ن لیگ نے پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کا مسودہ تیارکرلیا

مسودے کی منظوری کے لیے صدر ن لیگ وزیراعظم نوازشریف سے بریفنگ کاوقت مانگ لیا گیا ہے۔


July 15, 2013
مسودے کی منظوری کے لیے صدر ن لیگ وزیراعظم نوازشریف سے بریفنگ کاوقت مانگ لیا گیا ہے فوٹو: فائل

ن لیگ نے پنجاب میں نئے بلدیاتی نظام کیلیے مسودہ قانون کی تیاری کا کام مکمل کرلیا ہے۔

مسودے کی منظوری کے لیے صدر ن لیگ وزیراعظم نوازشریف سے بریفنگ کاوقت مانگ لیا گیا ہے، نئے نظام میں دیہات میں پنچایت سسٹم، شہروں میں مصالحتی کونسلیں قائم کرنے کی تجویزدی گئی ہے۔ چیئرمین کے ساتھ ساتھ وائس چیئرمین کو بھی بااختیار بنایا جائے گا۔ ذرائع نے بتایا کہ شہروں میں وارڈ سسٹم جبکہ دیہی سطح پر یونین کونسل کا سسٹم نافذ کیا جائے گا۔5 سے25لاکھ آبادی کے شہروں میں میونسپل کمیٹی ہوگی۔25 سے50 لاکھ آبادی کے شہروں میں میونسپل کارپویشن قائم ہو گی،50لاکھ سے زائد آبادی کے شہروں میں میٹرو پولیٹن سسٹم ہوگا۔

میٹرو پولٹین سسٹم میں میئر جبکہ کارپوریشن اور میونسپل کمیٹی میں چیئرمین منتخب ہوں گے۔ دیہی سطح پر یونین کونسل کا سسٹم اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ کونسل قائم ہوگی۔ نئے بلدیاتی نظام میں شہری اور دیہی علاقوں کی تقسیم ہوگی۔ چھوٹے مسائل کے حل کیلیے پنچایت سسٹم اور مصالحتی کونسلوں کو اختیارات حاصل ہوں گے۔ صوبائی سطح پر میونسپل کمیشن قائم ہوگا جو بلدیاتی اداروں کی بے ضابطی اور دیگر امور پرنظر رکھے گا۔