قومی خزانے میں بدعنوانی نہیں ہونی چاہیے چیف جسٹس

ای اوبی آئی اسکینڈل کے دوران ٹرانزیکشنز اور بورڈ آف ٹرسٹیز کے اختیار سے متعلق جواب طلب


Numainda Express August 01, 2013
یہ بہت بڑی لوٹ مار ہے، اختیارات کا یہ مطلب نہیں کہ ساری رقم جیب میں ڈال لی جائے۔ فوٹو: فائل

KANDAHAR: سپریم کورٹ نے چیئرمین ای او بی آئی سے سکینڈل کے دوران ہونے والی ٹرانزیکشنز اور بورڈ آف ٹرسٹیزکے اختیارات کے بارے میں جواب مانگ لیا ہے اورنیسپاک کو خریدی گئی اراضی کی قیمت سے متعلق عبوری رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ہے۔

عدالت نے نئے چیئر مین کو ہدایت کی ہے کہ بورڈ آف ٹرسٹیزکی میٹنگ میں سرمایہ کاری کے بارے میںکیا فیصلے ہوئے اس کی تفصیلات فراہم کی جائیں۔چیف جسٹس نے کہاکہ یہ بہت بڑی لوٹ مار ہے ،اختیارات کا یہ مطلب نہیں کہ ساری رقم جیب میں ڈال لی جائے، قومی خزانے میں ایک پیسے کی بھی بدعنوانی نہیں ہونی چاہیے، یہ ٹرست ہے اور چیئرمین اس کا امین ہوتا ہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں3 رکنی بینچ نے سماعت کی۔ای او بی آئی کے نئے چیئرمین ایوب شیخ پیش ہوئے، انھوں نے عدالت میں تسلیم کیا کہ22ارب سے زائدکی سرمایہ کاری کیلیے بورڈ آف ٹرسٹیزکی منظوری نہیں لی گئی تھی۔انھوں نے بتایا کہ 18 ٹرانزیکشنز بھی غیر شفاف اور بورڈکی منظوری کے بغیر تھیں، سابق چیئرمین نے آڈٹ کا سسٹم ختم کر دیا تھا جواب دوبارہ بحال کر دیا ہے اور آڈیٹر جنرل کو خصوصی آڈٹ کا کہا ہے،جن کے نام ایف آئی آر میں درج ہیں ان کیخلاف محکمانہ کارروائی کی ہے جبکہ فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی بھی بنائی ہے جس کی تحقیقات کی روشنی میں مقدمات درج کرائے جائیںگے۔



ایڈن ہائوسنگ کی جانب سے97 کروڑ60 لاکھ کی رقم عدالت میں جمع کرادی گئی۔ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی لیگل اعظم خان نے بتایا کہ نیسپاک ای او بی آئی کی جانب سے خریدی گئی اراضی کی اصل قیمت کا تعین کر رہا ہے اس کام میں کچھ وقت لگے گا ۔ایڈن گارڈن ہائوسنگ سوسائٹی کے وکیل طارق محمود نے عدالت کو بتایا کہ ان کے ذمے واجب الادا ایک ارب 87 کروڑ میں سے97کروڑ60 لاکھ روپے رجسٹرا ر کے پاس جمع کرادیے ہیں جبکہ باقی رقم بھی جمع کرا دیںگے ، چیئرمین ای او بی آئی نے کہا ہر مہینے ایک ارب روپے کی پنشن رجسٹرڈ14لاکھ کارکنان کو دی جارہی ہے جبکہ34لاکھ لوگوں سے فنڈ مل رہا ہے، انھوں نے بتایا کہ50 لاکھ روپے سے زائد کی سرمایہ کاری کیلیے بورڈ کی منظوری لازمی ہے لیکن سابق چیئرمین نے بورڈکو نظر اندازکیا۔کیس کی مزید سماعت آج بدھ تک ملتوی کردی گئی۔