انتخابات اور امن و امان کی اہمیت

امن و امان کی مخدوش صورتحال تشویشناک ہے جو شفاف انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔


Editorial May 03, 2013
عام انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے 70 ہزار فوجی جوان خدمات انجام دیں گے جن کی تعیناتی پورے ملک میں5 مئی تک مکمل ہو جائے گی۔ فوٹو: فائل

چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخر الدین جی ابراہیم کی سربراہی میں جمعرات کو اسلام آباد میں ایک اہم اجلاس منعقد ہوا۔ اس اہم اجلاس میں سیکیورٹی کی موجودہ صورتحال' بیلٹ پیپرز کی ترسیل اور انتخابی عمل کا جائزہ لیا گیا۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے چیف الیکشن کمشنر فخر الدین جی ابراہیم نے کہا کہ صاف اور شفاف انتخابات کے لیے تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں' البتہ امن و امان کی مخدوش صورتحال تشویشناک ہے جو شفاف انتخابات کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔ لہٰذا حکومت کو امن و امان کی ذمے داری سے عہدہ برآ ہونا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انحصار امن و امان کی صورتحال پر ہے لہٰذا یہ حکومت کی ذمے داری ہے کہ امن و امان کی بہتر صورتحال فراہم کرے تا کہ ہم صاف، شفاف، آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کا انعقاد کرا سکیں۔


ادھر پاک فوج کے ترجمان کے حوالے سے اخبارات میں یہ خبر شایع ہوئی ہے کہ عام انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے پاک فوج کے ستر ہزار جوان سیکیورٹی کی خدمات انجام دیں گے۔ یہ حقیقت عام فہم ہے کہ انتخابات کے کما حقہ انعقاد کے لیے امن و امان کا برقرار ہونا لازم ہے۔

ملک کی مجموعی فضا پرامن ہوگی، تب ہی ووٹر گھروں سے نکل کر پولنگ اسٹیشن جائے گا اور اپنا ووٹ کاسٹ کرے گا بصورت دیگر انتخابی عمل میں دھاندلی کا شامل ہو جانا بعید از قیاس قرار نہیں دیا جا سکتا کیونکہ بدامنی اور افراتفری میں جرائم پیشہ عناصر اور دہشتگرد اپنے ایجنڈے پر عمل کرکے انتخابی نتائج کو مشکوک بنا سکتے ہیں۔ ادھر سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے کے حوالے سے اخبارات نے بتایا ہے کہ ملک بھر میں پولنگ اسکیم کو حتمی شکل دیدی گئی ہے۔

انھوں نے یہ اعلان بھی کیا کہ انتخابات والے دن موبائل سروس بند نہیں ہو گی۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ الیکشن کمیشن پوری توجہ سے اپنا کام کررہا ہے اور الیکشن کی تیاریاں عروج پر ہیں۔الیکشن کے ایام میں موبائل فون سروس بحال رکھنا اچھا فیصلہ ہے، یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ سابقہ وزیر داخلہ ہر موقع پر موبائل فون سروس بند کرنے کا حکم دے کر عوام کی برداشت کا امتحان لیا کرتے تھے۔موبائل فون سروس بند کرنے سے عوام کو بہت زیادہ مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔

سیکریٹری الیکشن کمیشن نے مزید بتایا کہ پولنگ اسٹیشنوں کی معلومات کے لیے 6 مئی کی صبح سے موبائل فون کے ذریعے 8300 پر ایس ایم ایس کیا جا سکتا ہے۔ ادھر الیکشن کمیشن نے ملک بھر میں قائم ہونے والے 69 ہزار 875 پولنگ اسٹیشنوں میں سے 32 ہزار 360 کو حساس قرار دیدیا ہے۔ ان میں سے 19ہزار 644 حساس جب کہ 12ہزار 716 پولنگ اسٹیشن انتہائی حساس قرار دیے گئے ہیں۔ تاہم 37 ہزار 515 پولنگ اسٹیشنز کو نارمل قرار دیا گیا ہے۔ الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب کے 4 ہزار 463، سندھ میں 4ہزار 176، خیبر پختونخوا میں 2 ہزار 142، بلوچستان میں ایک ہزار 783 جب کہ وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں 134پولنگ اسٹیشن حساس ترین قرار دیے گئے ہیں۔

عام انتخابات میں سیکیورٹی کے لیے 70 ہزار فوجی جوان خدمات انجام دیں گے جن کی تعیناتی پورے ملک میں5 مئی تک مکمل ہو جائے گی۔ بلوچستان کے زیادہ تر علاقوں میں یہ تعیناتی مکمل کر لی گئی ہے۔ خیبر پختونخوا میں دو دن میں تعیناتی کا عمل مکمل ہو جائے گا، کراچی سمیت سندھ اور پنجاب میں بھی جمعہ سے تعیناتی شروع ہوگئی۔ بلاشبہ اس وقت ملک میں امن و امان کی صورتحال خاصی مخدوش ہے' خصوصاً خیبر پختونخوا کے بعض حصوں' کراچی اور بلوچستان میں الیکشن لڑنے والے امیدواروں پر حملے ہو رہے ہیں۔

گزشتہ روز کراچی میں عوامی نیشنل پارٹی کے قومی اسمبلی کے حلقہ 254کے امیدوار صادق زمان خٹک کو ان کے کمسن بیٹے کے ہمراہ قتل کر دیا گیا۔ اس حلقے میں انتخابات روک دیے گئے ہیں۔ یہ انتہائی ظالمانہ واردات ہے ، جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ان حالات میں چیف الیکشن کمشنر کا یہ کہنا درست ہے کہ صاف اور شفاف انتخابات کا انحصار امن و امان کی صورتحال پر ہے' حکومتی مشینری اس حوالے سے اپنی بساط کے مطابق کوششیں کر رہی ہے۔

پاک فوج بھی عام انتخابات کو پرامن بنانے کے لیے اپنا کردار ادا کرے گی لیکن اس کے باوجود خطرات موجود ہیں' پیپلز پارٹی' ایم کیو ایم اور اے این پی تو برملا کہہ رہی ہیں کہ ان کے امیدواروں پر حملے ہو رہے ہیں جب کہ دائیں بازو کی جماعتوں کو الیکشن مہم چلانے کی کھلی آزادی ہے' یہ صورت حال یقینی طور پر تشویشناک ہے۔ سامنے کی صورت حال یہی نظر آتی ہے کہ لبرل جماعتوں کے امیدواروں پر حملے ہو رہے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان ایسے حملوں کی دھمکی دے چکی ہے۔ مسلم لیگ ن' تحریک انصاف' جے یو آئی' جماعت اسلامی کو اس حوالے سے دو ٹوک موقف اختیار کرنا چاہیے۔

انھیں دہشت گردوں کی کھل کر مذمت کرنی چاہیے۔ دہشت گرد کسی کے دوست نہیں ہیں' وہ چند جماعتوں کو نشانہ بنا کر اور دوسروں کو رعایت دے کر ملک میں سیاسی دشمنی کی لکیر کھینچنا چاہتے ہیں' اس چال کو ہر حال میں ناکام بنایا جانا چاہیے۔ بلوچستان کی صورتحال سب کے سامنے ہے' وہاں جو عناصر سرگرم عمل ہیں' ان کے بارے میں مقتدر حلقوں کو بخوبی پتہ ہے' یوں دیکھا جائے تو ملک میں ایک جانب کالعدم تحریک طالبان اور اس کی حامی مسلح تنظیمیں سرگرم عمل ہیں تو دوسری جانب بلوچستان میں علیحدگی پسند قوتیں محب وطن لوگوں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔

یہ خطرات نئے نہیں ہیں' خاصے عرصے سے وطن عزیز ان کا سامنا کر رہا ہے۔پاکستان سے انتہا پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ اسی وقت ہوسکتا ہے جب سیاسی جماعتیں اپنے گروہی مفادات کو پس پشت ڈال کر قومی سلامتی کو مقدم رکھیں۔

نسلی، لسانی یا صوبائی سیاست قوم میں تفریق پیدا کرتی ہے جس کا فائدہ انتہا پسند اٹھاتے ہیں۔ پانچ سال کے جمہوری دور میں سیاسی جماعتیں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے ایشو پر تقسیم رہیں اور اس کا نتیجہ یہ ہے کہ دہشت گرد کھل کر سیاسی جماعتوں کو نشانہ بنا کر عام انتخابات کے نتائج کو مشکوک بنانے کے مشن پر کاربند ہیں۔ان کا ایجنڈا بھی یہی ہے کہ وہ قوم کو تقسیم کردیں۔ بہر حال حالات خواہ کیسے ہی کیوں نہ ہوں' عام انتخابات کا وقت پر انعقاد انتہائی ضروری ہے' اسی طریقے سے ہی جمہوریت دشمنوں کے عزائم کو ناکام بنایا جا سکتا ہے۔