سانحہ بلدیہ عزیر بلوچ نثار مورائی کی جے آئی ٹی رپورٹ طلب

پہلے تینوں رپورٹس کا ان کیمرہ خود جائزہ لیں گے پھرپبلک کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا


Staff Reporter February 03, 2019
پہلے تینوں رپورٹس کا ان کیمرہ خود جائزہ لیں گے پھرپبلک کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا فوٹو: فائل

ہائی کورٹ نے سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز منظر عام پر لانے سے متعلق درخواست پر سندھ حکومت سے تینوں جے آئی ٹیز رپورٹس طلب کرلیں عدالت نے ریمارکس دیے پہلے ان کیمرہ خود جائزہ لیں گے پھر پبلک کرنے سے متعلق فیصلہ کیا جائے گا۔

جسٹس اقبال کلہوڑو اور جسٹس کے کے آغا پر مشتمل دو رکنی بینچ کے روبرو سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹیز منظر عام پر لانے سے متعلق وفاقی وزیر علی زیدی کی درخواست پر سماعت ہوئی، عدالت نے جے آئی ٹیز رپورٹ کا خود جائزہ لینے کا فیصلہ کرتے ہوئے سندھ حکومت سے تینوں جے آئی ٹیز رپورٹ طلب کر لیں،عدالت نے جے آئی ٹیز رپورٹس چیمبرز میں پیش کرنیکا حکم دے دیا۔

دوران سماعت علی زیدی کے وکیل عمر سومرو اور سندھ حکومت کے وکیل پیش ہوئے، عدالت نے سرکاری وکیل سے استفسار کیا کہ بتایا جائے کیا جے آئی ٹیز رپورٹس خفیہ ہیں، سندھ حکومت کے وکیل نے موقف دیا کہ جے آئی ٹیز رپورٹس سے متعلق ٹرائل کورٹ کو فیصلہ کرنے دیا جائے، علی زیدی کے وکیل عمر سومرو ایڈووکیٹ نے موقف دیا کہ سندھ حکومت جے آئی ٹیز میں سامنے آنیوالے سیاسی ناموں کو تحفظ دینا چاہتی ہے، راؤ انوار جیسے لوگوں کو تحفظ دیا جاتا ہے،ٹرائل کورٹ میں کون گواہ پیش ہوگا، عدالت نے تینوں جے آئی ٹیز 16 فروری تک عدالت میں پیش کرنیکا حکم دیدیا، سانحہ بلدیہ، عزیر بلوچ اور نثار مورائی کی جے آئی ٹی منظر عام پر لانے سے متعلق وفاقی وزیر نے سوشل میڈیا پراپنے پیغام میں عدالتی فیصلے کو خوش آئند اور بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔