ایک کہاوت ایک کہانی دوست وہ جو مصیبت میں کام آئے

نیکی کرکے روح خوش ہوتی ہے


Ifrah Bashir Sajid August 17, 2012
ہمارا پیٹ تو پوری طرح بھرا ہوا ہو لیکن پڑوسی کا پیٹ خالی ہو اور اس کے بچے بھوکے ہوں اورہمیں اس کی خبر بھی ہو تو اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ہمیں کوئی نہ بچاسکے گا۔ فوٹو: پی پی ائی

رمضان کی آمد آمد تھی۔ فیضان بہت خوش تھا گھر کے سبھی لوگوں کی طرح اس کو بھی رمضان کا شدت سے انتظار تھا۔ جب کہ فیضان کا بڑا بھائی ان سب باتوں سے لاتعلق تھا۔ گھر کے تمام لوگ خشوع وخضوع سے روزہ رکھتے تھے۔ سحری اور افطار میں اچھے اچھے کھانے کھاتے ، نماز، قرآن پڑھتے۔

فیضان کا ایک دوست نبیل تھا جو بڑا غریب تھا۔ نبیل اور اس کے والدین تنگ دستی سے وقت گزار رہے تھے۔ نبیل کے والدین اکثر بیمار رہتے تھے۔ پھر بھی وہ روکھی سوکھی کھاتے اور اپنے رب کا شُکر ادا کرتے۔ کبھی کھانا کھاتے تو کبھی بغیر سحری کے روزہ رکھ لیتے۔ لیکن کبھی کسی کے آگے ہاتھ نہ پھیلاتے تھے۔ وہ اﷲ تعالیٰ کے دیے گئے رزق پر راضی تھے۔

رمضان دھیرے دھیرے گزر رہا تھا۔ نبیل اور اس کے گھر والوں کی پریشانیاں بڑھتی جارہی تھیں۔ شہر کے حالات کی خرابی اور لوڈشیڈنگ کی وجہ سے گھر کے اخرجات پورے کرنے بہت مشکل ہوگئے تھے۔ دوسری طرف فیضان بھی نبیل کے گھر سے لاتعلق نہیں تھا۔ وہ پوری طرح ان کی مدد کے لیے تیار تھا لیکن نبیل کی خودداری آڑے آجاتی تھی۔ آخر ایک دن فیضان نے ہمت کرہی لی۔ وہ اگرچہ نبیل کے گھریلو حالات سے اچھی طرح واقف تھا پھربھی رسمی طور پر پوچھا، نبیل بھائی! کیا حالات چل رہے ہیں؟ نبیل نے حسب روایت ''اﷲ تعالیٰ کا شُکر ہے۔''

کہہ کر فیضان کو مطمئن کرنا چاہا۔ لیکن آج فیضان بھی کچھ طے کرکے آیا تھا۔ اس نے نبیل کو اپنی مدد لینے پر مجبور کرہی دیا۔ اب نبیل کی آنکھوں میں تشکر کے آنسو تھے۔ اس نے فیضان کا شکریہ ادا کیا۔ فیضان نے کہا، نبیل! تم میرے دوست ہو۔ مصیبت کے وقت دوست کی مدد کرنا فرض ہے۔ مجھے پتا ہے، تمہاری خودداری اس بات کی اجازت نہیں دیتی لیکن میرا ضمیر ملامت کرتا ہے کہ میرا دوست اس وقت مصیبت میں ہے اور مَیں اس کی کوئی مدد نہیں کررہا ہوں۔ پھر فیضان نے نبیل کو اپنے ساتھ کام پر لگا لیا۔ نبیل بھی پوری دیانت داری سے کام کرتا رہا۔

اب پھر رمضان آگیا تھا لیکن اس مرتبہ اس کا مزہ دوبالا تھا۔ فیضان اور نبیل کے گھر والے ایک دوسرے کی خوشیوں میں پوری طرح شریک تھے۔

دیکھا ساتھیو! نیکی کرکے روح کتنی خوش ہوتی ہے۔ ہم سب کو بھی ایک دوسرے کا خیال رکھنا ہے۔ کہیں ہمارے اڑوس پڑوس میں کوئی بھوکا تو نہیں سورہا؟ ایسا نہ ہوکہ ہمارا پیٹ تو پوری طرح بھرا ہوا ہو لیکن پڑوسی کا پیٹ خالی ہو اور اس کے بچے بھوکے ہوں۔ اگر ایسا ہوا اور ہمیں اس کی خبر بھی ہو تو اﷲ تعالیٰ کے عذاب سے ہمیں کوئی نہ بچاسکے گا۔ ہاں اگر ہم نے اپنا فرض ادا کیا تو ہم پر اﷲ تعالیٰ کی اتنی رحمتیں برسیں گی کہ ہم نہ صرف خود خوش حال ہوں گے بلکہ ہمارے پڑوسی اور ملنے جُلنے والے بھی نہال ہوںگے۔