دنیا کی 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں سے 47 امریکی ہیں، رپورٹ

ویب ڈیسک  پير 10 دسمبر 2018
اسلحہ فروخت کرنے والی دنیا کی 10 بڑی کمپنیوں میں 5 امریکی ہیں (فوٹو : فائل)

اسلحہ فروخت کرنے والی دنیا کی 10 بڑی کمپنیوں میں 5 امریکی ہیں (فوٹو : فائل)

اسٹاک ہوم: دنیا بھر میں اسلحہ اور اس سے متعلق ساز و سامان کی نصف تعداد امریکی کمپنیاں تیار کرتی ہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق دنیا بھر میں اسلحے کے فروغ اور اسلحہ سازی کی صنعت کے حوالے سے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) نے 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں کے نام کے ساتھ تازہ رپورٹ جاری کی ہے۔

دنیا بھر میں جنگوں، اسلحہ سازی، تنازعات اور دفاعی ساز و سامان سے متعلق ریسرچ کرنے والے ادارے (SIPRI) نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ 2017ء میں 2.5 فیصد اضافے کے ساتھ  اسلحے کی 398.2 بلین ڈالر کی خرید و فروخت ہوئی۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 100 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں 47 امریکی ہیں جو دنیا بھر میں اسلحے کی نصف تعداد تیار کررہی ہیں جب کہ دنیا کی 10 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں 5 امریکی ہیں۔ امریکی کمپنی لاک ہِیڈ مارٹن اول نمبر پر براجمان ہے جس نے 44 بلین ڈالرز کا کاروبار کیا۔

دفاعی ساز و سامان کی تیاری میں روس نے برطانیہ سے اعزاز چھین کر دوسرے نمبر پر قدم جمالیے، تیزی سے ترقی کے منازل طے کرنے والی روسی کمپنی ’الماز آنتے‘ پہلی بار 10 بڑی اسلحہ ساز کمپنیوں میں شامل ہوئی۔ برطانیہ بدستور مغربی یورپی ممالک کو اسلحہ فراہم کا سب سے بڑا ملک ہے۔

اسپری (SIPRI) نے اپنی رپورٹ میں مزید کہا کہ چینی کمپنیاں بھی بڑی مقدار میں اسلحہ فروخت کر رہی ہیں تاہم ان کے بارے میں بہت کم اعداد و شمار جاری کیے جاتے ہیں۔ اس لیے چین کو کس فہرست میں رکھا جائے، یہ فیصلہ کرنا مشکل ہے جب کہ اسلحہ فروخت کرنے والے ممالک کی دوڑ میں اسرائیل نے بھی اپنی پوزیشن بہتر کرلی ہے۔

مسلمان ممالک میں ترکی کی اسلحہ ساز کمپنیوں نے حیران کن نتائج دے کر خریداروں کو اپنی جانب متوجہ کرلیا۔ ترکی نے اسلحے کی فروخت کو 2016ء کے مقابلے میں 2017ء میں 27 فیصد کے اضافے پر پہنچا دیا جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ترکی دفاعی ساز و سامان کی صنعت میں خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ زرمبادلہ بھی کما کر معیشت میں بہتری کا خواہاں ہے۔

واضح رہے کہ دنیا بھر میں سب سے زیادہ اسلحہ خریدنے والے ممالک میں بھارت، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات شامل ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔