ایم کیو ایم کو تباہی سے بچانے کیلیے انٹرا پارٹی الیکشن کرائے جائیں، فاروق ستار

ویب ڈیسک  جمعـء 12 اکتوبر 2018
باوثوق ذرائع سے جانتا تھا کہ یہ الیکشن ایم کیو ایم کے الیکشن نہیں ہیں،فاروق ستار۔ فوٹو: فائل

باوثوق ذرائع سے جانتا تھا کہ یہ الیکشن ایم کیو ایم کے الیکشن نہیں ہیں،فاروق ستار۔ فوٹو: فائل

 کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا ہے کہ پارٹی کو تباہی سے بچانے کے لیے جلد سے جلد انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کرایا جائے۔

کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما فاروق ستار کا کہنا تھا کہ 23 اگست کو حادثاتی طور پر پارٹی کی سربراہی لی تھی، اور 11 فروری کو مجھ سے یہ سربراہی خالد مقبول صدیقی و ساتھیوں نے حادثاتی طور پر واپس لے لی، میں نے 13 ستمبر کو رابطہ کمیٹی سے استعفیٰ دیا تھا اور میں نے کہا تھا کہ ذاتی وجوہات کی بنا پر مستعفی ہورہا ہوں، آج ان وجوہات کی تفصیل بتانا چاہتا ہوں۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ اس وقت ایم کیو ایم پاکستان جس صورتحال سے دو چار ہے اس کا سب کو علم ہے، کراچی میں ایم کیو ایم کو 17 سیٹوں سے 4 سیٹوں پر پہنچادیا گیا، پارٹی تباہی کی جانب گامزن ہے، اب تنظیم کو تقسیم و تباہی سے بچانا ہے اور کھوئے ہوئے وقار کو واپس لانا ہے تو تمام کارکنان کو 5 فروری کی عزت پر بحال کرنا ہوگا، 5 فروری لائن آف ڈیوٹی تھی اب 5 فروری ہی لائن آف جوائن ہوگی۔

فاروق ستار نے کہا کہ پارٹی میں انٹرا پارٹی الیکشن کا انعقاد کرایا جائے، موجودہ افراتفری و بدحالی سے نکالنے کے لیے کارکنان سے نیا مینڈیٹ اور رائے لی جائے۔ انہوں نے کہا کہ 15 جون کو اپنے ساتھیوں سے اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر بہادرآباد کے ساتھیوں سے ملا،  جس کا مقصد ایم کیو ایم کے ووٹ بینک کی یکجہتی کو قائم رکھنا ہے تاہم میں نے جانتے بوجھتے ہرائے جانے والے انتخابات لڑے۔

فاروق ستار کا کہنا تھا کہ باوثوق ذرائع سے جانتا تھا کہ یہ الیکشن ایم کیو ایم کے الیکشن نہیں ہیں، میرے ساتھیوں نے مجھ سے کہا کہ اگر آپ الیکشن نہیں لڑیں گے تو آپ ادھورے دل سے بہادرآباد آئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مجھے معلوم تھا کہ یہ الیکشن فاروق ستار کا الیکشن نہیں ہے، اس الیکشن سے اجتناب برتنا چاہیے، کہا تھا کہ ایم کیو ایم یہ الیکشن اس لیے نہیں لڑے گی کہ ان سے ان کا مینڈیٹ چھینا جائے گا۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔