کے ڈی اے میں ملازمتوں کی فروخت کی تحقیقات شروع

 شہریوں سے بھا ری رقم وصول کرکے کنٹریکٹ کی نوکریاں فر وخت کی گئیں


Staff Reporter January 14, 2019
 سمیع صدیقی نے انکوائر ی کا حکم دیدیا،حکومت کی سیکریٹری بلدیات سے رپورٹ طلب

ادارہ تر قیات کراچی میں مبینہ طور پر نوکریاں فروخت کرنے کی تحقیقات شروع کر دی گئی۔

جس میں سیکڑوں شہریوں کو بھاری رقم کے عوض کنٹریکٹ پر نوکریاں فروخت کی گئیں ، ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی نے معاملے کی انکوائر ی کا حکم دے دیا ہے رپو رٹ آنے پر کے ڈی اے کے 3افسران فضیل بخا ری ، رام چند اور عارف احمد کے خلاف محکمہ جاتی کا رو ائی کا امکان ہے۔

ذرا ئع کا کہنا ہے کہ کے ڈی اے میں کئی ماہ قبل مبینہ طو رپر بھا ری رقم کے عوض کنٹریکٹ نو کر یا ں فر وخت کی گئی ہیں جس کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے تحقیقات مکمل ہو نے پر کے ڈی اے کے 3افسران سیکریٹری کے ڈی اے فضیل بخا ری ، چیف انجینئر رام چند اور ڈپٹی ڈائریکٹر پارک اینڈ ہا رٹی کلچر عارف احمد کے خلاف کاررو ائی کا امکان ہے ،ذرا ئع کا کہنا ہے کہ تینوں افسران پر الزام ہے کہ انھوں نے رقم کے عوض کنٹریکٹ پر نوکریاں فروخت کی ہیں۔

جس کی تحقیقات شروع کر دی گئی، تینو ں افسران نے مبینہ طو ر پر رقم کے عوض سیکڑوں افراد کو کنٹریکٹ نوکریاں فروخت کی ہیں، سندھ حکومت نے بھی کے ڈی اے میں نوکر یاں فر وخت کرنے پر فوری طو ر سیکریٹری بلدیات سے رپورٹ طلب کی ہے، سیکر یٹری کے ڈی اے فضیل بخا ری صورتحال منظر عام پر آنے کے بعد سے دفتر با قاعدگی سے نہیں آ ر ہے،عارف احمد اور رام چند نے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا شروع کر دیا اور اس معاملے کو دبا نے کی کوشش میں مصروف ہیں۔