منی پاکستان شہر خاموش بندوق آزاد

ملک کا سب سے بڑا تجارتی شہر اور اقتصادی شہ رگ جسے منی پاکستان کہا جاتا ہے ، بدستور سماج دشمن عناصرکے نرغے میں ہے.


Editorial June 29, 2013
ملک کا سب سے بڑا تجارتی شہر اور اقتصادی شہ رگ جسے منی پاکستان کہا جاتا ہے ، بدستور سماج دشمن عناصرکے نرغے میں ہے. فوٹو: فائل

KARACHI: ملک کا سب سے بڑا تجارتی شہر اور اقتصادی شہ رگ جسے منی پاکستان کہا جاتا ہے ، بدستور سماج دشمن عناصرکے نرغے میں ہے ۔ سب جانتے ہیں کہ کیوں مگر کہیں سے زیتون کی کوئی شاخ ہاتھ میں لیے بندوق برداروں سے امن کی بھیک تک مانگنے کو تیار نہیں۔ ریاستی رٹ شہر قائد میں سوالیہ نشان بن چکی ہے ۔ کوئی دن ایسا نہیں گزرتا جب سات آٹھ لاشیں نہ گرائی جاتی ہوں ، اب تو رفتہ رفتہ شہریوں کے ایک بڑے حلقہ کا اس اندیشہ میں مبتلا ہونا بلا جواز نہیں رہا کہ کچھ بے چہرہ انتہا پسند و دہشت گرد قوتیں کراچی جیسے بندہ نواز شہر کو مقبوضہ ملکیت میں بدلنے کی مذموم سازشوں میں ملوث ہیں اور اس ملک گیر معاشی آشیانہ کو اجاڑنے کے در پے ہیں جسے مقامی لوگوں اور پاکستان کے کونے کونے سے رزق و روزگار کی تلاش میں آنے والے ہنر مند و محنت کش خاندانوں نے بنانے اور سنوارنے میں اپنا خون پسینہ شامل کیا ہے۔

گزشتہ روز حیران کن انداز میں کھارادر و لیمارکیٹ میں موٹر سائیکلوں پر سوار لیاری گینگ وار کے درجنوں ملزمان نے فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں خاتون سمیت 3 افراد ہلاک اور12 افراد زخمی ہوگئے ، فائرنگ کا مقدمہ الزام نمبر243/13لیاری گینگ وارکے مرکزی ملزمان تاج محمدعرف استاد تاجو،وسیع اﷲ لاکھو،شیرازکامریڈ،ایاز زہری، ثاقب باکسر،عامر مرچی سمیت 15سے 20 ملزمان کے خلاف کھارادر تھانے میں درج کرلیا گیا۔لیاری کے مختلف علاقوں میں رینجرزنے آپریشن کیا ، اس دوران نامعلوم مسلح افراد نے رینجرزپرفائرنگ کردی،جوابی فائرنگ کے نتیجے میں لیاری گینگ وارکااہم ملزم ثاقب عرف باکسرماراگیا، ملزمان کی فائرنگ سے5افرادزخمی ہوگئے،رینجرزنے متعدد افراد کوحراست میں لے کرنامعلوم مقام پرمنتقل کردیا جب کہ شہر کے مختلف علاقوں میں فائرنگ کے واقعات میں متحدہ قومی موومنٹ کے کارکن سمیت 7 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے ۔

اس ضمن میں وزیر اعلیٰ سندھ سید قائم علی شاہ نے مقامی اسٹیک ہولڈرز سے ایک درد انگیز اپیل کی کہ مجرم مجرم ہوتا ہے اس کے خلاف سخت کارروائی ہونی چاہیے وہ مجرم چاہے پیپلزپارٹی،ایم کیو ایم یا مسلم لیگ میں چھپتاہو یا کسی بھی پارٹی کاجھنڈا اٹھاتا ہو،اس کے ساتھ رعایت نہیں ہونی چاہیے ، ہم کراچی میں امن قائم کریں گے اور اس کے لیے زیادہ وقت نہیں لیں گے، ہمیں سندھ اسمبلی میں بیٹھی سیاسی جماعتوں کا تعاون چاہیے ،وزیر اعلیٰ نے ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین سے اپیل کی کہ وہ کراچی میں ہڑتال کے فیصلوں پرنظرثانی کریں کیونکہ ہڑتال سے کراچی کی معیشت کو نقصان پہنچ رہا ہے ۔ اگر حقیقت کی آنکھ سے دیکھا جائے تو یہ منی پاکستان کے دو کروڑ انسانوں کے مستقبل اور ملکی معیشت کے تحفظ کا معاملہ ہے ۔

سارے اسٹیک ہولڈرز کے ضمیراس سوال کی خلش کو محسوس کریں کہ روز بیگناہ انسان کیوں مارے جارہے ہیں ، ان کا قصور کیا ہے ۔ کچھ میتیں دوسرے صوبوں میں جاتی ہوں گی تو منی پاکستان کی بربادی کا دکھ ان کے ذاتی دکھ سے کس طرح الگ ہو سکتا ہے ۔ دوسری طرف ٹریفک جام روز کامعمول بن چکا ہے ، شہریوں کی ذہنی اور نفسیاتی حالت قابل رحم ہوچکی ہے ، ہلاکتوں کے باعث ہزاروں گھر برباد اور اجرتی مزدرو در بدر ہوگئے ہیں۔ قانون شکن عناصر نے سیاسی اسٹیک ہولڈرز کو غیر موثر بناتے ہوئے دو کروڑ انسانوں کو محاصرے میں لے رکھا ہے ، روز لاشیں گر رہی ہیں اور حکام روز دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کے روایتی بیانات دے کر معاملہ کو ٹالتے رہتے ہیں ۔ صورتحال کی سنگینی شہر قائد کو معاشی اور سماجی تباہی کی تاریک سرنگ میں لے گئی ہے۔

رینجرز اور ایف کی بھاری نفری بھی ان قانون شکن مسلح مافیاؤں کا کچھ نہیں بگاڑ سکی،ٹارگٹ کلرز، فرقہ پرست ، بھتہ خور اور گینگ وار کارندوں کے سامنے نہ تو ریاستی رٹ نظر آتی ہے اور نہ قانون نافذ کرنیوالے اداروں کے مابین دہشت گردوں کے خاتمہ کی کوئی مربوط حکمت عملی۔قائم علی شاہ نے پیشکش کی کہ یہ ایم کیو ایم والوں کی اپنی مرضی ہے کہ وہ اپوزیشن میں بیٹھے ہیں ورنہ ہماری خواہش تو یہ ہے کہ وہ سرکاری بینچوں پر بیٹھیں ، وزیراعلیٰ نے کہا کہ ریمورٹ کنٹرول بم کے ذریعے وارداتوں کو روکنے کے لیے ہم ٹیکنالوجی اور مہارت حاصل کررہے ہیں، چیف جسٹس سندھ ہائی کورٹ ہمیں بتائیں کہ ججوں کی سیکیورٹی کے لیے ہمیں کیا کرنا ہے ہم وہ سب کریں گے،جسٹس مقبول باقر کو بلٹ پروف کار بھی دیں گے۔

ہم بار ہا اس امر کا اعادہ کرچکے ہیں کہ جمہوریت کے دشمن کراچی کی اجتماعی تباہی collateral damage میں در اصل پاکستان کی اقتصادی اور سماجی بربادی اور جمہوری عمل و ریاستی رٹ کی کمزوری کی تمنا میں مرے جارہے ہیں ۔ ان کا ہدف صرف کراچی نہیں بلکہ وہ ملکی معیشت کا سقوط چاہتے ہیں ،اس کے لیے وہ اقتصادی حب کراچی پر وار کررہے ہیں اور مختلف مجرمانہ گروہ جنھیں مصلحتاً در پردہ سیاسی سر پرستی بھی حاصل ہے اس گھناؤنے منصوبہ میں شریک ہیں ، چنانچہ بربادیٔ شہر کی اس دردناک حقیقت کو نظر انداز کر کے شہر قائد کے اسٹیک ہولڈرز دشمن کا کام آسان نہ بنائیں بلکہ ان کے ہاتھ توڑ دیں ، یکجا ہوجائیں،اسی میں سب کا بھلا ہے۔