وزارت صحت کی صوبے کو منتقلی کے 2 سال مکمل بڑے اسپتال زیر انتظام نہ آسکے

وفاق کے تین اسپتالوں کا تعین نہ کیا جاسکا، افسران نے قانونی جنگ شروع کردی، محکمہ صحت نے بھی عدالت میں درخواست دائرکردی


Staff Reporter June 30, 2013
پارلیمان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا، محکمہ صحت، اسپتالوں میں ہڑتالیں کی گئیں، انتظامی ڈھانچہ بھی درہم برہم رہا۔

18ویں ترمیم کی منظوری اور پارلیمان کے صوبائی خودمختاری کے فیصلے کوآج 2 سال مکمل ہوگئے۔

30 جون کو2010 کووفاقی وزارت صحت سمیت دیگر وزراتوں کوصوبائی حکومت میں ضم کرنے کا اعلان اورنوٹیفکیشن جاری کیا گیا تھا لیکن پارلیمان کے فیصلے کیخلاف بعض افسران نے قانونی جنگ شروع کردی اورپارلیمان سے متفقہ طور پر منظورکی جانیوالی 18ویں ترمیم کے خلاف عدالت سے رجوع کرلیا جس پر صوبائی محکمہ صحت نے بھی عدالت عالیہ میں 2 مختلف درخواستیں دائرکردیں۔

سابقہ حکومت نے صوبا ئی خودمختاری کے تحت وفاقی وزارت صحت، تعلیم سمیت دیگر شعبوں کو صوبائی حکومتوں کے حوالے کرنے کیلیے پارلیمان سے 18ویں ترمیم کی منظوری دی تھی جس کے تحت کراچی میں وفاقی حکومت کے ماتحت چلنے والے جناح اسپتال،قومی ادارہ امراض قلب اورقومی امراض قلب سمیت دیگر صحت کے شعبوں اور منصوبوں کوصوبائی محکمہ صحت کے ماتحت کیا گیا تھا اور 30 جون 2010 کواس سلسلے میں باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کیا گیا تھا جس کے بعد جناح اسپتال سمیت دیگر تینوں اسپتالوں کی انتظامیہ نے پارلیمان کے اس متفقہ فیصلے کے خلاف عدالت عالیہ سے حکم امتناع حاصل کرلیا تھا۔

حکم امتناع کو ڈیڑھ سال سے زائدعرصہ گزرگیا لیکن کوئی فیصلہ نہیں کیا جا سکاجس کی وجہ سے جناح اسپتال سمیت تینوں اسپتالوں پر نہ توصوبائی محکمہ صحت کا کنٹرول ہے اور نہ ہی وہ وفاق کے ماتحت ہیں جبکہ ان تینوں اسپتالوں کو حکومت سندھ ہی 2 سال سے بجٹ فراہم کررہی ہے ،دوسری جانب ان تینوں اسپتالوں کے ملازمین بھی 2 سال گزرنے کے بعد تذبذب کا شکارہیں، ملازمین کا کہنا ہے کہ تینوں اسپتالوں میں ملازمین کی ترقیاں کی جارہی ہیں اور نہ بھرتیاں کی گئیں جبکہ جناح اسپتال میں 6 پروفیسرز حضرات اپنی مدت ملازمت مکمل کرچکے ہیں اوران کی جگہ کسی اورکی تعیناتیاں بھی نہیں کی جا سکیں۔



جناح اسپتال میں صوبائی اور وفاقی حکومت کاکنٹرول نہ ہونے سے اسپتال کا انتظامی ڈھانچہ بھی درہم برہم دکھائی دیتا ہے یہی وجہ ہے کہ گزشتہ ہفتے اسپتال 10 دن ہڑتال کی نذررہا ،بعدازاں دو انتظامی افسران نے اپنے عہدوں پر برقراررہنے کیلیے محکمے کے بجائے عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر صوبائی محکمہ صحت نے بھی عدالت میں 2 علیحدہ علیحدہ درخواستیں کردیں جس میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ جناح اسپتال کی انتظامیہ نے تقریباڈیڑھ سے عدالت عالیہ سے حکم امتناعی حاصل کیا ہوا ہے جبکہ حکم امتناعی 6 ماہ سے زیادہ کا نہیں ہوتا محکمہ نے عدالت سے التجا کی ہے کہ جلد فیصلہ کیاجائے جبکہ دوسری درخواست میں محکمہ صحت نے یہ موقف اختیار کیا ہے کہ عدالت کو اختیارنہیںکہ کہ وہ انتظامی تبدیلیاں کریں۔

دوسری جانب ڈیلوشن کے تحت ختم کی جانے والی وفاقی وزارت صحت کے نام کی تبدیلی کرکے سابقہ حکومت نے نیشنل ریگولیشینزسروسزکے نام پرنئی وزارت قائم کرلی جس کے تحت ڈرگ ریگولیٹری،ادویات کاشعبہ، ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سمیت دیگر شعبے اوربعض قومی پروگرامزکووفاق ہی کے ماتحت کردیا گیا جس کے بعد18 ترمیم ابہام کا شکار ہوگئی۔

2 سال قبل جون میں 18ویں ترمیم کی منظوری کے بعد صحت کے شعبے کومکمل طورپرصوبائی حکومت کے ماتحت کرنے کے احکامات جاری کیے گئے تھے لیکن وفاق نے عالمی اداروںکی امداد سے چلنے والے بیشتر منصوبے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ان میں نیشنل پروگرام آف ایمونائزیشن سمیت دیگر 12 قومی پروگرامز بھی شامل ہیں جبکہ سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری ،ادویات کی قیمتوںکاتعین، پرائسنسنگ وکوالٹی کنٹرول سمیت دیگر شعبے بھی وفاق ہی نے 2 سال سے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں۔

جناح اسپتال، قومی ادارہ اطفال اورقومی ادارہ امراض قلب2 سال گزرنے کے بعد بھی صوبائی محکمہ صحت کے ماتحت نہیں کیے جاسکے اس صورتحال پرصوبائی محکمہ صحت نے اپنے تحفظات کااظہارکرتے ہوئے کہا کہ پارلیمان کے فیصلے پر مکمل عملدرآمد نہیں کیا گیا، واضح رہے کہ اس وقت وفاقی سول سرجن، اسٹیبلشمنٹ ڈویثرن، سینٹرل ڈرگ ٹیسٹنگ لیبارٹری سمیت دیگر شعبے تاحال وفاق کے ماتحت ہی کام کررہے ہیں۔