محفوظ ادویہ کی ترسیل فارماسسٹ کے بغیر ممکن نہیںپیرزادہ قاسم

فارمیسی نصاب میں تبدیلی لائی جائے،ڈاکٹر عبید، ڈاکٹر عبدالباری و دیگرکا خطاب۔


Staff Reporter July 07, 2013
پاکستان سوسائٹی ہیلتھ سسٹم کے چھٹے سیمینار سے وائس چانسلر ضیا الدین میڈیکل یونیورسٹی ڈاکٹر پیرزادہ قاسم خطاب کررہے ہیں ۔ فوٹو : ایکسپریس

KARACHI: محفوظ ادویہ کی فراہمی کے لیے فارماسسٹ کی تعیناتیاں ضروری ہیں۔

فارماسسٹ کے نصاب کو جدیدتقاضوں کے مطابق ہم آہنگ کیاجائے ،یہ بات پاکستان سوسائٹی ہیلتھ سسٹم پاکستان کے تحت منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے مختلف ماہرین نے کہی، سیمینار سے ضیاالدین میڈیکل یونیورسٹی کے چانسلرپروفیسر داکٹر پیرزداہ قاسم ، پروفیسر جمال رضا ، ڈاکٹر محمد طفیل، انڈس اسپتال کے سربراہ پروفیسر ڈاکٹر عبدالباری خاں، ڈاکٹر عبید علی اور مقامی فارما کے ایم ڈی ریحان خان سمیت دیگرنے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسپتالوں اور عوام کو درست ادویہ کی فراہمی میں صرف مستند فارماسسٹ ہی کرسکتا ہے۔



تاہم پاکستان میں فارماسسٹ شعبے کو اہمیت کی بجائے پستی کا شکار کردیاگیا ہے، ماہرین کا کہنا تھا کہ صحت عامہ کے اداروں میں فارماسسٹ کی تعداد بھی ناکافی ہے جس کی وجہ سے ڈرگ ڈلیوری سسٹم پوری فعال نہیں اگر فارماسسٹ اور ڈاکٹرز مل کر کام کریں تومختلف سطح پر مریضوں کو بہتر صحت کی فراہمی کویقینی بنایاجاسکتا ہے۔ا