آئی ایم ایف کا نیا قرضہ

بعض معاشی ماہرین کی جانب سے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر اعتراض کیا جارہا ہے۔


Editorial July 05, 2013
حکومت کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے ملکی وسائل کے بہتر استعمال کی منصوبہ بندی کرنا چاہیے تھی۔ فوٹو: فائل

پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان کامیاب مذاکرات کے بعد آسان شرائط پر 5 ارب 30کروڑ ڈالر قرضے کا 3 سالہ معاہدہ طے پا گیا ہے' معاہدے کے تحت قرضے پر شرح سود تین فیصد ہو گی۔ قرضے کی واپسی چار سال بعد شروع ہو گی جو چھ سال میں مکمل ہو گی' قرض کی حتمی منظوری آئی ایم ایف کا ایگزیکٹو بورڈ ستمبر میں دے گا۔

بعض معاشی ماہرین کی جانب سے حکومت کی جانب سے آئی ایم ایف سے قرضہ لینے پر اعتراض کیا جارہا ہے کہ موجودہ حکومت نے کشکول توڑنے کی بات کی تھی مگر وہ کشکول توڑنے کے بجائے آئی ایم ایف سے مزید قرضہ مانگ رہی ہے۔ قرضہ لینے سے ملک پر قرضوں کے بوجھ میں مزید اضافہ ہو گا اور پاکستان کی معاشی مشکلات کم ہونے کے بجائے مزید بڑھیں گی۔ حکومت کو آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کے بجائے ملکی وسائل کے بہتر استعمال کی منصوبہ بندی کرنا چاہیے تھی، سالانہ اربوں روپے کی کرپشن ہی روک لی جائے تو حکومت کو قرضہ لینے کی ضرورت نہیں رہے گی۔ معاشی ماہرین کے اعتراضات اپنی جگہ مگر یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ موجودہ حکومت کو خراب اور ٹوٹی پھوٹی معیشت ورثے میں ملی ہے اور ملکی اداروں کی حالت یہ ہے کہ کوئی بھی درست سمت رواں نہیں' پی آئی اے' ریلوے اور پاکستان اسٹیل سمیت کئی ادارے 450 ارب روپے کے خسارے میں جا رہے ہیں جو ملکی معیشت پر بہت بڑا بوجھ ہیں۔

ایک طرف امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال ہے' دہشت گردی نے پوری ملکی معیشت کو اپنے شکنجے میں جکڑ رکھا ہے جو پنپنے کے بجائے کمزور سے کمزور تر ہوتی جا رہی ہے۔ دوسری جانب آئی ایم ایف کے قرضے ہیں جنھیں ادا کرنا بھی ضروری ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قرضہ لینے کے عمل کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قرضہ پاکستان کو نادہندگی سے بچانے کے لیے ہے' اگر آئی ایم ایف سے قرضہ نہ لیتے تو ملک دیوالیہ ہو جاتا۔ انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اپنی ضروریات کے لیے نہیں پچھلے قرضوں کی ادائیگی کے لیے نیا قرضہ لیا جا رہا ہے۔ قرضہ لینا کوئی اچنبھے کی بات نہیں' دنیا بھر کی حکومتیں اپنے معاشی مسائل پر قابو پانے کے لیے قرضہ لیتی اور اپنے ترقیاتی منصوبوں کو پایہ تکمیل تک پہنچاتی ہیں۔ موجودہ حکومت بھی جس معاشی گرداب میں پھنسی ہوئی ہے اس کے لیے یہ قرضہ ناگزیر ہو چکا تھا۔

اس وقت آئی ایم ایف کی فوری قسط کی ادائیگی کا مسئلہ تھا اور جیسا کہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وضاحت کی ہے کہ اگر قسط کی ادائیگی کے لیے یہ قرضہ نہ لیا جاتا تو ملک دیوالیہ ہو سکتا تھا۔ خدانخواستہ پاکستان دیوالیہ قرار دے دیا جاتا تو نہ صرف پوری دنیا میں پاکستان کی ساکھ بری طرح متاثر ہوتی بلکہ اندرون ملک بھی معاشی حالات خراب سے خراب تر ہو جاتے لہذا حکومتیں اپنے معاشی مسائل پر قابو پانے کے لیے قرضہ لینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ اس تناظر میں قرضہ لینا کوئی برائی نہیں اصل مسئلہ اس کے استعمال کا ہے۔ اگر قرضے کا استعمال صحیح اور بہتر انداز میں کیا جائے تو اس سے بگڑی ہوئی معیشت کو خوشحالی کے ٹریک پر لایا جا سکتا ہے۔ اگر قرضے کا غلط استعمال کیا جائے اور جس مقصد کے لیے اسے لیا گیا اس پر اسے خرچ کرنے کے بجائے حکمران طبقہ اپنے اللے تللے پورے کرنے پر اسے برباد کر دے تو ملکی معیشت مزید دبائو میں آ جاتی اور قرضوں کا بوجھ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔

جمعرات کو آئی ایم ایف کے کنٹری ہیڈ جیفری فرینکس کے ساتھ مشترکہ بریفنگ میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے سابق حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ایک برس کے دوران اس نے 2 ہزار ارب روپے کے قرضے لیے اور آنے والی حکومت پر بہت بڑا بوجھ ڈال دیا' انھوں نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ حکومت نے قرض لیا اور جب ان کی ادائیگی کا وقت آیا تو حکومت کی مدت پوری ہو گئی۔ سابق حکومت پر سب سے زیادہ اعتراض یہ ہی کیا جاتا ہے کہ اس نے بڑی تعداد میں غیر ملکی قرضے حاصل کیے مگر اس کا درست استعمال کہیں نظر نہیں آتا۔ ملک میں بڑے ترقیاتی منصوبے تو کیا شروع کرنے تھے موجودہ اداروں کو ہی کمزور کر دیا گیا اور وہ خسارے کا شکار ہو گئے۔ اب موجودہ حکومت پر بھی بھاری ذمے داری آن پڑی ہے کہ وہ ملکی معیشت کو درست ٹریک پر لانے کے لیے ملکی اداروں کو خسارے سے نکالے جب تک بڑے بڑے ملکی ادارے خسارے سے نکل کر منافع بخش نہیں ہوں گے ملکی معیشت اپنے پائوں پر کھڑی نہیں ہو سکے گی اور حکومت کو ہر سال مزید غیر ملکی قرضہ لینے پر مجبور ہونا پڑے گا۔

دوسری جانب سیاستدانوں کو بھی حکومت اور آئی ایم ایف پر تنقید کرتے ہوئے یہ حقیقت مدنظر رکھنا چاہیے کہ آئی ایم ایف مالی مسائل میں مبتلا ممالک کی قرض کی صورت میں مدد کرتا ہے۔ جب یہ سیاستدان اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو آئی ایم ایف پر تنقید شروع کر دیتے ہیں مگر جب اقتدار میں آتے ہیں تو قرضہ لینے کے لیے پھر آئی ایم ایف کے دروازے ہی پر جاتے ہیں۔ لہٰذا انھیں آئی ایم ایف پر تنقید کرنے کے بجائے قرضوں کے درست استعمال پر توجہ دینی چاہیے۔ یہ حقیقت بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضہ لینے کی صورت میں اس کی کڑی شرائط کو بھی ماننا پڑتا ہے۔ بی بی سی کے مطابق نئے قرض کے بدلے میں پاکستان کو اپنے ٹیکس نظام میں اصلاحات اور سبسڈی کے خاتمے سمیت بعض مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ملکی معیشت میں اتنی سکت نہیں کہ حکومت عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے سکے لہذا اس نے بجلی اور گیس کے بلوں پر دی جانے والی رعایتی قیمتیں یا سبسڈی کو ختم کرنے کا فیصلہ پہلے ہی کر رکھا ہے۔

آئی ایم ایف کے اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ ٹیکس مراعات کے تمام ایس آر او ختم کیے جائیں' سب کے لیے یکساں ٹیکس نظام بنایا جائے۔ اس قرضہ کے بارے میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف کی جانب سے حکومت کے معاشی ایجنڈے سے ہٹ کر نہ کوئی شرائط پیش کی گئیں اور نہ حکومت نے قبول کیں۔ موجودہ حکومت کو معاشی مسائل پر قابو پانے کے لیے مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے مگر ان فیصلوںمیں اس امر کا خیال رکھنا ضروری ہو گا کہ عام طبقے پر جو پہلے ہی معاشی مسائل کے دبائو میں پسا ہوا ہے مزید بوجھ نہ پڑے۔