چوہدری نثار اور علی نواز شاہ ایک کشتی کے دو سوار

ن لیگ کے چوہدری نثار اور پی پی کے علی نواز شاہ کا مشترکہ قصور یہی ہے کہ انہوں نے پارٹی قیادت سے اختلاف کیا


فرحان منہاج July 07, 2018
چوہدری نثار اور علی نواز شاہ، دونوں کو پارٹی قیادت سے اختلاف کی سزا دی گئی ہے۔ (فوٹو: فائل)

پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنما چوہدری نثار علی خان تین دہائیوں سے ن لیگ کے صف اول کے رہنماؤں میں شمار کیے جاتے رہے ہیں۔ چوہدری نثار جو نون لیگ کی حکومت میں وزیر داخلہ تھے، آج کل اپنی ہی پارٹی کے ہاتھوں رسوا ہورہے ہیں۔ انہیں اس الیکشن میں ٹکٹ نہیں دیا گیا بلکہ ان کے مقابلے میں دوسرے امیدوار کو ٹکٹ جاری کردیا گیا ہے۔ چوہدری نثار کا قصور یہ ہے کہ وہ پارٹی کے سربراہ نوازشریف سے بعض معاملات میں مختلف رائے اور اعتراض رکھتے ہیں جبکہ وہ نوازشریف کی بیٹی مریم نواز کی پارٹی کے معاملات میں دخل اندازی پر کھلم کھلا سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ اس جرم کی پاداش میں انہیں تین دہائیوں کی وفادرای کے تحفے کے طور پر رسوا کرکے اور انہیں ٹکٹ جاری نہ کرکے انعام دیا گیا، بلکہ کئی مواقع پر ان کے خلاف باقاعدہ مہم جوئی بھی کی گئی اور انہیں پارٹی کا غدار تک کہا جارہا ہے۔

سید علی نواز شاہ پاکستان پیپلزپارٹی کے صوبہ سندھ کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک بڑا نام ہیں۔ آپ پی پی کے دور حکومت میں صوبائی وزیر بھی رہے۔ آپ کا شمار محترمہ بے نظیر بھٹو کے قریبی ساتھیوں میں بھی ہوتا ہے۔ آپ ضلع میرپورخاص کے صوبائی حلقے میں پی پی کے ٹکٹ پر رکن صوبائی اسمبلی منتخب ہوتے تھے۔ لیکن سید علی نواز شاہ کو پارٹی میٹنگ میں شریک چیئرمین آصف علی زردادی کی بہن فریال تالپور سے اختلاف رائے اور ان کی پارٹی کی تنظیم سازی میں مداخلت پر سوال اٹھانے پر یہ سزا دی گئی کہ ان کے مقابلے میں ان کے بھانجے کو، جو 2013 کا الیکشن پی پی مخالف لڑے تھے اور دو سال پہلے ہی پی پی میں شامل ہوئے تھے، ٹکٹ دے دیا گیا ہے۔ اس طرح سید علی نواز شاہ کو بھی تین دہائیوں پر محیط وفاداری کا یہ تحفہ دیا گیا۔

یہ ہے پاکستان کی دو بڑی جمہوری جماعتوں سے دو مثالیں جہاں پارٹی کے اندر پارٹی سربراہ کے خاندان کے کسی فرد کی مداخلت پر اعتراض کرنے پر ان کی خدمات اور وفاداری تک کو پس پشت ڈال دیا جاتا ہے اور ان کو رسوا کردیا جاتا ہے۔

اتنا کچھ ہونے کے باوجود یہ دونوں سینئر رہنما اپنی پارٹی کے خلاف کچھ نہیں بول رہے بلکہ آزاد حیثیت میں اپنا مقدمہ عوام کی عدالت میں لے گئے ہیں۔ پاکستان میں جمہوریت کس شکل میں نافذ ہے؟ آپ کو اِن دونوں صاحبان کے حالات جان کر اس بات کا بخوبی اندازہ ہوگیا ہوگا۔

جمہوریت کے نام پر موروثیت پرست سیاست کے یہ دونوں شکار اگرچہ ماضی کی دو حریف و مخالف جماعتوں سے ہیں لیکن وقت اور حالات نے ان دونوں کو ایک ہی کشتی کا سوار بنا دیا ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔