت چلیں، آئین ہمیں اظہار رائے کا پورا موقع دیتا ہے۔

انھوں نے کہا کہ پنجاب اسمبلی نے 14مئی کو صرف سپلیمنٹری بجٹ پیش کیا، کے پی کے صوبہ کس سمت جا رہا ہے مجھے نہیں پتہ،ہم نے لوگوں کی خدمت کی ہے ، سندھ اسمبلی میں 70 سے زائد ارکان نے بجٹ پراظہارخیال کیا،جوگ کہتے تھے کہ افسردہ ہیں انھوں نے بجٹ پر زیادہ بات کی انھیں جواب بھی ملے گا، مراد علی شاہ نے کہا کہ آج سب باتیں بتاؤں گا، جو لوگ کہتے ہیں کہ افسرہ ہوکر جا رہے ہیں، وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اپنی نااہلی کو کسی اور پر لگانا مناسب نہیں، یہاںآئین کی شق124 کا حوالہ دیا گیا 30 گھنٹے بات کرنا مناسب نہیں، مراد علی شاہ نے کہا کہ پانچ دن بجٹ بحث کے لیے ہوتے ہیں آج آٹھواں دن تھا پھربھی تنقید بند نہیں ہوئی، انشا اللہ آئندہ بھی عوام کی خدمت کاموقع ہمیں ہی ملنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ نگراں حکومت دومہینے کے لیے آرہی ہے، اسے صاف وشفاف الیکشن کرانے ہیں۔ مرادعلی شاہ نے کہا کہ وفاقی سطح پرنیشنل اکنامک کونسل کے اجلاس میں وفاقی بجٹ کی منظوری لی جاتی ہے لیکن کونسل کے اجلاس میں سندھ کے ساتھ زیادتی کی گئی ہیں ۔400 ارب روپے جو ہمیں ملنے چاہیے تھے اس میںسے 150 ارب کی نئی اسکیم کے لیے پیسے دیے گئے، واٹر کیے لیے 27 ارب کی الوکیشن سے 330 ملین روپے دیے گئے، تونائی کے لیے 26 ارب کی مختص کردہ رقم میں سے 125 ملین روپے دیے گئے۔سید مراد علی شاہ نے کہا کہ اپوزیشن اراکین کا زیادہ زور وفاق کو نشانہ بنانا ہے کہ پیسے نہیں دیتی اور ہم کام نہیں کراتے اس پر بھی یہ بات واضح کردوں کہ مارچ میں ایک خط آتا ہے کہ 627 میں سے 580 بلین روپے دیں گے، وفاق کی جانب سے 29 بلین روپے کی کٹوتی کی گئی،اس رقم میں صوبائی کلیکشن199 بلین روپے کا ہے۔

مراد علی شاہ نے کہا کہ رواں سال کے لیے ترقیاتی کیلیے پالیسی بنائی تھی۔وزیراعلیٰ نے کہا کہ 2726 اسکیموںمیں سے 958 اسکیمیں نئے سال میں ختم کریں گے، جو نئے انتخابات میں جیت کر آئیں گے ہم انکو مکمل اسکیمیں دلائیں گے۔انھوں نے کہا کہ کراچی شہر کے لوگوں کو کریڈٹ جاتا ہے جنھوں نے دہشت گردی سے نبردآماد ہوکر جرآت کا مظاہرہ کیا ،امن و امان کے سلسلے میں ہم عوام کو جواب دہ ہیں اور امن کی بحالی کا کریڈٹ عوام پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کو دیتے ہیں ۔مراد علی شاہ نے کہا کہ میں لعنت بھیجتا ہوں الگ صوبہ بنانے والوں پر،سندھ ایک ہے اور ایک ہی رہے گا۔5 سال قبل شہر میں دہشت کا ماحول تھا، یہ پروگرام نہیں ہوسکتے تھے، ہم نے اس خوف کے ماحول سے کراچی کے شہریوں کو باہر نکالا۔ مراد علی شاہ نے اپوزیشن کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوںنے تو سانگھڑ میں کالاباغ ڈیم کے حق میں ریلیاں نکالیں،ہم پر الزام لگایا گیا کہ سندھ کو2 حصوں میں بانٹا گیا، میں یہ الزام مسترد کرتا ہوں پورا سندھ میرا ہے۔

میں آج ترقیاتی کاموں کے حوالے سے آپ کو پورے سندھ کے بارے میں تفصیلات بتاؤں گا۔واٹر کمیشن کا ذکر کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ مجھے چیف جسٹس آف پاکستان نے بلایا، مجھے استثنیٰ تھا لیکن میں گیا، میں نے چیف جسٹس کو اپنی کاوشوں سے آگاہ کیا،چیف جسٹس نے جناح اسپتال کا دورہ کیا، وہاں انعام دے کر آئے، چیف جسٹس نے دوسرے صوبوں کی اسپتالوں کا بھی دورہ کیا، لیکن کسی کو انعام نہیں دیا۔وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سندھ میںزرعی انکم ٹیکس وصول کیا جائے گا، زرعی ٹیکس ہمیشہ سے تھا اور یہ کوئی نیا ٹیکس نہیں۔انھوں نے کہا کہ اس ایوان میں اصولاً قائد حزب اختلاف کو پہلے تقریر کرنا ہوتی ہے تاکہ دیگر اراکین کے لیے گائیڈ لائین بنے تاہم انہوں نے دھواں دھار تقریر کی ضرور کی لیکن ان کی تین گھنٹے کی تقریر میں کام کی بات بہت کم تھی۔ قائد حزب اختلاف نے کہا گزشتہ 5 سال میں 1500 بلین روپے خرچ کیے ہیں جو صریحاً غلط ہے،ہم نے سال 09-2008 سے ابھی تک 833 بلین روپے خرچ کیے ہیں۔ تقریر کے دوران وزیراعلیٰ سندھ نے ہاؤس کی اسکرین پر اسکیموں کی تصاویر دکھائیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کراچی سے شروع ہوکر پورا سندھ کی اسکیمز سے متعلق ایوان کوآگاہ کروں گا۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ جھرک ملاکاتیار پل پورے پاکستان میں طویل ترین پل ہے،جہاںہزار میگاواٹ کی ونڈ ملز آپ کو نظر آئیں گی ۔ سندھ حکومت نے سجاول پل 16 مہینوں میں بنایا۔ ٹنڈو محدم خان تو بدین روڈ ایشین ڈیولپمنٹ بینک کی پارٹنرشپ سے بن رہا ہے ،ضلع عمرکوٹ سے کنری روڈ بھی ایڈی پی اسکیم میں شامل ہے۔ ٹھٹھہ، مکلی، سجاول، ٹھٹھہ شہر کی سڑکیں اسکرین پر دکھائی گئیں۔ انھوں نے ایوان کو بتایا کہ رائس کینال پر لاڑکانہ برج ایک سوا سال میں مکمل کیا۔تقریر کے دوران وزیر اعلیٰ سندھ کی جانب سے ایوان میں نصب اسکرین کی مدد سے سندھ کے مختلف حصوں میں جاری ترقیاتی اسکیموں اور ان پر جاری کام کی رفتار کے بارے میں بھی بریفنگ دی گئی بہت سی اسکیمیں پہلے ہی مکمل ہوچکی ہیں۔

وزیر اعلیٰ نے کہا کہ میں آپ کو تھر لے جاؤں گا اور آپ کو سڑکیں دکھاؤں گا، صوبے میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری ہوئی ہے، جن لوگوں کو علم نہیں وہ پورے صوبے کا دورہ کریں یا انھیں میں خود دورہ کرانے کے لیے تیار ہوں۔انھوں نے کہا کہ اچھڑو تھر جہاں پانی تھا نہ بجلی، ہم نے انکو پانی پہنچایا ہے۔ ہم نے پچھلے5 سال میں بہت کام کیا ہے، اس لیے سیاسی مخالفین کو ہر بار الیکشن میں شکست دی۔ ہم نے سستی بجلی پیدا کی اور اس میں سے کے الیکٹرک کو شیئر جا رہا ہے۔، اس وقت ہم 915 میگاواٹ ونڈ پاور جنریٹ کررہے ہیں، اگر وفاق ساتھ دیتا تو ہم 1000 میگاواٹ مزید بناتے۔وزیراعلیٰ نے ایوان کو بتایا کہ ایک سال میں این آئی سی وی ڈی کے مراکز صوبہ کے تمام شہروں میں قائم کیے۔

بچوں کے اموات سے متعلق وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ کراچی میں کوئی بھی بچہ کسی بھی اسپتال کی 30 منٹ کی مسافت سے دور نہیں۔ پہلے جان بچ جانے کی شرح 15 فیصد تھی اور اب 98 فیصد ہو گئی ہیں، سکھر، حیدرآباد، لاڑکانہ و دیگر شہروں میں یہ بچوں کے اسپیشلائزڈ وارڈز بنواتے جارہے ہیں،ہم نے ریجنل بلڈ سینٹر قائم کیے ہیں،ایسا ایک مرکز گلستان جوہر میں بھی قائم کیا گیاہے۔سید مراد علی شاہ نے اپنے خطاب میں کہا کہ مجھے تنقید کا نشانہ بنایا گیا کہ میں کراچی میں ہی گھومتا ہوں اور چائے پراٹھا کھاتا ہوں، وزیراعلیٰ نے تصاویر دکھائیں جس میں وہ سکھر، ٹنڈو محمد خان، بدین، گھوٹکی، و مٹھی میں عوام کے ساتھ چائے پی رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہم نے کراچی میں بھی بہت کام کیا ہے سب میرین انڈرپاس، ٹیپو سلطان برج، سن سیٹ بولیوارڈ برج سب پر اپنا منصب چھوڑنے سے پہلے اس پل پر گاڑی چلاؤنگا، کینٹ اسٹیشن کی روڈ بناکر شکل تبدیل کردی ،1200 روڈ کورنگی کی تعمیر کردی، :جہانگیر پارک، ڈرگ روڈ انڈرپاس، منزل پمپ فلائی اوور بنایا ہے، شاہراہ فیصل جو شہید بھٹو نے بنایا تھا اب ہم نے اسے پھر سے بنایا ہے۔

جامشورو کا پھاٹک جہاں پر تین یونیورسٹیز ہیں، پل بناکر سب کو سہولت دے رہیں، اب کام ختم ہونے کو ہے، یہ ایک سال میں ہوا ہے، حب رور روڈ کراچی پروجیکٹ بھی رواں سال مکمل ہوا۔انھوں نے کہا کہ 175 بلین ٹن کوئلہ تھر میں موجود ہے،قائم علی شاہ صاحب کے تھر کول مائننگ منصوبے کے لیے بہت بڑی محنت کی، مائی بختاور ایئرپورٹ تھر میں بنایا ہے، سندھ کی پہلی حکومت ہے جس نے ایئرپورٹ بنایا ، یہ شہید بے نظیر بھٹو کا خواب تھا،ہم نے تھر فاؤنڈیشن قائم کی ہے، اس میں سندھ حکومت میجر شیئر ہولڈر ہے، یہ تھر کے عوام کے لیے ویلفیئر کا کام کرے گی۔وزیر اعلیٰ سندھ نے تھر میں سندھ حکومت کی جانب سے بڑے پیمانے پر کئے جانے والے ترقیاتی کاموں کی تفصیل سے بھی ایوان کو آگاہ کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے کہا کہ ایم کیو ایم کے رکن محمد حسین نے کل ایک جملہ کہا تھا کہ ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے۔

میں کہتا ہوں کہ بھائی صاحب! ابھی تو پارٹی ٹوٹ گئی ہے۔ وزیر اعلیٰ نے اپنے خطاب میں کہا کہ ہم نے این ای ڈی، کراچی یونیورسٹی کے وائس چانسلرز میرٹ پر بھرتی کیے ہیں اور انکا ڈومیسائل بھی کراچی کا ہے، مراد علی شاہ نے کہا کہ میں چائنا گیا اور اس کو سی پیک میں شامل کروایا، مراد علی شاہ نے آغا سراج درانی کو مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ بہت سارے سینئر دوست سید قائم علی شاہ، نثار کھوڑو اور دیگر ممبران ہمارے ساتھ تھے، آپ کے والد بھی اسپیکر تھے، میرے والد وزیراعلیٰ سندھ تھے اور آج اسی کرسی پر میں موجود ہوں، اللہ پاک کا کرم ہے، پرانی اسمبلی سے میرا بڑا لگاؤ ہے،وزیراعلیٰ اپنی تقریر میں سندھ کا اسمبلی کے اسٹاف، پی اینڈ ڈی، محکمہ خزانہ کے افسران کا شکریہ ادا کیا۔انھوں نے کہا کہ میںمیڈیا کے دوستوں کا بھی شکر گزار ہوں انھوں نے ہمیشہ میری اچھی کوریج کی ہے، وزیراعلیٰ سندھ نے اسمبلی میں تعینات پولیس کے عملے ، اسمبلی اسٹاف ، محکمہ خزانہ اور پی اینڈ ڈی کے عملے کے لیے اعزازیہ کا بھی اعلان کیا۔وزیر اعلیٰ سندھ نے اپنی تقریر کے اختتام میں میر تقی میر کا یہ شعر بھی پڑھا

اب تو جاتے ہیں میکدے سے میر
پھر ملیں گے اگر خدا لایا

قبل ازیں سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کو بھی حسب روایت سوا گھنٹہ تاخیر سے اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا۔ اجلاس کے آغاز میں اراکین کی تعداد غیر معمولی طور پر کم تھی۔ ایوان میں کراچی میں گرمی کی شدت میں کمی اور باران رحمت کے لیے دعا کی گئی۔ اجلاس میں امریکا میں حملے میں جاں بحق سبیکا شیخ سمیت وفات پا جانے والے سیاسی کارکنان کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔

سندھ اسمبلی نے نئے مالی سال 2018-19 کے لیے 11کھرب،44 ارب 44 کروڑ48 لاکھ روپے کا بجٹ کثرت رائے سے منظورکرلیا جبکہ رواں مالی سال 2017-18 کے لیے مجموعی طور پر ایک کھرب 10 ارب ،65کروڑ ، 32لاکھ، 98 ہزار 8 سو روپے کا ضمنی بجٹ بھی کثرت رائے سے منظورکرلیا اوراپوزیشن کی کٹوتی کی تمام تحاریک مسترد کردی گئیں۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس منگل کوبارہ بج کردس منٹ پرشروع ہوا تلاوت نعت اورفاتحہ کے بعد وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے بجٹ پر بحث کوسمیٹا جس کے بعد ایوان میں رواں مالی سال 2017-18 کے ضمنی بجٹ کی منظوری کا مرحلہ شروع ہوا۔ وزیراعلی سندھ سید مرا دعلی شاہ نے رواں مالی سال 2017-18 کیلیے ایک کھرب 10 ارب، 65 کروڑ ،32 لاکھ، 98 ہزار 8 سو روپے کے مطالبات زرمنظوری کے لیے ایوان میں پیش کیے جس پر اپوزیشن اراکین سمیتا افضال،رعناانصاردیگر کی طرف سے کٹوتی کی 23 تحاریک پیش کی گئیں تاہم ایوان نے اپوزیشن کی تمام کٹوتی کی تحاریک مسترد کرتے ہوئے ضمنی بجٹ کثرت رائے سے منظور کرلیا۔ وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ جوسندھ کے زیرخزانہ بھی ہیں۔

انہوں نے نئے مالی سال 2018-19 کے بجٹ کے حوالے سے 11کھرب،44 ارب 44 کروڑ48 لاکھ روپے کیمطالبات زرایوان میں پیش کیے جبکہ اپوزیشن جماعتوں کے مختلف اراکین کی جانب سے 326 کٹوتی کی تحاریک پیش کی گئیں ایوان نے نئے مالی سال 2018-19 کیلیے 11کھرب،44 ارب 44 کروڑ48 لاکھ روپے کے مطالبات زرکثرت رائے سے منظورکرلیے اوراپوزیشن کی کٹوتی کی تحاریک کومسترد کردیا بعد ازاں اجلاس جمعرات دن ایک بجے تک ملتوی کردیا گیا۔