جمہوریت و آئین کے دفاع کا عزم

مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق 258 ووٹ لے کر اسپیکر جب کہ مرتضٰی جاوید عباسی بھی 258 ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر۔۔۔


Editorial June 04, 2013
مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق 258 ووٹ لے کر اسپیکر جب کہ مرتضٰی جاوید عباسی 258 ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔ فوٹو: آئی این پی

مسلم لیگ (ن) کے سردار ایاز صادق 258 ووٹ لے کر اسپیکر جب کہ مرتضٰی جاوید عباسی بھی 258 ووٹ لے کر ڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی منتخب ہو گئے۔ دوتہائی اکثریت سے اس کامیابی کو پاکستان کی سیاسی تاریخ میں جمہوری عمل کے تسلسل کے حوالے سے بنیادی اہمیت حاصل ہوگئی ہے ۔

گزشتہ روز قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکر ڈاکٹر فہمیدہ مرزا کی صدارت میں شروع ہوا، تلاوت کلام پاک کے بعد نو منتخب قومی اسمبلی میں تمام چھوٹی بڑی سیاسی جماعتوں نے ایک مشترکہ تجدید عہد کا جو کارنامہ انجام دیا وہ بھی قابل قدر ہے جس میں آئین کی پاسداری کرنے اورآمروں کا ساتھ نہ دینے کے عزم کا ایک مرتبہ پھر اعادہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ آئین کا دفاع اور تحفظ ہم سب پر لازم ہے۔یہ پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی کا قومی اسمبلی میں پہلا نکتہ اعتراض تھا جس پر انھوں نے کہا کہ تمام ارکان اسمبلی آیندہ جمہوریت پر کسی طالع آزما کے شب خون کا ساتھ نہ دینے اور سیاسی قیادت ڈکٹیٹروں کا ساتھ دینے والوں کو آیندہ اپنی سیاسی جماعتوں میں شامل نہ کرنے کا وعدہ کریں۔

اس ایوان میں بھی بے شمار ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے سابق آمر کا ساتھ دیا، آج ارکان وعدہ کریں کہ آیندہ کسی آمر کا ساتھ نہیں دیں گے۔ ن لیگ کے خواجہ آصف نے کہا کہ اچکزئی کی بات سے کوئی اختلاف نہیں کرسکتا، یہ ایوان آئین شکنی کی مزاحمت کرے گا اور ماورائے آئین کسی اقدام کی حمایت نہیں کریں گے۔اس کے بعد ایوان میں نئے اسپیکر کے انتخاب کے لیے خفیہ رائے شماری ہوئی جس میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار سردار ایاز صادق نئے اسپیکر منتخب ہو گئے۔

سبکدوش ہونے والی اسپیکر فہمیدہ مرزا نے ایاز صادق سے اسپیکر کے عہدے کا حلف لیا جس کے بعد نو منتخب اسپیکر سردار ایاز صادق نے اجلاس کی صدارت کی اور ڈپٹی اسپیکر کا انتخاب کرایا۔اس کے ساتھ ہی حکومت سازی کا پہلا مرحلہ مکمل ہو گیا۔ ادھرپنجاب اسمبلی میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوار رانا محمداقبال297 ووٹ لے کر دوبارہ اسپیکر جب کہ سردار شیر علی گورچانی293ووٹ حاصل کرکے ڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے ہیں، رانا اقبال پنجاب اسمبلی کے16ویں اسپیکر ہیں۔ نومنتخب اسپیکر رانا اقبال نے حلف برداری کے بعد خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلیں گے ۔پاکستان مسلم لیگ (ن) کے میرجان محمد جمالی اور مسلم لیگ(ق) کے میر عبدالقدوس بزنجو بلوچستان اسمبلی کے بلا مقابلہ اسپیکر وڈپٹی اسپیکر منتخب ہوگئے ، اسپیکر سید مطیع اﷲ آغا نے ان سے حلف لیا ۔

قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکر و ڈپٹی اسپیکرز کے انتخاب نے اس حقیقت کو ان قوتوں اور حلقوں پر واضح کردیا جو جمہوریت اور عوامی حاکمیت کے حوالے سے قوم کو ہمیشہ گمراہ، بدظن اور مایوسیوں کا شکار بناتے رہے جب کہ دنیا بھر کے جمہوری نظام اس امر پر متفق ہیں کہ حقیقی پارلیمنٹ کبھی ربر اسٹمپ نہیں ہوتی اور پارلیمان کسی بھی جمہوری ملک کی سیاسی،تہذیبی،فکری اور آئینی روح کی آئینہ دار ہوتی ہے ،اسی فورم سے ملکی مسائل پر مشترکہ قانونی، پارلیمانی اور جمہوری جدوجہد کے راستے چنے جاتے ہیں، عوام کو درپیش مسائل و مصائب کا حل تلاش کیا جاتا ہے، منظم منصوبہ بندی اور متفقہ لائحہ عمل اختیار کرنے میں تمام جمہوری قوتوں کو ساتھ بیٹھنے کا موقع ملتا ہے۔

اور یہی وہ ایوان ہے جہاں ایڈمنڈ برک جیسا نابغہ روزگار برطانوی پارلیمنٹیرین گھنٹوں سماجی،سیاسی اور عالمی امور پر شعلہ بیانی اور سحر انگیزخطابت کے جوہر دکھاتا تھا۔ اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کی جمہوری عمل میں بے حد اہمیت ہوتی ہے، وہ ایوان میں اوپن ڈیبیٹ ، تحریک استحقاق، قرارداد ، نکتہ اعتراض اور وقفہ سوالات کے دوران اراکین کوآزادی اظہار کے دوران شائستگی، پارلیمانی آداب کی پیروی اور مسلمہ جمہوری اقدارکی پاسبانی کی تلقین کرتے ہیں۔ عوام کو پارلیمنٹ سے جو توقعات وابستہ ہوتی ہیں در اصل اسی پر جمہوری نظام کی عمارت استوار ہوتی ہے ۔ منتخب اراکین کو آئین و قانون کے مطابق جمہوری بحث ومباحثہ کی اجازت دینے پر مامور یہ شخصیات نظام کے تسلسل پر نظر رکھتی ہیں جب کہ قوم اپنے نمایندوںکی شکل میں تہذیب، ادب، ثقافت، گفتگو کی جمالیات و نفاست اور خیالات و افکار کے نگینے چنتے رہتے ہیں،اگر پارلیمنٹ قومی امنگوں سے کٹ جائے تو قومی شناخت ختم ہوجاتی ہے،عوام مسائل کے پہاڑ تل دب کر رہ جاتے ہیں۔

یوں دیکھاجائے تو حالیہ انتخابات میں ووٹ کی طاقت نے عوامی ارادے کی کامیابی پر مہر تصدیق ثبت کی ہے اور عوامی مسائل سے لاتعلق بعض مغرور سیاسی جماعتوں کو ایسا دھوبی پاٹ مارا ہے کہ وہ ابھی تک سنبھل نہیں سکی ہیں ۔چنانچہ اس تناظر میں قومی و صوبائی اسمبلیوں کے اسپیکرز کے چناؤ میں جمہوری پروسیس پر عملدرآمد الیکشن کمیشن ،عدلیہ ، سیاسی جماعتوں اور نگراں حکومت کی اجتماعی جیت اور اس ماحولیاتی پس منظر میں ایک شاندار اور غیر معمولی جست ہے جہاں انتخابات عملاً انتہا پسندوں کی بندوقوں کی گھن گرج میں کامیابی سے منعقد ہوئے مگر قومی عزم کے سامنے ان باطل قوتوں کی ایک نہ چلی۔ یہاں ان سیاسی جماعتوں کی تعریف نہ کرنا نا انصافی ہوگی جنھوں نے تحفظات کے باوجود جمہوری عمل کی حمایت کی۔

پیپلز پارٹی پارلیمنٹیرینز کے صدر امین فہیم نے کہا کہ اسپیکر وڈپٹی اسپیکر قومی اسمبلی کے عہدوں کو متنازعہ نہیں بنانا چاہتے تھے اس لیے اسپیکر وڈپٹی اسپیکر کے انتخاب میں امیدوار کھڑے نہیں کیے۔ادھر پنجاب اسمبلی کے2ارکان سردار محمد نواز اور افتخار گیلانی نے بیماری کی وجہ سے ایوان کے باہر لابی میں سے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے چناؤ کے لیے اپنا ووٹ کا سٹ کیا،خیبر پختونخوا کے گورنر انجینئر شوکت اللہ نے سردار ایاز صادق اور مرتضیٰ جاوید عباسی کو قومی اسمبلی کا اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ۔

اپنے الگ الگ تہنیتی پیغامات میں گورنر نے کہاکہ وطن عزیز کے اس باوقار ادارے کے ان اعلیٰ ترین مناصب کے لیے ان کا بھاری اکثریت سے انتخاب ان کی بھرپور قائدانہ صلاحیتوں،دانشمندانہ سوچ و فکر اور اراکین کی جانب سے ان کی قیادت پر اعتماد کا مظہر ہے۔ سندھ حکومت سازی کے عمل کی تکمیل کے بعد اب کابینہ میں جلد توسیع کے مرحلہ میں ہے اورمزید 7سے8وزراء شامل کیے جائیں گے۔اس وقت سندھ کابینہ کے کل ممبران کی تعداد8 ہے، جس میں 7وزراشامل ہیں ۔اسے بے پناہ مسائل اور دہشت گردی سمیت بدامنی کی سنگین صورتحال درپیش ہے جس پر سخت انتظامی فیصلوں کی ضرورت ہے جب کہ سیاسی اتفاق رائے اور دو طرفہ رودارانہ اور مفاہمانہ طرز عمل اور اشتراک عمل سے کراچی کو امن کا تحفہ دیا جاسکتا ہے ۔

بلوچستان میں نئی سیاسی حکومت میدان میں اترنے والی ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف پارلیمانی سروسز نے 14ویں قومی اسمبلی کے نو منتخب اراکین کے لیے اورینٹیشن سیشن کا اہتمام کیا ۔ اس ضمن میں قومی اسمبلی کی کارروائی، اس کے طریقہ کار اور رولز آف بزنس کے حوالے سے اراکین کے ساتھ تعارفی نشست پارلیمنٹ ہاؤس میں ہوئی ۔ مشہور مفکر سڈنی سلورمین کا کہنا ہے کہ ''پارلیمنٹ کو سست الوجود لوگوں کی بڑی میٹنگ نہیں ہونا چاہیے۔'' یہ بات نئی چیلنجنگ صورتحال میں تمام اراکین پارلیمنٹ پر صادق آتی ہے کہ وہ قوم کو غربت، ناخواندگی، لوڈ شیڈنگ، دہشت گردی اور کرپشن سمیت دیگر مسائل کے گرداب سے نکالنے کے لیے کمر کس لیں۔جمہوریت اب ان پر ایک قومی ذمے داری کی طرح لاگو ہوگئی ہے۔