ریلوے کرایوں میں کمی کا فیصلہ

ریلوے کا شمار پاکستان کے بڑے سرکاری اداروں میں ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ ادارہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی...


Editorial July 28, 2013
عید الفطر کے موقع پر خصوصی ٹرینیں بھی لائی جائیں گی، وزیر ریلوے ۔ فوٹو: این این آئی

ریلوے کا شمار پاکستان کے بڑے سرکاری اداروں میں ہوتا ہے مگر بدقسمتی سے یہ ادارہ ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھنے کے باوجود زبوں حالی کا شکار ہے۔ حالیہ رخصت ہونے والی حکومت کے دور میں اس ادارے کی حالت نہایت پتلی ہو گئی اور حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ ڈیزل نہ ہونے سے متعدد ٹرینیں بند ہونے لگیں اور یوں معلوم ہونے لگا کہ ریلوے ابھی بند ہوئی ابھی بند ہوئی۔ ایسے میں بعض حلقوں کی جانب سے یہ الزامات سامنے آنے لگے کہ ریلوے کی تباہی کی وجہ اس کے ذمے داروں کی کرپشن اور بدانتظامی ہے۔ نئی حکومت نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ریلوے سمیت تمام اداروں کی حالت بہتر بنانے کا دعویٰ کیا۔ وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق ادارے کی حالت بہتر بنانے کے لیے کوشاں ہیں۔ اس کوشش کے پہلے مرحلے میں انھوں نے ریلوے کے اے سی سلیپر اور اے سی بزنس کلاس کے کرایوں میں کمی کر دی ہے البتہ اکانومی کلاس کے کرائے کم نہیں کیے گئے۔

ہفتہ کو ریلوے ہیڈ کوارٹرز میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر ریلوے نے کہا کہ تین ماہ تک قراقرم ایکسپریس کے سوا باقی تمام ٹرینوں کے کرایوں میں 17 سے 57فیصد کمی کی گئی ہے تاہم یہ کمی اکانومی کلاس پر لاگو نہیں ہو گی۔ برانچ لائنوں پر کم سے کم کرایہ 35 روپے سے کم کر کے 20 روپے کر دیا گیا ہے۔ اے سی بزنس کلاس میں کرایہ کم ہونے سے زیادہ سے زیادہ مسافر ریلوے میں سفر کرنے کو ترجیح دیں گے جس سے ادارے کی مالی حالت میں بہتری آئے گی۔ کرایہ بڑھانے سے بظاہر یوں معلوم ہوتا ہے کہ اس سے آمدن میں اضافہ ہو گا مگر حقیقتاً مسافروں کی تعداد میں کمی واقع ہو جاتی ہے اور وہ سفر کے دیگر سستے ذرائع کی جانب متوجہ ہو جاتے ہیں جس کا نقصان ریلوے کو پہنچتا ہے اور ادارہ خسارے میں جانے لگتا ہے۔ تاہم اے سی بزنس کلاس کے کرایوں میں کمی سے خوشحال طبقے کو فائدہ ہو گا اگر اکانومی کلاس کے کرایوں میں بھی کمی کر دی جائے تو اس سے عام مسافروں کو بھی فائدہ ہو گا۔

بھارتی ریلوے کی مثال پوری دنیا کے سامنے ہے جب لالو پرشاد یادو کو بھارتی ریلوے کا وزیر بنایا گیا تو انھوں نے ادارے کی حالت بہتر بنانے کا آغاز کرایوں میں کمی سے کیا تاہم انھوں نے انتظامی معاملات پر خصوصی توجہ دی' کرپشن کا خاتمہ کیا جس سے آج بھارتی ریلوے ایک منافع بخش ادارہ بن گیا ہے۔ خواجہ سعد رفیق کا کہنا ہے کہ اس وقت ریلوے کا روزانہ خسارہ دس کروڑ روپے سے کم ہو کر نو کروڑ روپے پر آ گیا ہے۔ انھوں نے دعویٰ کیا ہے کہ ریلوے کو منافع بخش ادارے میں تبدیل کر کے 35 ارب روپے کے خسارے کو زیرو پر لائیں گے۔ اس وقت محکمہ ریلوے کو بہت سے مسائل کا سامنا ہے۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ ریلوے کے اندر کرپشن کا عنصر ہر شعبے میں سرایت کر چکا ہے۔ جب تک کرپشن کا خاتمہ نہیں ہو گا ریلوے خسارے کے گرداب سے نکل کر خوشحال نہیں ہو سکتا۔ دوسری جانب انتظامی معاملات کو بہتر بنانے پر توجہ دینا ہو گی۔ٹرینوں کی آمدورفت میں تاخیر بھی مسافروں کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے۔

سابق دور حکومت میں یہ الزامات بھی سامنے آتے رہے کہ نجی ٹرانسپورٹ کو ترقی دینے کے لیے ریلوے ٹرینوں کی آمدورفت میں جان بوجھ کر تاخیر کی جاتی تھی۔اب موجودہ وزیر ریلوے نے خوشخبری سنائی ہے کہ ٹرینوں کی بروقت آمد اس مالی سال میں 80 فیصد تک درست کر دی جائے گی۔ مال گاڑیوں کی آمدورفت پر بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی کیونکہ مال گاڑیاں تجارت میں فروغ کے علاوہ آمدن کا بڑا ذریعہ ہیں لہٰذا مال گاڑیوں کے نظام کو بہتر بنا کر ریلوے کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ ریلوے ملازمین میں کرپشن اور کام چوری کا عنصر بھی ادارے کی بد حالی میں شامل ہے ان معاملات پر بھی خصوصی توجہ دینا ہو گی۔ ریلوے حادثے بھی عملے کی نااہلی خاص طور پر ڈرائیورز کی لاپروائی کے باعث رونما ہوتے ہیں۔ دنیا بھر میں انتظامی معاملات کو بہتر بنا اور جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ کر کے ریلوے حادثات پر قابو پایا گیا ہے۔ پاکستان ریلوے میں ڈائون سائزنگ بھی ضروری ہے' کسی بگڑے ہوئے ادارے کو ترقی کی جانب رواں کرنا مشکل ضرور ہے نا ممکن نہیں۔ ضرورت عزم اور درست منصوبہ بندی کی ہے۔ امید ہے کہ موجودہ حکومت ریلوے کے مردہ گھوڑے میں پھر سے جان ڈال کر اسے خوشحال ادارہ بنا دے گی۔