جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے شمع جلتی رہے تو بہتر ہے

بھارتی چینلوں پر جارحانہ قوم پرستی کی لہر چلی ہوئی ہے اور بھارتی اینکرز، مودی کی بہادری کے چھوٹے قصیدے پڑھ رہے ہیں


March 04, 2019
بھارتی اینکرز نے نیوز اسٹوڈیو کو وار روم بنا دیا ہے۔ (فوٹو: یوٹیوب اسکرین شاٹ)

PARIS: امن کی سرحدیں کسی ایک ملک، ریاست یا قوم تک محدود نہیں۔ امن ہر معاشرے، قوم اور ریاست کی آج سے نہیں بلکہ دنیا کی ابتدا سے ایک ناگزیر خواہش ہے جسے قائم رکھنا کسی ایک ملک کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر قوم پر لازم ہے۔ دنیا میں کوئی بھی قوم یا ملک اگر جنگ اور بدامنی سے اپنے مفادات حاصل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تو یہ اس ملک کی ایک بڑی بھول ہے، کیونکہ اگر وہ آج کسی ملک کے حالات خراب کرنے کا متمنی ہے تو پھر وہ وقت بھی جلد آپہنچے گا جب اس کے اپنے گھر میں آگ لگ جائے گی۔ اِس لیے اگر امن کو ہر ایک ملک، ہر ایک قوم آج کے دور میں اپنے لیے ایک ضرورت سمجھ لے تو یہی ترقی کا ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے۔

امن کے برعکس بھارت کی مودی سرکار نے پاکستان دشمنی کو اپنی جماعت کی انتخابی مہم کا حصہ بنالیا ہے۔ برسر اقتدار جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی کے رہنما اپنی تقریروں میں پاکستان کے خلاف زہر اگلنے اور الزامات کی بارش کو فرض عین سمجھ کر استعمال کررہے ہیں۔ صرف جنتا پارٹی ہی نہیں، بھارت کا میڈیا بھی اس حوالے سے پاگل نظر آتا ہے۔ خونخوار درندوں اور پاگل گیدڑوں کی طرح چلاتا پایا گیا ہے۔

بعض چینلوں کے اینکرز اور میزبان حب الوطنی کے جذبے میں اپنے پروگراموں کی ابتدا اور اختتام پر ''جے ہند'' کا نعرہ بلند کرنے لگے ہیں۔ ایک اینکر نے اسٹوڈیو میں باقاعدہ وار روم بنا کر فوجی وردی جیسے کپڑے پہن کر پروگرام پیش کیا۔ ان پروگراموں میں جو بھی حکومت کے تصورات سے اتفاق نہیں کرتا، اسے اینٹی نیشنل یعنی ملک دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ بھارتی چینلوں اور سوشل میڈیا پر جارحانہ قوم پرستی کی ایک لہر سی چلی ہوئی ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے اس نام نہاد سرجیکل آپریشن نے یک لخت سارے مسئلے حل کردیئے ہوں۔ اسے ایک بڑی کامیابی کا نام دے کر کچھ لوگ وزیراعظم مودی کی جرأت و بہادری کے گن گا رہے ہیں تو اس کے برعکس امن سے محبت کرنے والے لوگ ''Say no to war'' کہہ رہے ہیں۔

پاکستان اور بھارت، دونوں ممالک میں امن کی خواہش رکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہے۔ مودی کے حالیہ جنگی جنون سے لے کر اب تک پاکستان کا کردار قابل تعریف رہا ہے جسے صرف پاکستان میں ہی نہیں پوری دنیا میں پذیرائی مل رہی ہے۔

بھارتی وزیراعظم کے مقابلے میں پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کا خطے میں امن کےلیے رویہ انتہائی ذمہ دارانہ اور قابل تعریف ہے۔ انہوں نے بھارتی پائلٹ کو چھوڑ کر مودی کی لوز بال پر ایسا چھکا مارا ہے کہ پوری دنیا میں اس پر تالیاں بجائی جارہی ہیں۔ سب سے زیادہ بھارتی دانشوروں کو خوشی ہورہی ہے۔ معروف بھارتی صحافی برکھا دت نے لکھا کہ عمران خان کی طرف سے کیے گئے اقدام کا خیرمقدم کرنا چاہیے۔ بھارتی مصنف سلی تریپاٹھی لکھتے ہیں کہ بھارتی پائلٹ کو رہا کرکے عمران خان نے چھکا مارا ہے۔ ایک اور معروف بھارتی صحافی نندھی ورما نے بھی اسے فل ٹاس پر چھکا قرار دیا۔

وکرم چندا کہتے ہیں کہ اگر ہم نے پاکستانی وزیراعظم کے فیصلے کا خیر مقدم نہ کیا تو یہ گھٹیا پن ہوگا۔ ساگاریکا گھوش نے لکھا کہ مودی جی سے معذرت کے ساتھ لیکن آج عمران خان نے انہیں ڈپلومیسی میں، جنگ کی حکمت عملی میں اور عوامی مقبولیت میں چت کردیا۔ رعنا ایوب بولیں کہ عمران خان مودی سے بہت آگے ہیں۔ سابق بھارتی کرکٹر اور سیاستدان نوجوت سنگھ سدھو نے تو کمال کردیا۔ لکھتے ہیں کہ عمران خان آپ کے جذبہ خیر سگالی نے اربوں لوگوں کےلیے خوشی کا سماں پیدا کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم مودی نے اپنی مقبولیت اور الیکشن جیتنے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن سب تدبیریں ناکام، سب منصوبے چوپٹ ہوگئے۔ مودی کی مقبولیت جتنی تیزی سے نیچے گئی، وزیراعظم عمران خان کی مقبولیت کا گراف اتنی ہی تیزی سے اوپر گیا۔ سوشل میڈیا پر انہیں نوبل انعام دینے کا مطالبہ کیا جارہا ہے۔ ملک کی اپوزیشن، عوام، پاک فوج، میڈیا سبھی ان کے ساتھ ایک پیج پر ہیں۔ کچھ دن پہلے مسائل میں گھرے عمران خان آج قوم کی آنکھ کا تارا بن چکے ہیں۔ کہتے ہیں میڈیا معاشرے کی آنکھ اور کان ہوتا ہے، ٹھیک ہی کہتے ہیں۔ بھارت میں پاکستانی میڈیا کی کوریج، ٹی وی چینلز دکھانے پر پابندی لگا دی گئی ہے، مودی سرکار کی شکایت پر یو ٹیوب انتظامیہ نے نجی چینل کی ویڈیوز ہٹادیں۔

مودی سرکار اپنے میڈیا کو ایسے استعمال کررہی جیسے ''سردار جی'' کی بوتل کا جن ہو کہ جیسے چاہا استعمال کرلیا جائے، وہاں سچ کے گلے میں پھندا ہے تو سوال کرنے والی زبانوں پر ''غداری'' کے تالے لگا کر جوتے مارے جارہے ہیں۔ کیا معزز معاشرے ایسے ہوتے ہیں؟ کیا جمہوریت یہ کہتی ہے کہ بولنے کی آزادی نہ دو؟ لکھنے پر پابندی لگا دو؟ اپنے حق کےلیے سڑکوں پر آنے والوں پر گولیاں چلادو؟ ایسے لگتا ہے کہ مودی کا ماٹو ہی شاید جنگ ہو، نفرت ہو۔

کشمیر ایک حقیقت ہے جسے بھارت دو دہائیوں تک تسلیم کرتا آیا ہے کہ یہ مقبوضہ علاقہ ہے اور اس مسئلے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق رائے شماری سے نکالا جاسکتا ہے۔ اب ایسا کیا درد ہے جو اچانک بھارتی پیٹوں میں اٹھنے لگا ہے کہ ''کشمیر ہمارا اٹوٹ انگ ہے'' کے نعرے لگانے لگے ہیں؟ حقیقت یہ ہے پاکستان سے تعلقات اب مزید خراب ہو چکے ہیں، اور بات چیت کے سارے راستے بند ہیں۔ یہ تنازع جہاں سے شروع ہوا تھا، وہاں کی صورتحال اب بھی جوں کی توں ہے۔ مقبوضہ کشمیر اب بھی کشیدگی اور تصادم کی گرفت میں ہے، وادی میں آج بھی بچے مررہے ہیں اور جنازوں کے ساتھ آج بھی مظاہرے ہورہے ہیں۔

بھارت میں ان حقائق پر بھلے ہی بحث نہ ہو لیکن ان زمینی حقیقتوں کو فراموش تو نہیں کیا جاسکتا۔ عالمی ضمیر اس پر جاگے نہ جاگے لیکن کشمیریوں کا ضمیر کل بھی جاگ رہا تھا اور آج بھی جاگ رہا ہے۔ یہ کل بھی آزادی مانگ رہے تھے اور آج بھی آزادی کےلیے نعرہ فگن ہیں۔ لوگوں کو امید ہے کہ پاکستان کی پالیسی امن کی ہے، بھارت دنیا میں جھوٹا اور مکار ثابت ہوچکا ہے۔ دنیا پاکستان اور بھارت کے عوام کی امنگوں کا خیال کرے، خطے میں امن کےلیے مسئلہ کشمیرحل کرے۔

زندگی کا راستہ امن ہے، جنگ صرف تباہی کا راستہ ہے۔ مودی صاحب عمران خان کی نہ مانیں اپنے ہی ملک کے شاعر، ساحر لدھیانوی ہی کی مان لیں:

خون اپنا ہو یا پرایا ہو
نسل آدم کا خون ہے آخر
جنگ مشرق میں ہو کہ مغرب میں
امنِ عالم کا خون ہے آخر


بم گھروں پر گریں کہ سرحد پر
روحِ تعمیر زخم کھاتی ہے
کھیت اپنے جلیں کہ اوروں کے
زیست فاقوں سے تلملاتی ہے


ٹینک آگے بڑھیں کہ پچھے ہٹیں
کوکھ دھرتی کی بانجھ ہوتی ہے
فتح کا جشن ہو کہ ہار کا سوگ
زندگی میتوں پہ روتی ہے


جنگ تو خود ہی ایک مسئلہ ہے
جنگ کیا مسئلوں کا حل دے گی
آگ اور خون آج بخشے گی
بھوک اور احتیاج کل دے گی


اس لئے اے شریف انسانو!
جنگ ٹلتی رہے تو بہتر ہے
آپ اور ہم سبھی کے آنگن میں
شمع جلتی رہے تو بہتر ہے


نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 1,000 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹوئٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔