خفیہ فنڈ مطمئن نہ ہوئے تو1997سے ریکارڈ طلب کرینگے سپریم کورٹ

اٹارنی جنرل بتائیں حکومت کس قانون کے تحت معلومات عوام کو دینے کی پابند نہیں، جسٹس جواد ایس خواجہ


Numainda Express May 03, 2013
اٹارنی جنرل بتائیں حکومت کس قانون کے تحت معلومات عوام کو دینے کی پابند نہیں، جسٹس جواد ایس خواجہ۔ فوٹو: فائل

KHANEWAL: سپریم کورٹ نے صحافیوں کی بہبود کے نام پروزارت اطلاعات کے خفیہ فنڈ کے استعمال سے متعلق کیس کی سماعت کرتے ہوئے اٹارنی جنرل کو ہدایت کی ہے کہ وہ عدالت کو آئندہ سماعت پر بتائیں کہ وزارت کس قاعدے، قانون یا آئین کے تحت فنڈکے استعمال سے متعلق معلومات کو خفیہ رکھنے کی استدعا کر رہی ہے۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ اگر اٹارنی جنرل عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو عدالت1997سے خفیہ فنڈکے استعمال سے متعلق ریکارڈ طلب کر ے گی۔ جمعرات کو 3 رکنی بینچ کی سربراہی کرتے ہوئے جسٹس جواد نے اٹارنی جنرل سے استفسارکیا کہ عدالت کو بتایا جائے کہ حکومت کس قانون کے تحت کہہ رہی ہے کہ عوام کا جوپیسہ خرچ کیا گیا اس کی معلومات عوام کو دینے کی پابند نہیں ہے۔ جسٹس خلجی عارف حسین نے کہا کہ آپ عدالت کی معاونت کریںکہ کس قانون کے تحت خفیہ فنڈکے استعمال سے متعلق معلومات کو عام نہ کریں۔اٹارنی جنرل نے کہا کہ حکومت پاکستان کو جنرل فنانشل رولز انڈیا ایکٹ 1782کے تحت یہ اختیار حاصل ہے۔



جسٹس جواد نے ان سے پوچھا کہ'' جے ایف آر ''کو حکومت نے کس تاریخ سے اختیارکیا ہوا ہے۔ اٹارنی جنرل نے کہا کہ فی الحال وہ اس کا جواب نہیں دے سکتے تاہم انھیں ایک سوالنامہ بنا کر دیا جائے اور وہ آئندہ تاریخ پر اس حوالے سے مفصل جواب پیش کریںگے۔ایک درخواست گزارکی وکیل عاصمہ جہانگیر نے عدالت سے استدعا کی کہ فاضل عدالت 1997سے خفیہ فنڈ سے متعلق ریکارڈ طلب کرے تو جسٹس جواد نے کہا کہ سب سے پہلے اٹارنی جنرل کا جواب آنے دیں، اگر وہ عدالت کو مطمئن نہ کر سکے تو ایسا ہی کریںگے ۔عدالت نے سماعت 6 مئی تک ملتوی کردی۔