صدر کا انتخاب اہم پیش رفت

مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین بھاری اکثریت سے ملک کے12 ویںصدر مملکت منتخب ہوگئے۔۔۔


Editorial July 31, 2013
مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین بھاری اکثریت سے ملک کے12 ویںصدر مملکت منتخب ہوگئے. فوٹو : فائل

مسلم لیگ (ن) کے صدارتی امیدوار ممنون حسین بھاری اکثریت سے ملک کے12 ویںصدر مملکت منتخب ہوگئے، انھوں نے الیکٹورل کالج کے 706 میں سے 432 ووٹ حاصل کیے، تحریک انصاف کے امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد کو77ووٹ ملے، پارلیمنٹ اور 3صوبائی اسمبلیوں میں مسلم لیگ(ن)کے امیدوار جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی میں تحریک انصاف کے امیدوار کامیاب رہے، کل 9 ووٹ مسترد قرار دیے گئے۔ پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں کے کل1174 ارکان میں سے 1123 ووٹ ڈالنے کے اہل تھے جن میں سے887 ارکان نے ووٹ ڈالے۔ نو منتخب صدر نے چاروں صوبوں میں سے سب سے زیادہ ووٹ بلوچستان سے حاصل کیے ۔ انتخابی نتائج کا اعلان چیف الیکشن کمشنر جسٹس(ر) فخرالدین جی ابراہیم نے پریس کانفرنس میں کیا۔

پاکستان کی سیاسی تاریخ اور صدارتی انتخاب کے تناظر میں ممنون حسین کا جمہوری طریقے سے منتخب ہونا واقعی اس مثبت پیش رفت کی علامت ہے کہ ملک میں جمہوری روایات، مسلمہ پارلیمانی آداب اور اقتدار کی پر امن منتقلی کا ایک نیا دور شروع ہوا ہے، جمہوری اداروں کا تسلسل اور جمہوری رویوں میں شائستگی،رواداری، تحمل اور حب الوطنی نہ صرف وقت کا تقاضا ہے بلکہ اس سے جمہوریت مزید مستحکم ہوگی ،آمریت کا باب بند ہوگا اور ملکی سالمیت کو لاحق داخلی و خارجی خطرات سے محفوظ کرنے کے لیے حکمرانوں کے پاس وافر جمہوری قوتوں کا اشتراک و اجتماع ہوگا جو ہر اعتبار سے ایک مضبوط ریاستی تنظیم اور متحرک و فعال جمہوری معاشرے کے قیام اور عوام کی فلاح وبہبود میں اہم کردار ادا کرے گا۔

بدقسمتی سے صدرمملکت کے انتخاب کی قومی تاریخ کچھ ایسی قابل بیان نہیں رہی ہے، اگرچہ اس منصب کو آئینی طور پر وفاق کی سب سے محترم شخصیت کا اعزاز حاصل ہے تاہم مہم جو آمروں نے جمہوریت پر پے در پے شب خون مار کر جہاں تمام جمہوری اداروں کی نمو اور ارتقا کے عمل کو نقصان پہنچایا وہاں صدر کی ذات گرامی بھی کئی منفی حوالوں سے میڈیا میں موضوع بحث بنائی گئی، چنانچہ ماضی میں 12 میں سے5 صدر فوجی تھے،جب کہ سویلین عہد حکومت میں 4 کا تعلق پی پی اور2 کا ن لیگ سے تھا۔ صدرآصف علی زرداری نے جن کی مدت 8 ستمبر کو مکمل ہورہی ہے جس کے بعد ممنون حسین صدر مملکت کا عہدہ سنبھالیں گے، کہا ہے کہ جمہوری نظام مضبوط ہوچکا ہے ، پہلی مرتبہ ایک سویلین حکومت نے دوسری کو اقتدار منتقل کیا۔قومی اسمبلی اور سینیٹ میں مسلم لیگ (ن) کے امیدوارکو مسلم لیگ (ن) کے علاوہ متحدہ قومی موومنٹ، جمعیت علماء اسلام (ف)، مسلم لیگ فنکشنل، نیشنل پیپلز پارٹی، فاٹا سے آزاد اراکین نے ووٹ دیا جب کہ تحریک انصاف کے امیدوارکو تحریک انصاف کے علاوہ جماعت اسلامی کے اراکین نے بھی ووٹ دیا۔

پیپلز پارٹی، اے این پی، مسلم لیگ (ق)، عوامی مسلم لیگ، بلوچستان نیشنل پارٹی عوامی کے اراکین نے ووٹنگ میں حصہ نہیںلیا اور انتخابی عمل کا بائیکاٹ کیا۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) فخرالدین جی ابراہیم نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ ہم نے شفاف انتخابات کا وعدہ پورا کیا ہے اب حکومت گڈگورننس قائم کرے، وزیر اعظم میاں نوازشریف نے کہا ہے کہ صدر کے انتخاب سے جمہوریت کے تسلسل کا ایک اور سفر مکمل ہوگیا، تمام سفراء نے انھیں11 مئی کے انتخابات اور منگل کے صدارتی انتخاب کے مرحلے میں کامیابی پر مبارکباد دی ۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے پرامن صدارتی انتخاب کے انعقاد پر صدر زرداری اور صدارتی الیکشن جیتنے پر نو منتخب صدر ممنون حسین کو مبارکباد پیش کی ہے ۔بلاشبہ صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین احمد ، تحریک انصاف پاکستان کے سربراہ عمران خان اور لاہور ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن سمیت دیگر حلقوں کے صدارتی انتخاب سے متعلق اعتراضات اور تحفظات سامنے آئے ہیں ۔

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہے کہ پیپلزپارٹی کے بائیکاٹ کی وجہ سے صدارتی انتخاب متنازع ہوا۔ پارلیمنٹ ہائوس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ صدارتی انتخاب کے لیے بھی الیکشن کمیشن نے تماشا لگایا۔تاہم جمہوری عمل کو آگے بڑھانے کے لیے صدارتی انتخاب میں اپنے صدارتی امیدوار جسٹس (ر) وجیہہ الدین کو ووٹ ڈالنے وہ2 بجے صدارتی انتخاب کے پولنگ اسٹیشن قومی اسمبلی ہال میں آئے اور انھوںنے ممنون حسین کو صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی،اپنے ایک بیان میں انھوں نے کہا کہ صدر مملکت وفاق کی علامت ہوتا ہے ،امید ہے کہ ممنون حسین پارٹی وابستگی سے بالاتر ہوکر اپنی آئینی خدمات سرانجام دیں گے جب کہ وفاقی وزیر اطلاعات ونشریات سینیٹر پرویز رشید نے کہا ہے کہ پیپلز پارٹی کی جانب سے آئینی صدر کے انتخاب سے فرار انتہائی افسوسناک امر ہے۔ پی پی نے جمہوریت کے سیاہ ترین انتخابات میں بھی حصہ لیا اور سابق آمر جنرل (ر) پرویز مشرف کو صدر منتخب کرایا۔

ایم کیو ایم نے صدارتی الیکشن میں حکومتی امیدوار کی حمایت غیرمشروط طور پر کی ہے اور کوئی مطالبہ نہیں کیا، آصف زرداری منتخب آئینی صدر ہیں، حکومت ان کو عزت کے ساتھ رخصت کرے گی ۔ حقیقت میں اسی انداز نظرسے جمہوری عمل کو مزید استقامت ملے گی، یہی تو جمہوریت ہے کہ اس میں صدائیں بلند ہوتی ہیں ، مکالمہ اور مناظرہ ہوتا ہے، استدلال اور دلائل کے فورم چنے جاتے ہیں ،آمر یہ سب کہاں کرنے کی اجازت دیتا ہے، لب بستگی اور صدائے مستانہ ہی آمریت اور جمہوریت کی واضح تفریق کرتے ہیں ۔اختلاف رائے سے ہی جمہوری سماج کی حرکیات اس کی تقویت ، عوامی شعور کی بالیدگی اور سیاسی حقائق سے آگہی کا پتا چلتا ہے۔ یوں دیکھا جائے تو تاریخی حوالوں سے امریکا کے 10 صدارتی انتخابات کو امریکی میڈیا نے متنازعہ کہا ،جارج واشنگٹن ، ابراہام لنکن ،ا سٹیفن ڈگلس سے لے کر 2004ء کے جان کیری اور جارج بش کا انتخاب ہنگامہ خیز قرار پائے تھے ۔

یورپ میں اٹلی اور فرانس سمیت دیگر ملکوں کے انتخابی عمل کا جائزہ لیں یا حال ہی میں برطرف صدر مرسی کی صدارت کے خاتمے سے پہلے اس کے انتخاب کی گہما گہمی کو یاد کریں جب کہ حسنی مبارک کی ڈکٹیٹرشپ کے خلاف مرسی کا صدارتی انتخاب انقلاب سے تعبیرکیا گیا۔لیکن ایک بنیادی حقیقت دنیا بھر کے جمہوری ممالک میں پیش نظر رکھی جاتی رہی ہے کہ صدارتی یا دیگر جمہوری مناصب کے الیکشن متنازعہ ہونے کے ساتھ ساتھ اہم ،تاریخ ساز اور تحیر خیز بھی گردانے گئے،ان کے نتائج تسلیم کیے گئے۔ ملکی سیاست میں آئین و قانون کی حکمرانی کے قیام کی خواہش پر عمل عوام نے آزاد عدلیہ کی فعالیت کی شکل میں دیکھ لیا، الیکشن کمیشن پر اعتراضات ہوئے تاہم اس بات کا کریڈٹ عدلیہ ،الیکشن کمیشن اور میڈیا کو جاتا ہے کہ عام انتخابات اور اب صدر کے انتخاب میں قوم نے بعض اہم بنیادی تبدیلیوں کا مشاہدہ کیا ہے جس سے قومی سطح پر سنجیدہ مکالمہ ، سیاسی جماعتوں میں اشتراک عمل ، یا اختلاف رائے کے اظہار میں فکری بلوغت پر مبنی جمہوری طرز عمل نمایاں نظر آتا ہے جو سیاسی رویے میں ارتقائی عمل کا مظہر ہے ۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد صدر کی علامتی حیثیت ایک گاڈ فادر کے طور پر مستحکم ہوئی ہے، اختیارات زیادہ تر وزیراعظم کو منتقل ہوچکے ہیں، اس لیے اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکمران صدر کے انتخابی عمل کی بہ حسن و خوبی تکمیل کے بعد اختیارات اوراقتدار میں توازن کا قابل قدر امتزاج پیش کریں۔