قوم کو خوشخبری ملنی چاہیے

جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال اکبربگٹی نے قومی اسمبلی کے 2حلقوں سے احتجاجاً الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔


Editorial May 09, 2013
الیکشن کمیشن نے 8کروڑ 61لاکھ ووٹرز کوہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا راز فاش کرنے پر آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔ فوٹو: فائل

11 مئی کوہونے والے عام انتخابات کی انتخابی مہم ختم ہوگئی جس کے بعد اب کوئی بھی امیدوارجلسہ، جلوس،کارنر میٹنگ نہیں کرسکے گا۔الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری شیڈول کے مطابق انتخابات سے 48گھنٹے قبل انتخابی مہم ختم کرنا لازمی ہے۔9 مئی رات بارہ بجے کے بعد کسی بھی چینل یا اخبارات میں سیاسی جماعتوں کے اشتہارات پر بھی پابندی لاگو ہوچکی تاہم میڈیا پر انتخابی تجزیے کیے جاسکیں گے۔

الیکشن کمیشن کے مطابق خلاف ورزی کرنیوالوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ دوسری جانب الیکشن کمیشن نے تمام سیاسی جماعتوں کو مخالف جماعتوں کے خلاف بے بنیاد اور تضحیک آمیزاشتہاری مہم اورتقاریر سے روک دیا،اس ضمن میں تمام سیاسی جماعتوں کوایک خط لکھا گیا لیکن اس کے باوجود انتخابی مہم کے دوران امیدواروں اورسیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف ذاتی نوعیت کے الزامات اور نازیبا زبان استعمال کی جاتی رہی جس پر تمام سیاسی جماعتوں اور امیدواروں کوایک مرتبہ پھرخط میں سخت ہدایات جاری کی ہیں ۔

بلاشبہ انتخابی عمل کی راہ میں دشواریوں کے کئی سر بہ فلک پہاڑ حائل رہے ہیں اور یہ مشکل ترین ٹاسک تکمیل کے قریب ہے تاہم ابھی ارباب اختیار کی آزمائش کی گھڑیاں اختتام کو نہیں پہنچی ہیں ، دہشت گردی کے واقعات بھی ختم نہیں ہوئے بلکہ ان میں شدت لائی جارہی ہے۔ گزشتہ روز ملتان میں سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے چھوٹے بیٹے علی حیدر گیلانی کو مسلح افراد نے اغوا کرلیا، ایک اطلاع کے مطابق ان کے انتخابی قافلے پر حملہ ہوا جس میں علی حیدر کے سیکریٹری محی الدین جاں بحق جب کہ 5 افراد زخمی ہوئے، سیکیورٹی فورسز نے علاقہ سیل کردیا اور مغوی کی بازیابی کے لیے سرچ آپریشن شروع کردیا گیا۔

یہ ایک سنگین واردات ہے جس کا مقصد انتخابی عمل میں رخنہ ڈالنا ہے۔ حکام کو اس قسم کی وارداتوں کی روک تھام کے لیے ٹھوس اقدامات کویقینی بنانا چاہیے۔ملک کے دیگر مقامات پر بھی دہشت گردی کے واقعات تشویش ناک ہیں۔ اور سیاسی جماعتوں نے ان پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ دہشت گردی اور امیدواروں پر انتخابی مہم نہ چلانے کا دباؤ جاری رہا تو شفاف انتخابات کا دعویٰ بے بنیاد ثابت ہوگا۔ وقت کم ہے جب کہ سیکیورٹی کے سنگین مسائل کو کنٹرول کرنے کے لیے آپریشن اور ٹارگٹڈ کارروائی کے نتائج عوام اور سیاسی رہنماؤں کو نظر آنے چاہئیں۔

سیاسی اکابرین کا کہنا درست ہے کہ دہشت گردی کا راستہ نہ روکا گیا اور پر امن و آزادانہ انتخابات کی طرف پیش رفت میں دہشت گردوں کے حوصلے پست نہ کیے گئے تو صورتحال خراب ہونے کا اندیشہ ہے۔ ہنگو، باجوڑ اور بنوں میں خودکش اور ریموٹ کنٹرول بم دھماکوں میں 8افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، دہشت گردی کے ساتھ ساتھ جرائم کے مختلف واقعات میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے، منی پاکستان میں بدھ کو 8 مزید افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے، جب کہ کراچی پولیس نے لاہور میں چھاپہ مارا اور مقابلے میں 3 ٹارگٹ کلرز ہلاک کردیے ، باجوڑ ایجنسی کے علاقہ کوٹ امان میں اے این پی کے رہنما عبدالمنان کے گھر میں انتخابی میٹنگ کے دوران باہر نصب بم دھماکے سے پھٹ گیا جس سے 2افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے۔

کوئٹہ سمیت اندرون صوبہ میں فائرنگ کے واقعات میں دو افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہو گئے، قلات میں مسلح افراد نے لیویز تھانے اور ریسٹ ہاؤس کو دھماکا خیزمواد سے اڑانے کے بعد پانچ لیویز اہلکاروں کو اسلحہ سمیت اغوا کر لیا جب کہ پانچ سو افراد کے شناختی کارڈ بھی لے گئے، واقعے کے بعد قلات میں فورسز نے ٹارگٹڈ آپریشن شروع کردیا۔ کوئٹہ اورڈیرہ بگٹی میں ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران 58کلوگرام دھماکا خیز مواد، بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کر کے88افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ جمہوری وطن پارٹی کے سربراہ طلال اکبربگٹی نے قومی اسمبلی کے 2حلقوں سے احتجاجاً الیکشن نہ لڑنے کا اعلان کر دیا ہے۔

تاہم اورکزئی ایجنسی میں فورسز کی کارروائی میں9شدت پسند ہلاک اورتین ٹھکانے تباہ ہوگئے، پشاور میں دہشتگردوں کی فائرنگ سے ایلیٹ فورس کے 2اہلکار شہیدہوگئے۔ ادھر بدھ کوالیکشن کمیشن کی جانب سے جاری ضابطہ میں کہا گیا کہ پولنگ اسٹاف کسی بھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ وابستگی ظاہرنہ کریں نہ پولنگ کے دن کسی بھی سیاسی جماعت کے جھنڈے اور بیجز لگائیں جائیں۔ الیکشن کمیشن نے 8کروڑ 61لاکھ ووٹرز کوہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ووٹ کا راز فاش کرنے پر آئین کے آرٹیکل 226 کے تحت قانونی کارروائی ہوگی۔

دریں اثناء پشاور، راولپنڈی، حیدرآباد، کراچی سمیت ملک کے کئی علاقوں میں گیارہ مئی کے انتخابات کے لیے بیلٹ پیپرزفوج کی نگرانی میں پہنچادیے گئے ہیں۔ علاوہ ازیں چیف الیکشن کمشنرفخرالدین جی ابراہیم کوالیکشن کمیشن کی درخواست پر رینجرز کی اضافی سیکیورٹی فراہم کردی گئی ہے، چیئرمین نادراطارق ملک نے کہاہے کہ شہری میعادختم ہوجانے والے کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ یا نائیکوپ سے بھی اپناووٹ ڈال سکتے ہیں۔شہری کسی دشواری سے بچنے کے لیے الیکشن سے پہلے ہی اپنے پولنگ اسٹیشن کے بارے میں معلومات حاصل کرلیں، جب کہ کراچی میں ضلع جنوبی کے ریٹرننگ افسر و ڈسٹرکٹ ریٹرننگ افسرکی طرف سے ضلع جنوبی کے ڈپٹی کمشنر کوخط لکھا گیا جس میں انھوں نے مطالبہ کیا ہے کہ امن وامان کے قیام اورشفاف انتخابات کے لیے تمام پولنگ اسٹیشنوں پررینجرز کے ساتھ فوج بھی تعینات کی جائے جسکی وجہ امن وامان کے بارے میں کئی زبانی اورتحریری شکایات بتائی گئی ہیں ۔

صدرزرداری نے یقین دلایا ہے کہ پرامن انتخابات کاانعقاد حکومت کی اولین ترجیح ہے،11مئی کوامن وامان کی صورتحال بہتربنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو ہدایات جاری کردی گئی ہیں ۔ صدر نے کہا کہ ملک میں عام انتخابات کے انعقاد سے جمہوریت مضبوط ہوگی،جوجماعت الیکشن میں کامیابی حاصل کریگی اس کو اقتدار آئینی طریقے سے منتقل کردیا جائے گا۔11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے صوبائی حکومت کی درخواست پر طلب کی گئی پاک فوج نے بدھ کو کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف شہروں میں فلیگ مارچ کیا ۔

فوجی ترجمان کے مطابق پاک فوج کے فلیگ مارچ کا مقصد بلوچستان کی عوام کو یہ تاثر دینا تھا کہ حکومت اور پاک فوج پرامن الیکشن کے انعقاد کے لیے پوری طرح تیار ہیں اور یہ کہ عوام حکومت اور فوج پر اعتماد کر تے ہوئے اپنے حق رائے دہی کا بلا خوف و خطر آزادانہ استعمال کریں ۔

اس حقیقت کو بہر کیف فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ دہشت گردی اور انتخابات کے درمیان فیصلے کا لیور سیکیورٹی فورسز کے ہاتھ میں ہے۔ دہشت گردوں کی گرفتاری اور ان کی شناخت فوری ہونی چاہیے تاکہ پتا چل سکے کہ ہر واردات میں تحریک طالبان پاکستان ملوث ہے یا اس پردہ زنگاری میں کچھ اور پردہ نشین بھی ہیں۔ ضرورت اینٹی ٹیررازم کی حکمت عملی میں فوری اقدام ، تدبیر و تدبر، مستعدی اور جارحانہ اٹیک کی بھی ہے۔ کیونکہ جس چابکدستی اور بے رحمی سے دشمن حملے کرتا ہے اس کا جواب ہماری فورسز کو ایسا دینا چاہیے کہ ان کی آیندہ نسلیں یاد رکھیں۔ یہ کام بیانات نہیں ٹھوس عمل سے واضح ہونا چاہیے ۔ پولنگ کے دن کوئی گولی نہیں چلنی چاہیے۔ دہشت گردوں کے پاس ٹینک ،توپ، جنگی طیارے اور دو بدو لڑائی کا حوصلہ نہیں مگر ان کی طرف سے مسلسل حملے سیکیورٹی پر مامور فورسز کے لیے ایک چیلنج سے کم نہیں ۔قوم امن کے قیام کی منتظر ہے ۔ اسے یہ خوشخبری ضرور ملنی چاہیے۔