وزیراعظم کا آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات میں یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے آپس میں رابطے ہیں۔


Editorial July 12, 2013
اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ نئی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے تناظر ہی میں کیا۔ فوٹو: فائل

وزیراعظم محمد نواز شریف نے جمعرات کو آئی ایس آئی کے ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا جہاں انھیں ملک کو درپیش سیکیورٹی کی صورتحال کے بارے میں 5 گھنٹے تک تفصیلی بریفنگ دی گئی۔ وزیراعظم کا یہ دورہ اور بریفنگ عالمی اور ملکی حالات کے تناظر میں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں اور اس کے مستقبل میں اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔

وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے انتخابی ایجنڈے کے مطابق ملک کو ترقی دینے کے لیے مختلف منصوبے تشکیل دے رہے ہیں۔ ان کا حالیہ چین کا دورہ بھی ملک کو توانائی کے بحران سے نکالنے' بگڑتی ہوئی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور نئے ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے تناظر میں تھا، ان کا دورہ چین انتہائی کامیاب رہا اور چین نے پاکستان میں مختلف ترقیاتی منصوبے شروع کرنے کے معاہدے کیے۔ وزیراعظم ایک جانب ملکی ترقی کے لیے کوشاں ہیں تو دوسری جانب دہشت گردی کا عفریت سب کچھ سبوتاژ کرنے پر تلا ہوا ہے۔ سانحہ نانگا پربت سے پوری دنیا میں پاکستان میں امن و امان کے حوالے سے تشویش کی لہر دوڑ گئی' غیر ملکی کمپنیوں کے ماہرین اور سیاحوں کی جان و مال کے تحفظ کے سوالات اٹھائے جانے لگے۔

وزیراعظم نواز شریف کے حالیہ دورہ چین کے دوران بھی چینی حکومت نے سانحہ نانگا پربت پر بات چیت کی۔ اب جب وزیراعظم نواز شریف نے چین کے ساتھ بہت سے ترقیاتی معاہدے کیے ہیں جن کی تکمیل کے لیے چینی ماہرین اور کارکنوں کی بڑی تعداد پاکستان آئے گی' ان کے جان و مال کا تحفظ یقینی بنانا بہت ضروری ہے۔ دہشت گرد جس انداز میں پورے ملک میں پھیلے ہوئے اور اپنی مذموم کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں اگر مستقبل میں غیر ملکی ماہرین اور کارکنوں کے ساتھ خدانخواستہ کوئی دہشت گردی کا واقعہ رونما ہوجاتاہے تو اس سے نہ صرف پوری دنیا میں پاکستان کی بدنامی ہو گی بلکہ غیر ملکی سرمایہ کاری کا عمل بھی شدید متاثر ہو گا۔ غیر ملکی کمپنیاں حکومتی یقین دہانی کے باوجود پاکستان آنے میں ہچکچائیں گی اور حکومت سے پہلے اپنا تحفظ یقینی بنانے کی ضمانت مانگیں گی۔ ایسے میں حکومت پاکستان کو بھی دنیا بھر میں اپنی تجارتی ساکھ اور ترقی کا امیج بہتر بنانے میں مشکلات اور مسائل کا سامنا کرنا پڑے گا۔

انھی خدشات کے تناظر میں وزیراعظم نواز شریف نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے موقع پر ملک میں ترقیاتی منصوبوں پر کام کرنے والے چینی اور دیگر غیر ملکی ماہرین اور کارکنوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے کے لیے ایک مربوط اور جامع حکمت عملی ترتیب دینے پر زور دیا۔ غیر ملکی کمپنیوں کو تحفظ ملے گا تو وہ ترقیاتی منصوبوں پر کام کریں گی، عدم تحفظ کا احساس ابھرنے پر وہ تمام منصوبے ادھورے چھوڑ کر واپس چلی جائیں گی جس کا نقصان پاکستان کو اٹھانا پڑے گا۔ اس لیے دہشت گردی ملکی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن چکی ہے۔ وزیراعظم نے بھی ان خطرات کی نشاندہی کرتے ہوئے صائب کہا کہ ملک سے عسکریت پسندی اور دہشت گردی کا خاتمہ کیے بغیر ہم آگے نہیں بڑھ سکتے اور ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ انھوں نے دہشت گردی کے عذاب سے چھٹکارا پانے کے لیے واضح کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں کر سکتے' پاکستان مزید دہشت گردی کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

میاں نواز شریف نے 12 اکتوبر 1999ء میں اپنی حکومت کے خاتمے کے بعد تیسری بار وزیراعظم بننے کے بعد 14 سال بعد پہلی مرتبہ آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا۔ ڈی جی آئی ایس آئی کی طرف سے دی جانے والی بریفنگ کے دوران وزیراعظم نواز شریف کو سیکیورٹی کے حوالے سے ملک کو درپیش چیلنجز' مشرقی و مغربی سرحدوں کی صورتحال' دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ اور افغانستان سے امریکی افواج کے انخلا کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال کے بارے میں تفصیلاً آگاہ کیا گیا۔ دہشت گردی نے اندرون اور بیرون ملک پاکستان کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ کاروباری طبقہ خوف اور مایوسی کا شکار ہو کر اپنا سرمایہ بیرون ملک منتقل کر رہا ہے ایسے میں پاکستان میں سرمایہ کاری کے فروغ کا عمل متاثر ہونے سے ملکی معاشی صورتحال میں بگاڑ پیدا ہورہا ہے۔ اس بگاڑ کا سبب بننے والے بنیادی عنصر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے وزیراعظم نئی قومی سلامتی پالیسی تشکیل دینے کے لیے کوشاں ہیں۔

اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعظم نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ نئی قومی سلامتی پالیسی کی تشکیل کے تناظر ہی میں کیا۔ ذرایع کے مطابق میاں نواز شریف نے آئی ایس آئی کے اعلیٰ حکام سے ملک میں خفیہ اداروں کے مابین انٹیلی جنس شیئرنگ کے فارمولے اور خصوصاً کوئٹہ میں سیکیورٹی اداروں کی مسلسل ناکامی کے بارے میں کئی سوالات اٹھائے۔ ذرایع کا کہنا ہے کہ اس موقع پر ملک میں تشکیل دی جانے والی نئی سیکیورٹی پالیسی کے متعلق اعلیٰ عسکری حکام سے تفصیلی مشاورت کی گئی۔ دہشت گردی کے رونما ہونے والے واقعات میں یہ بات عیاں ہو چکی ہے کہ ملک بھر میں دہشت گردوں کے آپس میں رابطے ہیں اور وہ کوئی بھی واردات منظم انداز میں باہم تعاون سے کرتے ہیں۔ یہی سبب ہے کہ سیکیورٹی کے تمام ادارے دہشت گردوں کو اپنے شکنجے میں کسنے میں ناکام ہو چکے ہیں۔ اسی حقیقت کا درست ادراک کرتے ہوئے وزیراعظم نواز شریف نے تمام قومی اداروں کو قومی جذبے کے ساتھ مربوط انداز میں کام کرنے خصوصاً انٹیلی جنس اداروں کے باہمی تعاون پر زور دیا۔

انھوں نے واضح کر دیا کہ مربوط انداز میں کوآرڈی نیشن کے ساتھ کام کرکے بہتر نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ وقت کا تقاضا بھی یہی ہے کہ مرکزی اور صوبائی سطح پر کام کرنے والے تمام انٹیلی جنس اداروں کے مابین باہمی رابطے کا نظام مربوط کیا جائے۔ ان کے درمیان ہم آہنگی اور باہمی تعاون کا نظام جتنا مضبوط ہو گا' دہشت گردی پر قابو پانے میں اتنی ہی آسانی ہوگی' تنہا کوئی بھی ادارہ خواہ وہ کتنی ہی جانفشانی اور لگن سے کام کرے' دہشت گردی پر قابو نہیں پا سکتا۔ پاکستان میں چین بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کرنے کے معاہدے کر چکا ہے۔

چینی کمپنیوں کے آنے کے بعد دیگر ممالک کی کمپنیوں کو بھی سرمایہ کاری کی تحریک ملے گی مگر اس کے لیے ناگزیر ہے کہ چینی کمپنیوں کو اپنے منصوبے پایہ تکمیل تک پہنچانے میں بھرپور تحفظ فراہم کیا جائے۔موجودہ صورت حال کے تناظر میں دہشت گردی کا عفریت ملکی ترقی کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ بن کر سامنے آیا ہے۔ اسی امر کے پیش نظر وزیراعظم نے بھی اپنی پالیسی واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ حکومتی ایجنڈے میں سرفہرست ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ مرکزی اور صوبائی سطح پر قومی سلامتی سے وابستہ تمام ادارے ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں اور دہشت گردی کے ناسور کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے قومی جذبے کے ساتھ مربوط اور منظم انداز میں اپنی صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔