مجھ سے بھارتی فرسٹ سیکریٹری نے سازش کرنے کے لیے رابطہ کیا

رضوان طاہر مبین  منگل 19 فروری 2019
میں نے زندگی میں کبھی کوئی چیز نہیں بیچی، شاعر اور صحافی احسان سہگل کی باتیں۔ فوٹو: ایکسپریس

میں نے زندگی میں کبھی کوئی چیز نہیں بیچی، شاعر اور صحافی احسان سہگل کی باتیں۔ فوٹو: ایکسپریس

زمانہ طالب علمی میں ان کا ’جزوقتی‘ کام کل وقتی سے بھی متجاوز ہو جاتا۔۔۔ وہ صبح فجر کے بعد ایوب منزل (فیڈرل بی ایریا) سے جامعہ کراچی جاتے، دوپہر کو ’کراچی پریس کلب‘ میں کھانا کھا کر شام کے ایک روزنامے چلے جاتے اور وہاں اسسٹنٹ ایڈیٹر تھے، ساتھ ہی شعبہ ’میگزین‘ اور ’شہر کا صفحہ‘ بھی دیکھتے تھے۔پھر شام کو  ’ایس ایم لا کالج‘ چلے جاتے۔۔۔

یہ گفتگو کچھ عشرے قبل کراچی شہر میں زندگی کرنے والے احسان سہگل  سے ہے، جنہوں نے سخن وَری کا میدان بھی آزمایا اور سیاست تو ان کے لیے شروع سے ہی جانی مانی رہی ہے۔

احسان سہگل نے ایک شام کے اخبار کا ذکر کیا۔ ہم نے شام کے اخبارات کے غیر سنجیدہ رویے کا ذکر کیا تو انہوں نے بتایا کہ وہ اندر کے صفحات دیکھتے تھے، جہاں اپنے تئیں معیار بہتر کرنے پر مرکوز رہے۔ انہیں اعتراف ہے کہ تب وہاں سچی خبروں میں بھی اس قدر مرچ مسالا لگا ہوا ہوتا تھا کہ حقیقت مسخ ہو جاتی، لیکن کرائم رپورٹنگ بالکل ٹھیک ہوتی تھی۔ وہاں ہمیں شبیر احمد صدیقی، ظہور احمد نیازی وغیرہ جیسے بہت اچھے صحافی ملے، بڑے اخبارات سے نکالے جانے والے اخباری کارکن وہیں آجاتے تھے۔

ہم نے پوچھا کہ آپ کا ضمیر مطمئن ہوتا تھا کہ ایک ایسے اخبار میں ہیں، جہاں سچ مسخ ہو رہا ہے؟ تو وہ بولے کہ اس وقت ہمیں اتنا شعور نہیں تھا۔ میں سندھ یونی ورسٹی سے گریجویشن کے بعد ’آغاز‘ میں کام کر کے اپنے ایم اے اخراجات پورے کر رہا تھا اور اپنے طور پر طلبہ کی تحریروں اور ان کے مسائل کو جگہ دے رہا تھا، پھر صحافتی شوق، اور پھرکام کرنے کی اتنی آزادی ملی، اس سب سے بھی لطف اٹھایا اور آٹھ سال وہاں رہا۔

’وہاں خبر میں حقائق کس سطح تک ہوتے تھے؟‘ اس سوال کے جواب میں احسان سہگل کہتے ہیںکہ اسی زمانے میں شبیر احمد صدیقی کا جامعہ کراچی کے ایک میگزین میں زرد صحافت پر ایک مضمون چھپا تھا تو ان سے کہا گیا کہ آپ خود اپنے اخبار (آغاز) میں اس پر عمل نہیں کراتے، جب کہ وہاں اچھے صحافی بھی موجود ہیں، اگرچہ زیادہ تر وہاں مستقل نہ رہے۔ اس دوران ’’مساوات‘‘ میں چند ہفتے گزرے پھر واپس ہوگیا، کہ وہاں نئے لوگوں کے لیے جگہ کچھ کم تھی۔

احسان سہگل نے جب یہ بتایا کہ اس دوران وہ حکومت سندھ کے لیے بامعاوضہ مضامین لکھتے تھے، تو ہم نے پوچھا کہ کیا لکھتے تھے؟ تو انہوں نے بتایا کہ ان کا موضوع دیہی ترقی ہوتا تھا، حکومت کو یہ سہولت ہوتی تھی کہ میں انہیں مختلف اخبارات میں شایع بھی کرالیتا تھا، یہ 1972ء کی بات ہے، جب انہیں تین، چار مضامین کے مہینے میں ایک ہزار روپے مل جاتے تھے۔

سخن وَری کی طرف آنے کا ذکر کیا تو احسان سہگل نے بتایا کہ 13 برس کی عمر میں جب وہ لاڑکانہ سے کراچی آئے تو ٹوٹا پھوٹا سا ایک ’’ناول‘‘ بھی لکھا تھا، لیکن وہ شروعات تھی۔ تب شاعری سمجھ میں نہیں آتی تھی، پھر شاعری کے اوزان پر آٹھ آنے میں خرید کر ایک کتاب پڑھی، جس سے شاعری کی تمام بحریں ازبر ہوگئیں۔

احسان سہگل کہتے ہیں کہ شاعری میں انہوں نے بھی کچھ بحریں ’’ایجاد‘‘ بھی کی تھیں، لیکن بعد میں پتا چلا کہ بہت پہلے ہی انہیں مولانا جونا گڑھی  ترتیب دے چکے ہیں، اس لیے ان بحروں سے اپنے نام سے ’’دست بردار‘‘ ہوگئے۔ ان کا کہنا ہے کہ تصنیف ’’شہر جذبات‘‘ میں ان بحروں پر طبع آزمائی کی، جن پر کم لکھا گیا ہے، اس زمانے میں ابن انشا نے اس پر کالم بھی لکھا۔

احسان سہگل کے بقول 1974ء میں انہوں نے ’ایل ایل بی‘ کیا لیکن پریکٹس نہیں کی۔ صحافت سے رغبت کی وجہ سے کبھی کاروبار کو ہاتھ نہیں لگایا۔ ضیا الحق کے زمانے میں صحافتی تحریک کے دوران اشفاق بخاری کی صلاح پر جلا وطن ہو گئے۔ ہالینڈ میں ایک 15 سال بڑی خاتون سے ملاقات ہوئی، جو شادی شدہ اور ایک بیٹے کی ماں تھیں، انہوں نے بیٹا سابق شوہر کو دیا اور مسلمان ہو کر ان سے شادی کرلی۔ وہ کہتے ہیںکہ اس معاملے پر میں  اپنے خاندان سے لڑا، لیکن 40 سالہ رفاقت کے  بعد انہوں نے خلع لے کر مجھے گھر سے نکال دیا۔ دو بیٹیاں ہیں، جو اب شادی شدہ اور خود مختار ہیں، میرا ان سے رابطہ ہے۔

ہم نے احسان سہگل سے ازدواجی ناچاقی کی وجہ جاننا چاہی، تو وہ بولے کہ یورپ کی خواتین کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ 50 سال کے بعد آدم بیزار ہو جاتی ہیں، اس لیے شوہر کو بھی چھوڑ کر اکیلا رہنا چاہتی ہیں۔ انہوں نے آپ بیتی The Prisoner Of The Hague رقم کی جو انٹرنیٹ  پر موجود ہے۔

احسان سہگل سے وہاں معمولات کے حوالے سے استفسار کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ 1980ء میں اقوام متحدہ کی طرز پر ’’مسلم یونائٹڈ نیشنز‘‘  آرگنائز کی، جس کا منشور انٹرنیٹ پر دست یاب ہے۔ اسے بے روزگاری الاؤنس اسے چلایا، کسی سے دست دراز نہیں کیا۔ سابق عراقی صدر صدام حسین نے مجھے دو دفعہ ’اسلامی پیپلز کانفرنس‘ میں بلایا۔

احسان سہگل نے دعویٰ کیا کہ مجھ سے بھارتی فرسٹ سیکریٹری نے پاکستان کے خلاف سازش کرنے کے لیے رابطہ کیا تھا، جس کی تفصیلات میں نے آپ بیتی میں لکھی ہیں۔ اس حوالے سے میں نے نومبر 2012ء کو چیف جسٹس افتخار چوہدری اور جنرل اشفاق کیانی کو خط لکھا کہ میں تو نہیں بکا، لیکن آپ یہ دیکھیے کہ یہ کوشش صرف مجھ تک محدود رہی؟ کہیں انہوں نے کسی اور کو خریدنے کی کوشش نہ کی ہو، لیکن الٹا مجھ سے ہی چھے سال تک تفتیش کرتے رہے کہ کیا یہ بندہ پیسے نہ لے، یہ  کیسے ہو سکتا ہے۔

احسان سہگل کا خیال ہے کہ ہمارے اکثر چینلوں پر آداب گفتگو نہیں، میزبانوں کا زبان وبیان کم زور ہے، تاریخ پر گرفت کم ہے۔ اخبارات میں پھر بھی شرافت اور ایمان داری ہے، اخبارات کے کارکن معاشی مشکلات کے باوجود سچ لکھنا چاہتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو  کے حوالے سے احسان سہگل کہتے ہیںکہ وہ ملک میں جمہوریت تو لائے، لیکن انہوں نے جو غلطیاں کیں، پھر اس کا خمیازہ انہیں اپنی پھانسی کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

بھٹو کو بے شک اکثریت حاصل تھی، لیکن جمہوری تقاضوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے انہیں حزب اختلاف کو ناراض نہیں کرنا چاہیے تھا۔ اُن کا بنایا ہوا آئین آج بھی موجو دہے، آئینی ترامیم جمہوریت کا حصہ ہیں، لیکن اس سے خوب سے خوب صورت کا سفر ہونا چاہیے، مسخ نہیں ہونا چاہیے۔ بھٹو کی پھانسی میں وہ قادیانیوں کو غیر مسلم قرار دینے کا نتیجہ قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ میرے پاس اس کے ثبوت بھی ہیں۔ احسان سہگل کو 2016ء میں مثانے کا کینسر  ہوا، کہتے ہیں میں نے زندگی میں کوئی چیز نہیں بیچی، اسی لیے ’گوگل بکس‘ پر میری کتب مفت دست یاب ہیں۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔