پاکستان نے رابطہ کیا تو آسٹریلیا انرجی سیکٹر میں مدد کریگا

زراعت میں تعاون جاری ہے، ڈرون حملے امریکا اور پاکستان کا معاملہ ہے،چارلیٹ کینڈی


Numainda Express July 31, 2013
چارلیٹ کینڈی نے کہا کہ آسٹریلیا نے حیدرآباد کے امریکن اسپتال کو بھی 2001 سے وقتاً فوقتاً امداد دی ہے اور یہ اسپتال حیدرآباد اور اندرون سندھ کے شہریوں کی خدمت کر رہا ہے۔

آسٹریلین سیکنڈ سیکریٹری چارلیٹ کینڈی نے کہا ہے کہ آسٹریلین حکومت، پاکستان میں انرجی سیکٹر میں کوئی کام نہیں کر رہی لیکن اگر پاکستانی حکومت اس سلسلے میں رابطہ کرے گی تو اس پرغورکیا جائے گا۔

یہ بات انہوں نے حیدرآباد میں سینٹ الزبتھ اسپتال (امریکن اسپتال) کے دورے کے موقع پر میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے پاکستان میں کافی نقصان پہنچایا ہے ، خصوصاً شیعہ اور ہزارہ برادری کو نشانہ بنایا جارہا ہے، پاکستان میں امریکی ڈرون حملوں کے حوالے سے سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ امریکا اور پاکستان کا معاملہ ہے، اس کے لیے دونوں حکومتوں سے پوچھا جائے۔



ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور آسٹریلیا، 1947 سے مخلتف شعبوں میں ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں، جبکہ آسٹریلوی حکومت، پاکستان میں صوبہ پنجاب، خیبرپختونخوا اور سندھ میں صحت اور زراعت کے شعبے میں بھرپور کام کر رہی ہے جس کے اچھے نتائج سامنے آئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آسٹریلیا نے حیدرآباد کے امریکن اسپتال کو بھی 2001 سے وقتاً فوقتاً امداد دی ہے اور یہ اسپتال حیدرآباد اور اندرون سندھ کے شہریوں کی خدمت کر رہا ہے۔ اس موقع پر آسٹریلیا قونصل چانے کے پولیٹیکل آفیسر عمران خان بھی موجود تھے، جب کہ تقریب سے اسپتال کے چیئرمین رابرٹ میکولیل اور ایڈمنسٹریٹر فرانسس نے بھی خطاب کیا اور میڈیا کے سوالات کے جوابات دیے۔