بنیادی حقوق کے معاملے میںہم بھارت سے آگے ہیںچیف جسٹس

پارلیمنٹ نے بیداری کامظاہرہ کیا،اللہ کاشکرہے نظام چل پڑا،اثاثے نیلامی کیس میںریمارکس


پارلیمنٹ نے بیداری کامظاہرہ کیا،اللہ کاشکرہے نظام چل پڑا،اثاثے نیلامی کیس میںریمارکس فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہا ہے بنیادی انسانی حقوق کے تحفظ کیلیے ہماری پارلیمنٹ نے زیادہ بیداری کامظاہرہ کیا ہے، یہی وجہ ہے کہ آج بنیادی حقوق کے تحفظ کے معاملے پر ہم بھارت سے دو قدم آگے چلے گئے ہیں۔

یہ ریمارکس انھوں نے مالیاتی اداروں سے قرضے لینے اور ضمانت میں رکھے گئے اثاثوںکی نیلامی کے بارے میںایک مقدمے کی سماعت کے دوران دیے۔درخواست گزارکے وکیل اکرم شیخ کی ایک دلیل پرچیف جسٹس نے کہا ملزم کے خلاف غیرجانبدارکارروائی اور شفاف ٹرائل کوبنیادی حق تسلیم کیا گیا ہے،پاکستان کے آئین میں آرٹیکل 10اے 19اے کی مثال دنیا کے کسی اورملک کے آئین میں نہیں،انھوںنے کہاآرٹیکل25اے میںتعلیم کوہرشہری کا لازمی حق قرار دیا گیا ہے، بھارت میںاس سے ملتاجلتاآرٹیکل ہے لیکن بنیادی حقوق کے معاملے پر ہم بھارت سے دو قدم آگے چلے گئے ہیں،اللہ کا شکرہے نظام چل پڑاہے اورہم ایک فلاحی ریاست کی تشکیل کیطرف گامزن ہوگئے ہیں۔



چیف جسٹس نے کہا پارلیمنٹ نے باقی معاملات کی نسبت بنیادی حقوق کے معاملے پر زیادہ بیداری کا مظاہرہ کیا ہے۔فاضل بینچ نے عراق کویت جنگ کے متاثرین کیلیے اقوام متحدہ کی مالی امداد پر سروس چارجزکی وصولی کے بارے میں او پی ایف سے رپورٹ طلب کر لی۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیے متاثرین تک امداد پہنچانا او پی ایف کی ذمہ داری تھی اس خد مت کے عوض الگ سے سروس چارج کی وصولی فراڈ ہے، یہ معاملہ انکوائری کیلئے نیب کے بھی حوالہ کیا جا سکتا ہے جبکہ ملوث افرادکو قانون کے حوالے کر دیا جائے گا۔او پی ایف کے وکیل نے بتایا کہ اقوام متحدہ کی امداد سے ایک اعشاریہ پانچ فیصدکی شرح سے سروس چارج وصول کیا گیا جس کی مجموعی مالیت 26کروڑ روپے ہے اس میں سے بیس کروڑ متاثرین کو واپس کر دیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا اس وقت او پی ایف کے پاس متاثرین میں تقسیم کرنے کیلئے76کروڑ روپے موجود ہیں۔چیف جسٹس نے کہا رقم اپنے پاس رکھنا غیر قانونی تھا اس پر منافع بھی حاصل کیا گیا ہوگا، کیس کی مزید سماعت ایک مہینے بعد ہوگی۔