بارشوں اور سیلاب سے ہونے والی تباہی

پاکستان میں مون سون بارشیں جاری ہیں‘ان ایام میں غیرمعمولی بارشیں ہوتی ہیں جن کےباعث ندی‘نالوں اوردریائوں میں سیلابی۔۔۔


Editorial July 21, 2013
پاکستان میں مون سون بارشیں جاری ہیں‘ ان ایام میں غیر معمولی بارشیں ہوتی ہیں جن کے باعث ندی‘ نالوں اور دریائوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان میں مون سون بارشیں جاری ہیں' ان ایام میں غیر معمولی بارشیں ہوتی ہیں جن کے باعث ندی' نالوں اور دریائوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو جاتی ہے۔ گزشتہ روز ملک بھر میں تیز ہوائوں اور گرج چمک کے ساتھ مون سون بارشوں کا دوسرا سلسلہ شروع ہو گیا۔ یہ بارشیں پنجاب اور خبیر پختونخوا میں ہوئیں ۔شدید بارش اور طوفانی جھکڑوں کے باعث مختلف علاقوں میں چھتیں، دیواریں گرنے اور کرنٹ لگنے سے متعدد افراد جاں بحق و زخمی ہوگئے ہیں۔لاہور میں شدید بارش سے سڑکیں اور گلیاں ندی نالوں کا منظر پیش کرتی رہیں۔

گوجرانوالہ ، سیالکوٹ اور راولپنڈی میں بھی شدید بارش ہوئی۔پنجاب میں ندی نالوں اور دریاوں میں طغیانی سے متعدد دیہات زیرآب آ گئے۔ ڈیموں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا۔کئی شہروں میں باران رحمت نے زحمت کا روپ دھار لیا۔ بارشوں کا موسم شروع ہونے سے قبل حکام کی طرف سے دعوے کیے جاتے ہیں کہ تمام تر حفاظتی انتظامات کر لیے گئے ہیں اور اب سڑکوں بازاروں میں پانی کھڑا نہیں ہو گا مگر عملی طور پر ہر سال کی طرح اس بار بھی متعلقہ حکام کے دعوے بارش کے پانی میں ہی بہہ گئے۔ ادھر گوجرانوالہ، سیالکوٹ، نارووال، پسرور میں بارش کے باعث مکانات کی چھتیں گرنے سے متعدد ہلاکتوں کی اطلاع ہے۔ سیالکوٹ میں طغیانی سے20 سے زائد دیہات زیرآب آ گئے۔ پسرور، نارووال روڈ اور ریلوے لائن کے اوپر سے سیلابی پانی بہنے کی وجہ سے ٹریفک معطل اور ٹرینوں کی آمدورفت رک گئی۔

لوگوں کو سیلاب سے نکالنے کے لیے کشتیاں اور امدادی ٹیمیں روانہ کر دی گئیں۔ کئی علاقوں میں بہت سے مویشی بھی سیلاب میں بہہ گئے۔ لوگ محفوظ مقامات کی طرف نقل مکانی پر مجبور ہو گئے۔ درخت اور بجلی کے پول گرنے سے بھی بہت نقصان ہوا۔ خیبر پختونخوا میں مردان کے کلپانی نالے میں سیلابی ریلا پانچ افراد کو بہا کر لے گیا۔ وفاقی دارالحکومت میں سب سے زیادہ 200 ملی میٹر بارش ریکارڈ کی گئی۔ بارش کے باعث راول ڈیم کے اسپیل وے کھول دیے گئے۔ادھر دریائے جہلم میں منگلا کے مقام پر درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ دریائے چناب میں درمیانے سے اونچے درجے کا سیلاب جب کہ دریائے سندھ میں نوشہرہ کے مقام پر درمیانے درجے کا سیلاب ہے۔ اگلے دو سے تین دنوں میں موسلادھار بارشوں سے سیلاب کا خطرہ بڑھ جائے گا۔

جیسے جیسے وقت گزرے گا' دریائوں میں مزید پانی آئے گا جس سے پنجاب اور سندھ کے زیریں علاقوں میں سیلاب آ سکتا ہے۔ آندھی' بارشیں اور سیلاب قدرتی آفات ہیں لیکن انسان دور اندیشی اور ذہانت کا مظاہرہ کرے تو ان قدرتی آفات سے ہونے والے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے لیکن پاکستان میں ہر سال سیلاب سے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلتی ہے۔ اسی طرح بڑے شہروں خصوصاً کراچی' لاہور' راولپنڈی' حیدر آباد' ملتان' پشاور' فیصل آباد میں سڑکوں اور گلیوں میں بارش کا پانی کھڑا ہو جاتا ہے۔ سیوریج سسٹم بیکار ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ ہی بجلی کے کھمبوں میں کرنٹ آنے اور تاروں کے ٹوٹنے سے جانی نقصان ہوتا ہے۔

مون سون سیزن ہر سال آتا ہے' دریائوں میں سیلاب بھی ہر برس آتا ہے۔ لہٰذا انھیں اچانک آنے والی آفت قرار نہیں دیا جا سکتا' اگر حکومت بروقت اقدامات کرے تو نقصانات سے بچا جا سکتا ہے' اسی طرح سیلابی پانی کو محفوظ کرنے کا کوئی فارمولا تیار کیا جا سکتاہے' جسے بروئے کار لا کر سیلاب کی تباہ کاریوں سے بچا جا سکتا ہے۔کاش کہ ہمارے ملک کے چوٹی کے انجینئر سیلاب کے اس وافر پانی کو ذخیرہ کرنے کا کوئی فارمولا ایجاد کر سکیں اور حکومت اس پر عمل کرے ۔