کالعدم ٹی ٹی پی سربراہ ملا فضل اللہ امریکی ڈرون حملے میں ہلاک، افغان حکام کی تصدیق

ویب ڈیسک  جمعـء 15 جون 2018
کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی فوٹو: فائل

کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی فوٹو: فائل

کابل: افغان وزارتِ دفاع نے امریکی ڈرون حملے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کردی ہے۔

برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق افغان وزارت دفاع کے حکام نے صوبہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے کے نتیجے میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق کر دی ہے۔

ڈرون حملے میں 5 افراد ہلاک 

بی بی سی نے پاکستانی حکام کے حوالے سے بتایا ہے کہ ملا فضل اللہ نے13 جون کو افغان صوبہ کنّڑ کے ضلع مروارہ میں ایک افطار میں شرکت کی، جس کے بعد رات دس بج کر 45 منٹ پر جب وہ اپنی گاڑی میں بیٹھا تو اس پر ڈرون حملہ ہوا۔ اس وقت اس کے ہمراہ 3 دیگر ساتھی بھی موجود تھے۔ حملے میں 5 افراد ہلاک ہوئے جن کی سوختہ لاشوں کو اسی رات سپردِ خاک کر دیا گیا۔ تاہم کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے تاحال ملا فضل اللہ کی ہلاکت کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔

امریکی فوج کے ترجمان نے حملے کی تصدیق کی 

واضح رہے کہ افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ترجمان لیفٹینٹ کرنل مارٹن اوڈونل نے گزشتہ روز بیان جاری کیا تھا جس میں کہا گیا کہ 13 اور 14 جون کی شب امریکی فوج نے پاک افغان سرحدی علاقے میں انسدادِ دہشت گردی کی ایک کارروائی کی جس کا ہدف دہشت گرد قرار دی گئی ایک تنظیم کا سینیئر رہنما تھا۔

افغان صدر کا ملا فضل اللہ کی ہلاکت پر آرمی چیف سے رابطہ

دوسری جانب افغانستان کے صدر اشرف غنی نے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو ٹیلی فون کیا اور انہیں کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ ملا فضل اللہ کی صوبہ کنٹر میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت سے آگاہ کیا۔ ترجمان پاک فوج کے مطابق ٹی ٹی پی کمانڈر کی ہلاکت مثبت پیش رفت ہے، ملافضل اللہ 2009 سے افغانستان فرار ہوگیا تھا اور وہی چھپا ہوا تھا جب کہ ملا فضل اللہ پاکستان میں آرمی پبلک اسکول سمیت دیگر کئی دہشت گرد حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

ملا فضل اللہ کون ہے ؟

1974 میں سوات میں پیدا ہونے والے ملا فضل اللہ نے انٹرمیڈیٹ تک تعلیم حاصل کی تھی۔ ملا فضل اللہ کو 2005 اور 2006 میں  غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے نشر کئے جانے والے بیانات کی وجہ سے سوات کے لوگوں میں کافی مقبولیت حاصل ہوئی۔

2009 میں ریاست کی رٹ کو چیلنج کرنے پر سوات میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا۔ آپریشن کے دوران ملا فضل اللہ روپوش ہوگیا۔ ملا فضل اللہ کو 2013 میں حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کا سربراہ چنا گیا، اس نے پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی جس میں اسکول کے 132 بچوں سمیت 148 افراد شہید ہوگئے تھے۔ رواں برس مارچ میں امریکا نے ملا فضل اللہ کی اطلاع دینے پر 50 لاکھ ڈالر انعام کا اعلان کیا تھا۔ ملا فضل اللہ کی کئی مرتبہ ہلاکت کی اطلاعات سامنے آچکی ہیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔