دہشت گردی کے خاتمے کیلیے موثر انٹیلی جنس میکنزم کی ضرورت

وزیراعظم نواز شریف نے جمعہ کو اسلام آباد میں وزارت داخلہ کادورہ کیا۔ وزارت داخلہ کےحکام نے انھیں تفصیلی بریفنگ دی۔


Editorial July 13, 2013
وزارت داخلہ صوبوں کے ساتھ مل کر دہشت گردی کے خلاف پالیسی بنائے، مجھے اچھا اور قابل عمل پلان چاہئے، وزیراعظم۔ فوٹو: این این آئی

وزیراعظم میاں محمد نواز شریف نے جمعہ کو اسلام آباد میں وزارت داخلہ کا دورہ کیا۔ وزارت داخلہ کے حکام نے انھیں تفصیلی بریفنگ دی۔ اس سے گزشتہ روز وزیراعظم نے آئی ایس آئی ہیڈ کوارٹرز کا دورہ کیا تھا' جہاں انھیں ملک کو درپیش اندونی اور بیرونی خطرات پر بریفنگ دی گئی تھی۔ وزیراعظم پاکستان کے یہ دونوں دورے انتہائی اہمیت کے حامل ہیں۔ پاکستان کو اس وقت اندرونی اور بیرونی طور پر جن خطرات کا سامنا ہے' ان سے نمٹنے کے لیے ضروری ہے کہ ملک کے انٹیلی جنس اداروں کے درمیان رابطہ کار کا ایک میکنزم بنایا جائے۔

یہ دونوں دورے اسی مقصد کے حصول کے لیے ہیں۔ گزشتہ روز ہونے والی بریفنگ کے حوالے سے یہ اطلاعات شائع ہوئی ہیں کہ وزیراعظم نے متعلقہ حکام کو آگاہ کیا کہ چین پاکستان میں اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا چاہتا ہے، خطے کی تاریخ کے اس اہم موڑ پر میں امن عامہ کی صورتحال اور بالخصوص چینی انجینئروں اور سرمایہ کاروں کا تحفظ یقینی بنانے کے حوالے سے کوئی شکایت سننے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سب کو ہر قیمت پر بہترین کارکردگی دکھانا ہے، ناکامی کا آپشن ہمیں اپنی لغت سے خارج کر دینا ہو گا۔ سیکیورٹی ایجنسیوں کے باہمی ربط و ضبط کے فقدان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا کہ سیکیورٹی اداروں کو باہمی رابطے سے قومی مفاد کا تحفظ یقینی بنانا لازم ہے۔

پاکستان میں دہشت گردوں نے اب تک جو کارروائیاں کی ہیں 'اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ حکومت کے پاس موثر انٹیلی جنس رپورٹس نہیں تھیں۔ اگر وفاقی اور صوبائی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا میکنزم موجود ہو تو دہشت گردوں کے خلاف کریک ڈائون کرنا بہت آسان ہو جاتا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ پاکستان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ دہشت گرد ہیں۔ چین پاکستان میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ اس لیے دہشت گرد چینی باشندوں کو نشانہ بناتے ہیں۔ وزیراعظم کا یہ کہنا بالکل درست ہے کہ ہمارے پاس ناکامی کا آپشن نہیں ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ماضی میں ہونے والی کوتاہیوں کا ازالہ کیا جائے اور انٹیلی جنس کا ایسا میکنزم وضح کیا جائے جس کے نتیجے میں دہشت گردوں کو کارروائی سے پہلے کیفر کردار تک پہنچایا جا سکے۔