برطانوی ویزا کے لیے زرضمانت کا قانون

برطانوی ہوم آفس نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کی چھ سابقہ نو آبادیوں سے برطانیہ آنے والوں سے ویزا جاری کرنے کے لیے۔۔۔


Editorial July 30, 2013
فوٹو فائل

برطانوی ہوم آفس نے تصدیق کی ہے کہ برطانیہ کی چھ سابقہ نو آبادیوں سے برطانیہ آنے والوں سے ویزا جاری کرنے کے لیے 3 ہزار پونڈ بطور زر ضمانت وصول کیے جائیں گے۔ ان چھ سابقہ نو آبادیوں میں نائجیریا اور گھانا افریقہ سے جب کہ بھارت' پاکستان' بنگلہ دیش اور سری لنکا ایشیاء سے شامل ہیں۔ واضح رہے 3 ہزار پونڈ' چار ہزار چھ سو تیس امریکی ڈالر بنتے ہیں جب کہ موجودہ شرح مبادلہ کے مطابق پاکستانی کرنسی میں یہ پانچ لاکھ کے لگ بھگ رقم بنتی ہے۔ برطانوی وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ یہ رقم قابل واپسی ہو گی تاہم برطانیہ کے اس فیصلے پر اندرون اور بیرون ملک سخت اعتراضات کیے جا رہے ہیں۔

برطانوی ہوم آفس کا یہ بھی کہنا ہے اگر متذکرہ اسکیم کامیاب رہی تو اس کا اطلاق وزٹ ویزا پر برطانیہ آنے والے دیگر ممالک کے شہریوں پر بھی کر دیا جائے گا تاہم برطانیہ کے اس فیصلہ پر اعتراض کرنے والوں کا موقف ہے کہ اس سے برطانیہ کی دو طرفہ تجارت پر بہت خراب اثرات مرتب ہوں گے۔ برطانیہ نے جن ممالک کے باشندوں سے اتنا بھاری زر ضمانت طلب کیا ہے ان ممالک کی طرف سے گزشتہ سال پانچ لاکھ سے زائد ویزا کی درخواستیں موصول ہوئی تھیں۔ ان پانچ لاکھ درخواستوں کو اگر تین ہزار پونڈ سے ضرب دی جائے تو یہ رقم ڈیڑھ ارب پونڈ بنتی ہے۔

برطانیہ کی اس پالیسی پر پاکستان اور بنگلہ دیش سے جس قسم کا ردعمل سامنے آیا ہے اس کے مطابق اس اقدام سے نا صرف وہ لوگ متاثر ہوں گے جن کے عزیز واقارب برطانیہ میں ہیں بلکہ برطانوی تجارت اور سیاحت بھی متاثر ہو گی۔ اتنی بڑی رقم ادا کرنا ہر کسی کے بس میں نہیں ہوتا۔ ہم اگر اپنے ملک کی بات کریں تو مڈل کلاس کے کسی فرد کے لیے وزٹ ویزا پر برطانیہ جانا پہلے ہی کافی مہنگا تھا، اب یہ قریب قریب برداشت سے باہر ہو جائے گا۔ پاکستانی اسٹوڈنٹ بھی ہر سال بڑی تعداد میں برطانوی تعلیمی اداروں میں داخلے لیتے ہیں۔ ان کو ویزالینے کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اکائونٹ میں سولہ لاکھ کے قریب رقم موجود ہو' پچاس ہزار کے قریب ویزا فیس الگ سے ادا کرنا پڑتی ہے۔ پھر سفری اخراجات ہیں۔

اس قسم کے قوانین سے امتیازی رویے کی عکاسی ہوتی ہے۔ امریکا' چین' مشرق وسطیٰ' جاپان اور کوریا وغیرہ کے ممالک پر ایسی پابندی نہیں ہے۔ اس سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ برطانوی انتظامیہ جنوبی ایشیائی باشندوں کی برطانیہ آمد روکنا چاہتی ہے' زمینی حقائق یہ ہے کہ برطانیہ میں جنوبی ایشیاء کے ممالک سے تعلق رکھنے والوں کی تعداد لاکھوں میں ہے' وہ برطانیہ کے شہری ہیں' ان کے عزیز و اقارب پاکستان' بھارت' سری لنکا اور بنگلہ دیش میں رہتے ہیں۔ اس لیے ان ممالک سے برطانیہ جانے والوں کی تعداد خاصی زیادہ ہوتی ہے۔لہٰذا ہونا تو یہ چاہیے کہ برطانوی حکومت ویزا کی شرائط میں نرمی کرے تاکہ تاجر، سیاح اور وہ حضرات جو اپنے عزیزوں کو ملنا چاہتے ہیں، وہ آسانی سے برطانیہ جاسکیں۔