پارکوں و میدانوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف تحقیقات کا حکم

چیف سیکریٹری قبضوں میں ملوث سرکاری افسران کیخلاف رپورٹ تیارکریں۔


Staff Reporter June 15, 2018
شاہراہوں پرایک بہتر پارک نہیں،ملک دعائوں سے چلتے توافغانستان،عراق،شام کایہ حال نہ ہوتا،سپریم کورٹ۔ فوٹو : فائل

NEW YORK: سپریم کورٹ نے شہر کے پارکوں اورکھیل کے میدانوں پر قبضے سے متعلق سابق سٹی ناظم نعمت اللہ خان کی توہین عدالت کی درخواست پر پارکوں،کھیل کے میدانوں پر قبضے کرنے اور معاونت کرنے والوں کے خلاف انکوائری کاحکم دے دیا۔

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس گلزار احمد کی سربراہی میں بینچ نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ کو قبضہ مافیا کے خلاف انکوائری کرنے کی ہدایت کردی،عدالت نے قبضوں میں معاونت کے ذمے دار سرکاری افسران کے خلاف چیف سیکریٹری کو تحقیقات کا حکم دے دیا، عدالت نے چیف سیکریٹری اور ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے ایک ماہ میں رپورٹ طلب کرلی۔

عدالت نے حکم دیا کہ ایک ایک رفاعی پلاٹ کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کی جائے ، پارکوں پر قائم قبضے ختم نہ کرانے پر عدالت نے شدید برہمی کا اظہار کیا ، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ پورا کراچی کچی آبادی کا منظر پیش کر رہا ہے 90 فیصد کراچی کو تباہ کردیا گیا ہے، عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سے مکالمہ کیا کہ کراچی پر ڈھائی سو ارب خرچ کیے،کہاں خرچ ہوئے ؟حساب لینے والا یا حساب دینا والا کوئی ہے۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ جو حساب لینے والے ہیں وہ اپنا حساب بنا رہے ہیں،جسٹس گلزار احمد کا کہنا تھا کہ یہ ملک صرف دعاؤں سے نہیں چل سکتا ، کچھ کرنا ہوگا ، اگر صرف دعاؤں سے چلنا ہوتا تو افغانستان، عراق اور شام کا یہ حال نہ ہوتا ، عدالت نے کہا کہ خدا کے لیے قدرت سے مت چھیڑ چھاڑ کریں۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کراچی والے کیسے زندگی گزار رہے ہیں ، جسٹس گلزار احمد اس خوبصورت شہر کو عمارتوں کا شہر بنا دیا گیا ، عدالت نے ریمارکس دیے کہ ایک وقت تھا ایک انچ زمین پر قبضہ ہوتا تو فوری کارروائی ہوتی تھی،جسٹس گلزار احمد اب تو پارکوں،فلاحی پلاٹوں اورنالوں کی جگہ پر عمارتیں بنا دی گئیں ہیں جس کا دل چاہتا ہے وہاں مال دے کر بلڈنگ بنا دیتا ہے، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اس شہر میں کوئی پوچھنے والا نہیں جس طرح عمارتیں بنائی جا رہی ہیں ، شہر تباہ ہو جائے گا ، شاہراہ فیصل پر دو عمارتوں کے سوا سب کچرا عمارتیں بنائی گئیں۔

عدالت نے ایڈووکیٹ جنرل سندھ سے مکالمہ کیا کہ 10سال آپ کی حکومت نے کیا کیا، باتھ آئی لینڈ پر مائی کلاچی روڈ بنا کر تباہ کردیا ،جسٹس گلزار احمد کچھ سمجھ نہیں آرہا اسے ٹھیک کون کرے گا ، 2010 سے کیس چل رہا ہے ایک فیصد بھی پیش رفت نہیں ، یورپ جائیں دیکھیں لوگ کیسے اپنے آثار قدیمہ کی حفاظت کرتے ہیں، یورپ کی چھوٹی گلیوں میں گاڑیوں کے بجائے آج بھی سائیکل کا استعمال ہوتا ہے۔ آپ نے برنس روڈ کی خوبصورتی کو تباہ کر دیا ،آثار قدیمہ کے پاس اربوں روپے پڑے ہیں، کون حساب لےْ۔

جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ ایک ایک رفاعی پلاٹ کی نشاندہی کرکے آپریشن کرنا ہوگا ، عدالت شہر کی بڑی شاہراہوں پر ایک بہتر پارک نہیں،جسٹس گلزار احمد دنیا کے اتنے بڑے شہر کے ساتھ کیا سلوک کر رہے ہیں، جسٹس گلزار احمد نے کہا کہ اپنے شہریوں کے لیے کچھ کرنا نہیں چاہتے۔

جسٹس گلزار احمد شاہراہ فیصل پر ہر طرف دیواریں کھڑی ہو رہی ہیں ،جسٹس گلزار احمد پوری شاہراہ فیصل سے ٹرین چلتی ہوئی نظر آتی تھی، جسٹس گلزار احمد ریلوے کے ساتھ ساتھ شاہراہ فیصل پر کون دیواریں بنا رہا ہے،جسٹس گلزار احمد نے حکم دیا کہ تحفظات نوٹ کریں اور سنجیدگی سے ایکشن لیں اور بلڈوزر چلا کر قبضے ختم کرائیں ۔