بلوچستان بحران کہیں دیر نہ ہوجائے

بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے، وزیراعظم نواز شریف


Editorial July 03, 2013
بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف ۔ فوٹو : ایکسپریس نیوز

وزیر اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشتگردی برداشت نہیں کریں گے۔ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ اور لاپتہ افراد کا حساب لیا جائے گا، کوئٹہ20 بازاروں اورگلیوں کا شہر ہے اسے کنٹرول کرنا کون سا مشکل کام ہے؟ تمام خفیہ ایجنسیاں وزیر اعلیٰ بلوچستان سے تعاون کریں، وزیر اعظم منگل کو ہنگامی دورے پر کوئٹہ پہنچے، وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان، وزیر اطلاعات پرویز رشید، پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے سربراہ محمود اچکزئی اور نیشنل پارٹی کے میرحاصل بزنجو بھی ان کے ساتھ تھے۔

وزیر اعظم کی زیرصدارت گورنر ہاؤس میں اعلیٰ سطح کا اجلاس ہوا جس میں دہشتگردی کے حالیہ واقعات سمیت صوبے میں امن وامان کی مجموعی صورتحال کا جائزہ لیا گیا۔وزیراعظم نے بلوچستان سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے جس عزم کا اظہار کیا ہے وہ ملک کی موجودہ گمبھیر صورتحال میں قومی امنگوں کا آئینہ دار ہے۔ دہشت گردوں نے اپنے ایجنڈے پر عمل درآمد کے لیے پورے ملک کو میدان جنگ بنا دیا ہے جب کہ اس جنگ کا پانسہ پلٹنے کے لیے ایک دنداں شکن اورموثر ملک گیر مشترکہ حکمت عملی کی ضرورت ہے جس کے فقدان پر میڈیا اور عدلیہ نے جس شدت کے ساتھ آواز اٹھائی ہے اس کی بازگشت شاید سابق حکمرانوں نے سنی ہی نہیں ، بلوچستان بیوروکریسی کے تجاہل عارفانہ کا بھی ستم رسیدہ ہے۔

اسے توجہ کی ضرورت تھی، عوام سرداری اور قبائلی نظام سے جدید دور کے ثمرات کو ترستے رہے،غربت و پسماندگی میں بلوچوں کے کئی خواب جل کر راکھ ہوگئے، جب کہ دوسری طرف دہشت گردوں کی دیدہ دلیری کا عالم یہ ہے کہ وہ ہزاروں فٹ بلند برف پوش پہاڑوں کی چوٹی کے بیس کیمپ میں جاکر غیرملکی کوہ پیماؤںکو گولیوں سے بھون ڈالتے ہیں، شہروں میں فرقہ واریت اور لسانی منافرت کی آگ بھڑکا کر ٹارگٹ کلنگ کا بازار گرم کرتے ہیں،اس عفریت سے نمٹنے کے لیے سوز جگر چاہیے، انسانیت کے قاتلوں کو چھوٹ دی گئی تو وہ ریاستی نظام کے خلاف سازشوں سے باز نہیں آئیں گے۔

اس لیے اب جب کہ وزیراعظم چین کے دورے سے قبل کوئٹہ آئے تو اس کا واضح مطلب یہ ہے کہ حکومت عمومی دہشت گردی اور بلوچستان بحران کو الگ کرکے اس کے روایتی حل سے بہت آگے جانا چاہتی ہے ، اور اسے جانا بھی چاہیے کیونکہ بلوچستان کی چنگاری اب شعلہ جوالہ بن چکی ہے،دہشت گردی کی لہر ہزارہ برادری سمیت کوئٹہ اور صوبہ کے دیگر علاقوں میں تسلسل کے ساتھ جاری ہے ، اسے کراچی فاٹا اور پشاور میں ڈرون حملوں اور دہشت گردی کے واقعات کے تناظر میں دیکھا جائے تو محب وطن آنکھ اشکبار ہوتی ہے کہ مادر وطن سے ظالمان اور دیگر انتہا پسند اور فرقہ وارانہ ہلاکتوں کے خوگر عناصرآخر کس بات کا انتقام لے رہے ہیں۔

بلوچستان کی مخدوش اور شورش زدہ صورتحال سے قطع نظر ملک کے مختلف علاقے دہشت گردی کی زد میں ہیں۔ وزیراعظم نے آئی ایس آئی اور آئی بی کے سربراہوں سے کہا کہ دہشتگردی کے حالیہ واقعات کو ٹیسٹ کیس کے طور پر لیں اور ملوث ملزمان کا سراغ لگائیں۔ ادھرپشاور کے نواحی علاقہ ارمڑمیں بندوبستی اور ایف آر کے بارڈر اور پولیس اورایف سی کی مشترکہ چیک پوسٹ پر درجنوں عسکریت پسندوں نے حملہ کردیا جس میں تین ایف سی اہلکار زخمی ہو گئے ۔ شمالی وزیرستان میں امریکی ڈرون حملہ میں7 افراد جاں بحق ہوگئے۔کراچی میں ٹارگٹ کلنگ کا ایسا گھناؤنا چکر چلا ہے کہ لیاری میں دن رات ہولناک فائرنگ اور شہر میں تشدد آمیز وارداتوں کا سلسلہ جاری ہے مگر مجال ہے کہ کوئی قاتل موقع پر گرفتار ہو ۔

اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان میں ٹارگٹ کلنگ،دہشتگردی کے واقعات کی روک تھام اور لاپتہ افراد کی بازیابی کے لیے حکومت سنجیدہ ہے، صوبے میں امن کے قیام کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کریگی۔ بعدازاں میڈیا سے گفتگو میں وزیر اعظم نے کہا کہ دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خاتمے کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے موثر حکمت عملی بنائیں گے اور خیبر سے گوادر تک ملک کو امن کا گہوارہ بنائیں گے۔ ان کے تدارک کے لیے انتظامیہ اور پولیس کے اندر نیا جذبہ پیدا کیا جائے، پولیس کو ذمے داریوں کا احساس دلایا جائے اور ٹارگٹ کلنگ روکی جائے ۔

نواز شریف نے فوج اور پولیس کے جوانوں کو خراج عقیدت پیش کیا اور کہا کہ انھوں نے جانوں کی قربانی دیکر دہشتگردوں کا خاتمہ کیا، اس طرح جانفشانی سے کام ہوا تو دہشتگردی، ٹارگٹ کلنگ اور لاپتہ افراد کا سلسلہ بند ہو جائے گا،کوئٹہ سمیت ملک بھر میں جہاں ہماری حکومتیں نہیں، کراچی اور سندھ میں بھی بدامنی کے خاتمے کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون کریگی۔وزیر اعظم نے کہا کہ وہ جانتے ہیں کہ خیبر سے کراچی تک پورا ملک دہشتگردی کی آگ میں جل رہا ہے۔ مشترکہ لائحہ عمل تیار کرنے کے لیے دورہ چین سے واپسی پر سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی کانفرنس بلائیں گے ۔

سانحہ ہزارہ ٹاؤن جیسے واقعات برداشت نہیں کیے جائیں گے۔ بعدازاں ہزارہ برادری کے وفد نے رکن صوبائی اسمبلی سید رضا آغا کی قیادت میں وزیر اعظم سے ملاقات کی، اس موقع پر وزیر اعظم نے کہا کہ بلوچستان کے شہریوں خصوصاً ہزارہ برادری کی سیکیورٹی کے لیے مربوط پلان تشکیل دیا جا رہا ہے، انھوں نے ہزارہ برادری کے ساتھ ہونے والے واقعات پر اظہار افسوس کرتے ہوئے یقین دلایا کہ حکومت اپنی ذمے داری کو نبھاتے ہوئے کوئی کسر اٹھا نہیں رکھے گی اور ایسے واقعات میں ملوث عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا، حکومت بلوچستان کو ہدایت کی گئی ہے کہ کوئٹہ میں سیکیورٹی پلان بہتر بنا کر دہشت گردی کی موثر روک تھام کی جائے۔وزیراعلیٰ ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بھی ہزارہ ٹاؤن جاکر برادری کے اکابرین اور حالیہ سانحہ کے متاثرین اور غم زدگان سے تعزیت کی اور یقین دلایا کہ انھیں اکیلا نہیں چھوڑا جائے گا۔

بلوچستان کا بحران درحقیقت برس ہا برس کی چپقلش، عاقبت نااندیشیوں اور غلط انتظامی فیصلوں اور کرپشن کا نتیجہ ہے،اسے ادارہ جاتی رعونت ، ضد ،بدگمانی اور انا کے گنبدوں میں رہتے ہوئے کوئی حل نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے سیاسی و عسکری سٹیبلشمنٹ اور سیاست دانوں کو کشادہ دلی،در گزر ،تدبر، تحمل،وژن اور جنرل ڈیگال جیسی ''فرانس بچاؤ''جدوجہدکی ضرورت ہے،ایک غیر متزلزل عزم اور اہل بلوچستان کی امنگوں اور قومی احساسات و مفادات کی روشنی میں طے پانے والے کسی میثاق و مفاہمتی فارمولے پر عملدرآمد کرتے ہوئے صوبہ بلوچستان کو تباہی سے بچایا جا سکتا ہے ۔چنانچہ غیر ممالک میں مقیم بلوچ رہنماؤں کے علاوہ سرمچاروں اور پہاڑوں پر جانے والوں کو بلاکر جلد مکالمے کا سلسلہ شروع کیا جائے ۔ڈاکٹر مالک دیر نہ کریں۔

سب کو دعوت دیں ،باہر جانا پڑے تو ضرور جائیں ، انھیں قائل کریں کہ وطن لوٹ آئیں ۔ بلوچستان بحران کا حل وزیراعظم ہاؤس، ایوان صدر، عسکری اسٹیبلشمنٹ، میڈیا، عدلیہ ، قانون نافذ کرنے والے مقامی اداروں، بلوچ مین اسٹریم اور مزاحمت کار سیاسی جماعتوں ، قبائلی عمائدین، اور سول سوسائٹی سے جڑا ہوا ہے۔لاپتا افراد اور مسخ شدہ لاشوں نے بلوچستان کے مسئلے کو آتش کدہ کی شکل دی ہے اس تپش کے حوالے سے سپریم کورٹ کی بھی ہدایت ہے کہ قومی سلامتی کے نام پر انسانی حقوق کی پامالی نہ ہو۔ بلوچستان ٹیسٹ کیس ہے اس کا فیصلہ قومی امنگوں کے مطابق ہونا چاہیے اور جلد ہونا چاہیے۔کہیں دیر نہ ہوجائے ۔