تاجروں نے بازاروں کی حفاظت کیلئے رضا کار گروپ تشکیل دیدیے

پتھروں کے باعث مشکوک بیگ پرنظررکھنا دشوار،ناخوشگوارواقعےکی صورت میں فائربریگیڈ کا پہنچنا بھی ناممکن ہوگیا، تاجررہنما۔


Business Reporter August 15, 2012
غیرقانونی پارکنگ فیس وصول کی جارہی ہے،پتھاروںکے باعث مشکوک بیگ پرنظررکھنا دشوار، تاجررہنما۔

FAISALABAD: شہرکے تجارتی مراکز پر سیکیورٹی کے انتظامات ناقص ہیں، نارتھ ناظم آباد میں ریموٹ بم برآمد ہونے کے بعد سیکیورٹی کے حوالے سے تاجروں کے خدشات میں بھی اضافہ ہوگیا، تاجروں نے پولیس کی کارکردگی سے مایوس ہوکر رضاکار گروپ تشکیل دے دیے ہیں جو بازاروں میں گشت کرکے اپنی مدد آپ کے تحت مشکوک عناصر پر نظر رکھیں گے۔

تاجروں کے مطابق شہرکے مصروف ترین تجارتی مراکز طارق روڈ، حیدری، صدر، لیاقت آباد سمیت دیگر بازاروں میں پولیس کی انتہائی محدود نفری تعینات ہے جو زیادہ تر پتھاروں سے بھتہ خوری میں مصروف ہے،کراچی تاجر اتحاد کے رہنما اور اولڈ سٹی ایریا ٹریڈرز الائنس کے چیئرمین جمیل پراچہ کے مطابق شہر کے تمام تجارتی مراکز کی سیکیورٹی انتہائی ناقص ہے، کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی ذمے داری حکام پر عائد ہوگی۔

انھوں نے کہا کہ شہر کے تمام بڑے بازاروں میں پولیس اورکے ایم سی کی سرپرستی میں لگائے گئے پتھارے کسی بھی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں امدادی کاموں میں سب سے بڑی رکاوٹ ثابت ہوسکتے ہیں،ان پتھاروں کے سبب بازاروں میں آمدورفت مسدود ہوگئی اور ہنگامی صورتحال میں گاہکوں کا بازاروں سے انخلا مشکل ہے،کمشنر کراچی نارتھ ناظم آباد میں بم برآمد ہونے کے بعد حالات کی نزاکت محسوس کرتے ہوئے فوری طور پر ٹھیلوں سے باٹ ترازو اور پرائس لسٹ چیک کرنے کے بجائے بازاروں کی سیکیورٹی پر توجہ دیں۔

بازاروں میں تمام غیرقانونی پتھارے فوری طور پر ختم کیے جائیں اسی طرح رکشا ٹیکسی اسٹینڈ، پارکنگ کو بازار سے فاصلے پر منتقل کیا جائے، غیرضروری داخلی خارجی راستے بند کیے جائیں، ہر تھانے کی حدود میں بازاروں کے اطراف اسنیپ چیکنگ کی جائے،کراچی ٹریڈرزایکشن کمیٹی کے چیئرمین صدیق میمن کے مطابق سندھ حکومت نے عید شاپنگ کیلیے بازاروں میں 3ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی تاہم بازاروں میں بمشکل 500کی نفری تعینات ہے بازاروں میں بڑے پیمانے پر پتھارے پولیس کی سرپرستی میں ہی لگائے گئے ہیں جس سے بازاروں کے سیکیورٹی پلان بھی چوپٹ ہوگئے ہیں،۔

بازاروں کے اطراف میں غیرقانونی پارکنگ وصول کی جارہی ہے جس کی سرپرستی پولیس اور کے ایم سی کا عملہ کررہا ہے دوسری جانب پولیس کا کردار شکایتی کیمپ میں بیٹھ کر خوش گپیاں کرنے تک ہی محدود ہے ،سرکاری سیکیورٹی ناقص ہونے اور نارتھ ناظم آباد کے بازار کے قریب بم برآمد ہونے کے بعد شہر کے تمام تجارتی مراکز میں تاجروں نے اپنی مدد آپ کے تحت رضاکار گروپ تشکیل دے دیے ہیں جو بازاروں میں تعینات کردیے گئے ہیں۔

ہر دکان سے ایک دو سیلز مین اور دکاندار مخصوص وقت کے لیے مشکوک افراد کی نگرانی کے لیے ڈیوٹی دے رہا ہے، بازاروں میں دہشت گردی کا خطرہ ان گنت پتھاروں کی وجہ سے بڑھ گیا ہے ، پتھاروں کی موجودگی میں کسی مشکوک بیگ یا پارسل پر نظر رکھنا دشوار ہے ساتھ ہی کسی ناخوشگوار واقعے کی صورت میں متاثرہ جگہ تک فائربریگیڈ اور ایمبولینس کا پہنچنا بھی ناممکن ہوچکا ہے۔