کے ایم سی کے 800 عارضی ملازمین 7ماہ کی تنخواہ سے محروم

میئر کی کام کو تیز کرنے کی ہدایت کے باوجود محکمہ ایچ آر ایم کی روایتی سستی


Staff Reporter February 06, 2019
800سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو 31 جولائی 2018 کو مستقل کردیا گیا تھا۔ فوٹو؛ فائل

بلدیہ عظمیٰ کراچی میں 800 سے زائد کنٹریکٹ ملازمین کو تمام قانو نی تقاضے پورے کیے جانے پر31 جو لا ئی 2018 کو مستقل کر دیا گیا تھا جو مختلف محکموں میں مسلسل دفتری امور سر انجام دے ر ہے ہیں۔

میئر کراچی وسیم اختر نے کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کرنے کا مثبت اقدام کیا لیکن میئر کراچی کے مثبت اقدام کو سینئر ڈائریکٹر ایچ آ ر ایم تسنیم احمد کی نا قص حکمت عملی کی وجہ سے منفی اقدام میں تبدیل ہوگیا دو ماہ سے ایچ آر ایم کا غذی کارروائی مکمل کرنے میں ناکام ہے جس کی وجہ سے سینکڑوں ملازمین کے گھروں میں فاقہ کشی کی نوبت آ گئی۔

800سے زائد ملا زمین جو مستقل ہوئے ہیں، ان کو گزشتہ سات ماہ سے تنخواہ جاری نہیں کی گئی جس کی وجہ سے ان کے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہورہی ہے ،بہت سے ایسے ملا زمین بھی ہیں جو اپنے بچوں کی فیس ادا نہیں کر سکے اور ان کو اسکول سے بے دخل کر دیا گیا جب کہ بہت سے ملازمین ادھار لے کر اپنے گھر کے اخراجات پورے کررہے ہیں۔