سپریم کورٹ نے 68 دہشت گردوں کی رہائی روک دی

ویب ڈیسک  جمعـء 9 نومبر 2018
فیصلے کے خلاف وزارت دفاع نے اپیلیں دائر کی تھیں۔

فیصلے کے خلاف وزارت دفاع نے اپیلیں دائر کی تھیں۔

اسلام آباد: سپریم کورٹ نے پشاورہائی کورٹ کی جانب سے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے دہشت گردوں کی رہائی کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا۔

ایکسپریس نیوز کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس عظمت سعید کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ نے پشاور ہائی کورٹ کی جانب سے سزائے موت کے مجرموں کی سزا کالعدم قرار دیے جانے کے خلاف کیس کی سماعت ہوئی جس میں اعلیٰ عدالت نے پشاور ہائی کورٹ کے فیصلے پر حکم امتناع جاری کردیا۔

اس خبر کوبھی پڑھیں؛ وزارت دفاع نے دہشت گردوں کی رہائی سپریم کورٹ میں چیلنج کردی

دوران سماعت ایڈیشنل اٹارنی جنرل ساجد الیاس بھٹی نے کہا کہ پشاور ہائی کورٹ نے حقائق کا درست جائزہ نہیں لیا ، ملزمان دہشت گردی جیسے سنگین جرائم میں ملوث ہیں لہذا فوجی عدالتوں سے سنائی گئی سزاؤں کو بحال کیا جائے۔ عدالت نے اٹارنی جنرل کونوٹس جاری کرتے ہوئے جیل سپرنٹنڈنٹس کو ملزمان کو رہا کرنے سے بھی روک دیا۔ سپریم کورٹ نے کیس کی مزید سماعت غیر معینہ مدت کیلیے ملتوی  کردی۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ فوجی عدالتوں سے پھانسی و عمرقید پانے والے ملزمان کی سزائیں کالعدم قرار

واضح رہے کو پشاور ہائی کورٹ نے فوجی عدالتوں سے سزا پانے والے 68 ملزمان عدم شواہد کی بنا پر بری کرنے کا حکم دیا تھا جس کے خلاف وزارت دفاع نے اپیلیں دائر کی تھیں۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔