انتخابات سے قبل امن وامان ناگزیر

قانون نافذکرنے والے اداروں کے مابین رابطے کا فقدان کوئی معمولی چیز نہیں.


Editorial April 23, 2013
نبیل گبول نے کہا کراچی میں انٹرنیشنل دہشت گرد جمع ہوچکے ہیں، اس وقت لیاری دوسرا وزیرستان بن چکاہےنبیل گبول نے کہا کراچی میں انٹرنیشنل دہشت گرد جمع ہوچکے ہیں، اس وقت لیاری دوسرا وزیرستان بن چکاہے. فوٹو: فائل

نگراں وفاقی وزیرداخلہ ملک حبیب نے کہا کہ کراچی میں امن وامان کی مخدوش صورتحال کے حوالے سے وہ کراچی جا رہے ہیں ۔پنجاب بھی جائیں گے، انتخابات کے موقعے پرسیکیورٹی کے انتظامات کوبہتر بنانے کے لیے تمام تر انتظامات کیے جائیں گے۔ رینجرز سمیت دیگرایجنسیوں کے ساتھ مل کر امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کی ہرممکن کوشش کی جائے گی، وہ پیر کو الیکشن کمیشن حکام سے ملاقات کے بعد میڈیا سے گفتگو کر رہے تھے ۔ انھوں نے کہا کہ کراچی سمیت ملک بھر میں 11 مئی اوراس سے پہلے انتخابی مہم کے دوران ملک میں امن وامان کی صورتحال کو بہتر بنانے کے لیے اقدامات کیے جا رہے ہیں ۔

سیکیورٹی کی فراہمی کے حوالے سے جو تحفظات ظاہرکیے گئے ان کودورکیا جائے گا۔ وزیر داخلہ نے انتخابات سے قبل ملک میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے اوردہشت گردی کے یکے بعد دیگرے واقعات سے نمٹنے کے لیے صوبوں کے دورے کا جو عندیہ دیا ہے وہ ناگزیر ہے اوراس سلسلے میں جلد اقدامات کا اعلان ہونا چاہیے، کیونکہ انتخابی مہم ممکنہ دہشت گردانہ حملوں کے خوف سے نہ ہونے کے برابر ہے۔الیکشن سے پہلے پر امن اور ساز گار ماحول پیدا کیے بغیر شفاف انتخابات کا انعقاد خاصا چیلنجنگ ثابت ہوگا ۔ نگراں حکومت پر وقت نے بہت بھاری ذمے داری ڈال دی ہے اور پوری دنیا کی نظریں پاکستان پر مرکوز ہیں جب کہ داخلی امن و امان کی صورتحال کو ابھی بہتربنانے کی اشد ضرورت ہے۔

قانون نافذکرنے والے اداروں کے مابین رابطے کا فقدان کوئی معمولی چیز نہیں، دہشت گرد اسی چیز سے مسلسل فائدہ اٹھا تے اور شہریوں کی جانوں کا خراج لیتے رہے ہیں ۔ یہ بھی اب راز نہیںرہا کہ بعض سر کش مسلح قوتیں ہر حال میں شفاف اور آزادانہ الیکشن کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ نہیں سکتیں بلکہ ان کی حکمت عملی طاقت کے ذریعے قوم کے آزادی اظہار اور آزادی اجتماع سمیت حق رائے دہی کو کچلنا ہے۔ جب ذہنیت،عزائم،ارادے اور تیاریاں اس درجہ وحشیانہ ہوں تو ریاستی اداروں کی طرف سے جواب بھی اتنا ہی سبق آموز ہونا چاہیے ۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن کا یہ بیان بہر حال لمحہ فکریہ اور سخت تشویش ناک ہے کہ امن وامان کے حوالے سے صوبوںکے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے آپس میں رابطے کا فقدان ہے جس کودورکرنے کے لیے حکمت عملی بنانے کے لیے بات ہوئی ہے ، امیدواروں کو سیکیورٹی فراہم کرنے کے لیے الیکشن کمیشن نے ہدایات جاری کی ہیں۔ان ہدایات پر سختی سے عمل ہونا چاہیے ۔ وقت بہت کم رہ گیا ہے جب کہ یہ امر خوش آیند ہے کہ پنجاب کے وزیر داخلہ طارق پرویز کے مطابق آیندہ عام انتخابات کے دوران امن و امان کی فضا قائم رکھنے کے لیے ضلع سے لے کر صوبے کی سطح تک ممکنہ خطرات سے بچاؤ کی کمیٹیاں بنا ئی گئی ہیں جو کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری ایکشن لیں گی۔

انھوں نے بتایا کہ جنوبی پنجاب بلکہ صوبہ بھر میں دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بہترین منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کو مجموعی طور پر تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پہلے حصے میں مستقبل میں دہشت گردی کے واقعات سے نمٹنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنا' دوسرے حصے میں مختلف اہم اہداف کی حفاظت کو یقینی بنانا جب کہ تیسرے حصہ میں کسی بھی ہنگامی صورتحال یا حادثہ کی صورت میں ہنگامی حکمت عملی اختیار کر نا شامل ہے۔

یہی اقدامات دیگر صوبوں میں بھی ہونے چاہئیں تاکہ جن دہشت گردوں اور خصوصاً تحریک طالبان پاکستان نے انتخابی امیدواروں کو جس کھلے انداز میں دھمکیاں دی ہیں اور ان کے عملی مظاہرے نظربھی آرہے ہیں اس کا راستہ روکا جاسکے اور انھیں ریاستی اداروں اور قانون نافذ کرنے والوں کی غضبناکی کا سامنا بھی ہو۔جرائم پیشہ عناصر اور دہشت گردی میں ملوث تنظیموں کو عبرت ناک سبق نہ پڑھایا گیا تو سیکیورٹی کی ابتر صورتحال کے تدارک میں مزید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑیگا۔ کراچی ، خیبر اور بلوچستان میں دہشت گردی کے خطرات منڈلا رہے ہیں۔ پنجاب اور دیگر علاقوں کو بھی سخت سیکیورٹی کی ضرورت ہے۔

امیدواروں کو اپنی انتخابی مہم قطعی آزادی سے چلانے کی مکمل سہولتیں مہیا کی جانی چاہئیں اور ان پر ممکنہ حملوں سے بچائو اور حملہ آوروں کی گرفتاری کو یقینی بنانے کے لیے ریاستی طاقت کا نتیجہ خیز استعمال ہی مناسب آپشن ہے۔ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی میں فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ نے شدت اختیار کرلی ہے ، بدامنی کے مزید واقعات میں11افراد ہلاک ہوگئے ۔حالات کی سنگینی اور بدامنی کے عروج کا ایسا دہشت ناک منظر نامہ ہے کہ ایم کیوایم کے رہنما اورلیاری سے قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 248 سے امیدوار سابق وزیرمملکت نبیل گبول نے لیاری میںفوج کی نگرانی میں انتخابات کرانے کے لیے چیف الیکشن کمشنرکو درخواست دی ہے اور کہا ہے کہ فوج کی نگرانی میں لیاری میںانتخابات نہ کرائے گئے توایم کیو ایم لیاری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرسکتی ہے۔

نبیل گبول نے کہا کراچی میں انٹرنیشنل دہشت گرد جمع ہوچکے ہیں، اس وقت لیاری دوسرا وزیرستان بن چکاہے۔ ایک معاصر انگریزی اخبار نے گزشتہ چھ ماہ میں تیار کردہ اپنی ایک رپورٹ میں طالبان کی کراچی میں موجودگی اور ان کے عزائم اور پیداشدہ خطرات کے حوالہ سے جوانکشافات کیے ہیں وہ سنجیدہ غور وفکر کے حامل ہیں۔ کراچی میں بیروت بننے کا ہر وہ امکان پیدا ہورہا ہے جو ملکی سالمیت کے لیے انتہائی خطرناک ہے۔ادھرکوئٹہ اوراندرون صوبہ فائرنگ اور ٹارگٹ کلنگ کے واقعات میں حساس ادارے کے انسپکٹر اورمحکمہ بی اینڈ آر کے انجینئر سمیت 3افراد جاں بحق ہوگئے بم دھماکے میں 2لیویز اہلکاروں سمیت پانچ افراد زخمی ہوگئے۔

بی این پی عوامی کے مرکزی سیکریٹری جنرل میر اسد اﷲ بلوچ ریموٹ کنٹرول بم دھماکے میں محفوظ رہے ،بجلی کے دو ٹاورز کو دھماکا خیز مواد سے اڑادیاگیا ، کلی شابو میں نامعلوم افراد کی فائرنگ سے آزاد خان جاں بحق ہوگیا ،پی ایس سجاول جونیجو کی حدود میں واقع گائوں بیلا ڈھانی میں ایک گھر میں دھماکا خیز موادپھٹنے سے 3 بچے جاں بحق اور 2 خواتین شدید زخمی ہوگئیں۔ ڈی آئی جی لاڑکانہنے میڈیاکوبتایا کہ گھر کا مالک قاسم ڈھانی دہشت گردی کی وارداتوں میں ملوث ہے جس نے گھر میں بارودی مواد چھپا رکھا تھا جو پھٹ گیا، گھر بھی مکمل طور پر تباہ ہوگیا ہے جب کہ ایس ایس پی فیض اللہ کا کہنا تھا کہ دھماکا نہیں ہوا بلکہ 3موٹرسائیکلوں پرسوار7افراد نے راکٹ لانچرفائرکیا جس سے بچوں کی ہلاکتیں ہوئیں ان کے بقول واقعہ ڈاہانی برادری کے دیرینہ تنازع کا نتیجہ ہے۔

تمپ سے لاپتہ نوجوان کی گولیوں سے چھلنی لاش مرگاپ سے برآمد، مقتول اکبر مسنگ پرسن میں شامل تھا ۔ مانیری پایاں صوابی میں اے این پی کے انتخابی کیمپ پرنامعلوم افراد نے دستی بم پھینکے جسکے نتیجے میں ایک کارکن زخمی ہوگیا ۔ ان سارے واقعات کا تانابانا ملا کر دیکھا جائے تو دہشتگردوںکی موثر ، ہولناک اور ظالمانہ نیٹ ورکنگ کے کثیر جہتی میکنزم کی مستعدی سامنے آتی ہے۔وہ خود کش بمبار اور بک دھماکوںسے ریاستی رٹ کو چیلنج کررہے ہیں۔اس لیے ضرورت ایسے ہی ہوش ربا اقدامات اوردہشت گردی و تخریب کاری مخالف پالیسی اور آہنی ہاتھوں والی حکمت عملی کی ہے جس میں فوج، پولیس، رینجرز، لیویز اور ایف سی کے اہلکار امن وامان کی بحالی کا کارنامہ انجام دے سکیں۔