ایک سرکاری پیسہ بھی نکلاتو بتانا پڑیگا کہاںخرچ ہوا جسٹس جواد

آئین میں خفیہ فنڈکا تصور نہیں،آڈیٹر جنرل حساس نوعیت کے اخراجات خفیہ رکھ سکتا ہے, جسٹس جواد


Numainda Express July 09, 2013
آئین میں خفیہ فنڈکا تصور نہیں،آڈیٹر جنرل حساس نوعیت کے اخراجات خفیہ رکھ سکتا ہے, جسٹس جواد فوٹو: فائل

میڈیا کمیشن کے بارے میں مقدمے کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے آبزرویشن دی ہے آئین میں خفیہ فنڈکا کوئی تصور نہیں، سرکاری کھاتوں سے ایک پیسہ بھی نکلے گا تو یہ بتانا پڑے گا کہ خرچ کہاں ہوا۔

جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے اکاؤنٹنٹ جنرل پاکستان کی ذمہ داری ہے کہ جن اخراجات کی مدکے بارے میں تفصیلات موجود نہ ہوں اس کیلئے فنڈ جاری نہ کریں، فاضل جج نے کہا ہرادارہ پابند ہے کہ وہ بتائے کہ عوام کے خون پسینے کی کمائی کہاں خرچ کی گئی۔جسٹس جواد ایس خواجہ کی سربراہی میں 3 رکنی بنچ نے سماعت کی۔اٹارنی جنرل منیر اے ملک نے بتایا کہ سرکاری خزانے سے خرچ ہونے والاایک ایک پیسہ قابل آڈٹ ہے،18ویں ترمیم کے بعدکہیں پر بھی آڈٹ سے استثنیٰ نہیں تاہم آڈیٹر جنرل کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ حساس نوعیت کے اخراجات کو خفیہ رکھے۔جسٹس جواد نے کہاکہ 2010کے بعد آئین تبدیل ہو چکا ہے۔



اگر اخراجات کی تفصیل نہ ہو تو فنڈ واگزار نہیںکیا جا سکتا، سرکاری اخراجات کے بارے میں ہم اپنے آئین کو دیکھیں گے، فاضل جج نے کہا میڈیا کمیشن کی رپورٹ بھی آگئی ہے اور ہم کیس کو بھی سمجھ چکے ہیں سب کو سننے کے بعد فیصلہ دیا جائیگا ۔جسٹس جواد نے کہا کہ آڈٹ اور فنڈزکو خفیہ رکھنا دو الگ ایشوز ہیں، آڈٹ سے استثنیٰ نہیں،آڈٹ کے بعد آڈیٹر جنرل کا صوابدیدی اختیار ہے۔ درخواست گزار حامد میر نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کے اختیارات لامحدود ہیں لیکن وہ اس کو استعمال نہیں کرتا۔ڈاکٹر باسط نے کہا پچاس فیصد بجٹ دفاع کی نظر ہو جاتا ہے جو غیر منصفانہ ہے، آڈٹ کے ساتھ اس کا بھی فیصلہ کیا جائے اس پر جسٹس جواد نے کہا کس کوکتنا بجٹ جائے گا یہ کام پارلیمنٹ کا ہے، عدالت صرف یہ چاہتی ہے مختص بجٹ کا باقاعدہ حساب کتاب ہوکیونکہ یہ آئینی پابندی ہے۔اس کیس کی مزید سماعت دس جولائی تک ملتوی کر دی گئی۔