غیر قانونی پارکنگ نے کراچی کو تباہ کردیا واٹر کمیشن

گلشن اقبال میں قائم سپر اسٹور کو ایک ماہ میں لیاری ندی سے اپنی پارکنگ ختم کرنے کا حکم


ویب ڈیسک August 29, 2018
گلشن اقبال میں قائم سپر اسٹور کو ایک ماہ میں لیاری ندی سے اپنی پارکنگ ختم کرنے کا حکم فوٹو:فائل

واٹر کمیشن کے سربراہ نے غیر قانونی پارکنگ کو شہر کی تباہی کا ذمہ دار قرار دے دیا۔

پانی کی فراہمی و نکاسی کی صورتحال پر قائم واٹر کمیشن کی سندھ ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔ واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے گلشن اقبال میں قائم سپر اسٹور کو ایک ماہ میں لیاری ندی سے اپنی پارکنگ ختم کرنے کا حکم دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ اگر ندی پر پارکنگ ہوئی تو کراچی پولیس چیف ذمہ دار ہوں گے۔

کمیشن نے غیر قانونی عمارتوں اور قبضے ختم کرانے میں ناکامی پر ڈی جی ایس بی سی اے کو نوٹس جاری کردیا جب کہ ایس ایچ او تھانہ ایس بی سی اے کو بھی ہٹانے کا حکم جاری کردیا۔

جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے کہا کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی بیسمنٹ میں گودام اور دکانیں گرائے، شہر کے بیچ و بیچ بڑے اسٹور بنانے سے تباہی ہوگی، دنیا میں تمام بڑے اسٹور شہر کے مضافات میں ہوتے ہیں، غیر قانونی پارکنگ سے شہر تباہ ہو چکا، شہر کی تباہی کا ذمہ دار ایس بی سی اے ہے۔

ایس بی سی اے کے ڈی جی افتخار قائمخانی نے بے بسی کا اظہارِ کرتے ہوئے کہا کہ ایس بی سی اے کا تھانہ ہماری نہیں سنتا، میں اپنا عہدہ چھوڑنے کو تیار ہوں، مجھے عہدے سے چمٹنے کی ضرورت نہیں، میرے ادارے کو تحفظ اور مدد بھی چاہیئے، گلبرگ میں غیر قانونی عمارت گرائی، تو جھگڑا ہوا اور سیاسی جماعت کے کارکن پہنچ گئے، معاملات میں سیاسی مداخلت بھی ہوتی ہے۔

سربراہ واٹر کمیشن نے کہا کہ آپ نااہل ہیں یا آپ کے افسران بھی نااہل، اے سی دفاتر سے باہر نکلیں تو کچھ ہو۔

مقبول خبریں