بھارت کی آ بی جارحیت

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، زراعت کی بقا پانی کی وافر دستیابی، دریاؤں۔۔۔


Editorial July 24, 2013
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، زراعت کی بقا پانی کی وافر دستیابی، دریاؤں کی مرہون منت ہے۔ فوٹو: فائل

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس کی معیشت کا زیادہ تر انحصار زراعت پر ہے، زراعت کی بقا پانی کی وافر دستیابی، دریائوں کی مرہون منت ہے۔ عالمی قوانین کے تناظر میں دیکھا جائے تو مختلف ممالک کے درمیان بہنے والے دریائوں پر باہمی رضا مندی کے بغیر ڈیموں کی تعمیر ممکن نہیں، لیکن بھارت نے دریائے چناب پر پاکل دل ڈیم بنانے کا اعلان کر دیا ہے، یہ ڈیم پانی کا وافر ذخیرہ کرنے اور بجلی بنانے کے کام آئے گا۔ اگست کے پہلے ہفتے میں اس پر ترقیاتی کام کا باقاعدہ آغاز کر دیا جائے گا۔ پہلے ہی پاکستان کو دریائوں میں پانی کی کمی کا سامنا ہے چہ جائیکہ بگلیہار ڈیم سے کئی گنا بڑے ڈیم کی تعمیر کا آغاز رہی سہی کسر پوری کرنے کے لیے کافی ہے۔

یادش بخیر بگلیہار ڈیم کی تعمیر کے معاملے پر بھارت پاکستان سے عالمی عدالت میں مقدمہ ہار چکا ہے۔ مگر اس کے باوجود پاکستان کو پانی کے جائز حصے کی فراہمی اور بھارت کو مزید آبی ذخائر بنانے سے روکنے کے لیے کوئی عالمی کوشش نہیں ہو رہی۔ مجوزہ پاکل ڈیم کے بارے میں جو تفصیلات سامنے آئی ہیں ان کے مطابق یہ ڈیم چار برسوں میں مکمل ہو گا' جس کے باعث پاکستان کے دریائے چناب میں پانی دس فیصد مزید کم ہو جائے گا۔ بھارتی مقبوضہ کشمیر میں پاکل دل نامی ڈیم میں ایک لاکھ فٹ پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش ہو گی، بھارت غیر ملکی اداروں سے اس ڈیم کی تعمیر کے لیے بھی امداد حاصل کر رہا ہے۔ مقام حیرت ہے کہ بھارت مجوزہ ڈیم کے ٹینڈر تین اگست کو کھولے گا لیکن پاکستان کے انڈس واٹر کمشنر نے سارے معاملے پر چپ سادھ رکھی ہے، انھیں تو فوری طور پر نہ صرف رد عمل کا اظہار کرنا چاہیے تھا بلکہ فوری اعتراض داخل کر کے بھارت کو آبی جارحیت سے روکنے کی عملاً سعی کرنی چاہیے تھی۔

حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ ماہرین کی ٹیم بھیج کر مجوزہ ڈیم کے بارے میں فنی حوالوں سے بھارت سے نہ صرف بات چیت کرے بلکہ اپنے تئیں بھی ڈیم کے بارے میں پوری تحقیقات کر لے کہیں ایسا نہ ہو کہ تاخیر ہو جائے۔ کیونکہ یہ پاکستان کی بقا اور سلامتی کا مسئلہ ہے اگر بھارت اسی طرح دریائوں پر ڈیم بناتا رہا اور پاکستان کے دریائوں میں بتدریج پانی کے بہائو کی کمی واقع ہوتی رہی تو پھر ان دریائوں میں ریت اڑے گی اور خدانخواستہ پاکستان شدید قحط سالی کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔ پہلے بھی جنرل ایوب کے دور میں سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریائوں پر تصرف بھارت کو دے دیا گیا تھا باقی جو کچھ ہمیں معاہدے کے تحت ملنا تھا وہ ہمیں نہیں ملا۔

بھارت کی آبی جارحیت کا سلسلہ رکا نہیں ہے۔ ایک ہم ہیں کہ خواب غفلت سے جاگتے ہی نہیں۔ بحیثیت قوم ہم تو کالا باغ ڈیم پر بھی متفق نہ ہو سکے جس کا خمیازہ ملک میں توانائی کے شدید بحران کی صورت میں بھگت رہے ہیں۔ دنیا میں انتہائی سستی ترین بجلی ہائیڈل پاور سے پیدا کی جاتی ہے لیکن ہمیں تو سیاست پیاری ہے ملکی مفاد نہیں۔ حکومت کے ارباب اختیار کو چاہیے کہ مجوزہ ڈیم کی تعمیر کے معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لیں، اس پر اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے فوری طور پر اس پر اعتراض بھی داخل کریں تا کہ بھارت کو کسی بھی ایسے غیر قانونی عمل سے روکا جا سکے، کیونکہ دریائوں پر ڈیموں کی مسلسل تعمیر سے پاکستان زرعی و معاشی طور پر برباد ہو جائے گا۔