انکم ٹیکس میں رعایت ختم کرنیکا فیصلہ واپس لیا جائے گسٹا

تعلیم دشمن اقدام ہے، بڑے ٹیکس چوروں کو مزید رعایت سے نوازا گیا ، ضمیر خان


Numainda Express August 01, 2013
اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ ورک میں توسیع کے نام پر اساتذہ اور سرکاری ملازمین پر کلہاڑی چلائی گئی۔ فوٹو: فائل

گورنمنٹ سیکنڈری ٹیچرز ایسوسی ایشن (گسٹا) نے وفاقی بجٹ میں اساتذہ کو ملنے والی انکم ٹیکس میں رعایت کو ختم کرنے کے عمل کو تعلیم دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

یہ مطالبہ گسٹا کے اجلاس میں کیا گیا، جو کہ ضلعی صدر ضمیر خان کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں کہا گیا کہ وفاقی حکومت نے ٹیکس نیٹ ورک میں توسیع کے نام پر اساتذہ اور سرکاری ملازمین پر کلہاڑی چلائی گئی، جب کہ اس کے برعکس ملک کے بڑے بڑے سرمایہ دار اور وڈیرے جو کہ داداگیری سے ٹیکس چوری کر رہے ہیں۔ ان کو مزید رعایت سے نوازا گیا ہے۔ اجلاس میں سندھ حکومت سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ اس حوالے سے وفاقی حکومت سے احتجاج کرے اور انکم ٹیکس میں اساتذہ کو ملنے والی چھوٹ واپس بحال کرائے۔



اجلاس میں گسٹا ضلع لاڑکانہ کے صدر جی ایم ابڑو کے خلاف پولیس کی جانب سے جھوٹے مقدمات قائم کرنے اور ان کی گرفتاری کے لیے غیر قانونی چھاپوں کی سخت مذمت کی گئی اور واضح کیا گیا کہ اگر گسٹا لاڑکانہ کے صدر کے خلاف درج جھوٹے مقدمات واپس نہیں لیے گئے تو پھر سندھ بھر کے اساتذہ احتجاج کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور ہوں گے۔ اجلاس میں حیدرآباد ریجن میں تاحال ڈائریکٹراسکولز مقرر نہ کرنے پر تشویش کا اظہار کیا گیا اور کہا گیا کہ اس پوسٹ کا چارج بھی کسی اور افسر کو نہیں دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اساتذہ کے روزمرہ کے کام رکے ہوئے ہیں۔ اجلاس میں حکومت سندھ سے مطالبہ کیا گیا کہ فوری طور پر حیدرآباد ریجن میں ڈائریکٹر اسکولز کا تقرر کیا جائے۔