اردو یونیورسٹی بائیو نینو ٹیکنالوجی اور ہائی ٹیک انجینئرنگ کے شعبے قائم ہونگے

اساتذہ کی اسناد کی تصدیق ،طلبا،اساتذہ اور عملے کو انٹرنیٹ اور جدید اسباق فراہم کرینگے ،ڈاکٹر ظفر اقبال.


Staff Reporter June 16, 2013
بی اے اور ماسٹرز پرائیویٹ کی رجسٹریشن کا نظام بحال ،یونیورسٹی کلینک، پیتھالوجیکل لیباریٹری اور سوائل ٹیسٹنگ لیبز قائم ہونگی. فوٹو: فائل

وفاقی اردو یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہا ہے کہ یونیورسٹی کے فارغ التحصیل ہونے والوں کی المنائی کے قیام کیلیے کام شروع کردیا گیا ہے یونیورسٹی کے اساتذہ سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی تمام تعلیمی اسناد تصدیق کیلیے ایک ماہ میں جمع کرادیں۔

انتظامیہ جامعہ اردو کو ترقی کی جانب سفر کرتا د یکھنا چاہتی ہے اور اس کے لیے انھوں نے اہم اقدامات کا آغاز کردیا ہے جس میں جامعہ کے اساتذہ ، طلبا و غیر تدریسی عمال کو انٹرنیٹ کی سہولت اور تحقیق کیلیے جدید اسباق کی مفت فراہمی شامل ہے،جامعہ کے تمام شعبوں میں اردو کی تدریس لازمی ہوگی،جامعہ اردو میں وائس چانسلر کی پریس بریفنگ کے دوران رجسٹرار ڈاکٹر فہیم الدین ،رئیس کلیات، پروفیسرسیمی نغمانہ، پروفیسر ڈاکٹر سلیمان ڈی محمد اور دیگر بھی موجودتھے،شیخ الجامعہ پروفیسر ڈاکٹر ظفر اقبال نے کہاکہ 4 ماہ کے مختصر عرصے میں جامعہ کی ترقی اور بہتری کے لیے موثر اقدامات کیے گئے ہیں ان میں اولین جامعہ کے شعبہ امتحانات کی توسیع شامل ہے پرائیویٹ رجسٹریشن جو عرصے سے بند تھی اس کا نظام بحال کردیا ہے ۔



عنقریب گریجویشن اور ماسٹرز لیول پر پرائیویٹ طلبا کی رجسٹریشن شروع کردی جائے گی انھوں نے کہاکہ ریگولر داخلوں کے لیے ڈائریکٹوریٹ آف ایڈمیشن قائم کردیا گیا ہے جو طلبا کی انرولمنٹ، داخلہ ٹیسٹ کا اہتمام اور ڈگریوں کی تصدیق کا کام سرانجام دے گا،جامعہ کے دونوں کیمپسز میں مرمت کے لیے انجینئرنگ اینڈ مینٹینس شعبہ قائم کردیا گیا ہے، جامعہ کے تحت سیرت چیئر قائم کردی گئی ہے، اکیڈمک کونسل میں کراچی کیمپسز میں نئے شعبہ جات اسپورٹس سائنس،بائیوٹیکنالوجی،ہوم مینجمنٹ، نینو ٹیکنالوجی کے قیام کی منظوری کے علاوہ ہائی ٹیک انجینئرنگ شعبے کا قیام زیر غور ہے،جامعہ میں جلد طبی سہولتیں فراہم کرنے کے لیے کلینک قائم کیا جائیگا جامعہ میں سیکیورٹی کا نیا نظام وضع کیا جائے گاجامعہ کے تحت پیتھالوجیکل لیب اور سوائل ٹیسٹنگ لیبارٹرز قائم کی جائیں گی جس پر 2کروڑ روپے کے اخراجات ہوں گے،اس موقع پر رجسٹرارپروفیسرڈاکٹرفہیم الدین نے بھی خطاب کیا۔