روپے کی قدر میں مزید کمی

بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے.


Editorial August 25, 2012
اوپن مارکیٹ میں ڈالر 20 پیسے اضافے سے 94.90 روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ فوٹو: فائل

ایک خبر کے مطابق زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو بڑھنے سے پاکستانی روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ جمعے کو انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت 94.60 روپے سے بڑھ کر 94.70 روپے ہو گئی، اوپن مارکیٹ میں ڈالر 20 پیسے اضافے سے 94.90 روپے کی سطح تک پہنچ گیا۔ ماہرین کے مطابق آئی ایم ایف کو 400 ملین ڈالر قرض کی قسط ادا کیے جانے سے پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر پر دبائو بڑھ گیا ہے جس سے روپے کی قدر میں مزید کمی واقع ہوئی ہے۔ ملکی کرنسی کی قدر میں کمی ایک تشویشناک معاملہ ہے کیونکہ اس سے ملک پر واجب الادا غیرملکی قرضوں کے حجم میں خود بخود اضافہ ہو جاتا ہے' بین الاقوامی تجارت میں ادائیگیوں کا توازن متاثر ہوتا ہے اور ملکی سطح پر مہنگائی بڑھ جاتی ہے۔

اگر واجب الادا قرضوں کی ادائیگی پر اسی طرح کرنسی کی قدر کم ہوتی رہی تو ملک کے معاشی مسائل' جو پہلے بھی کم نہیں ہیں' مزید بڑھ جائیں گے چنانچہ مناسب یہی ہے کہ غیرملکی قرضے' خاص طور پر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک جیسے عالمی اقتصادی اداروں سے' سوچ سمجھ کر لیے جائیں بلکہ اگر اس سلسلے میں پارلیمنٹ میں قانون سازی ہو جائے تو زیادہ بہتر ہے تاکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر ان قرضوں کے اثرات کو کم سے کم رکھا جا سکے۔

بتایا گیا ہے کہ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت میں اضافہ کی وجہ سے پاکستان کا درآمدی بل بڑھ گیا ہے اور اس کے باعث بھی زرمبادلہ میں کمی کا سبب بن رہا ہے جب کہ اقتصادی ماہرین نے اندازہ لگایا ہے کہ انٹرنیشنل مارکیٹ میں کماڈٹیز اور خام تیل کی قیمت میں استحکام نہ ہوا تو روپے کی قدر کو مزید دبائو کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ درآمدی بل محدود رکھنے کے لیے ایسے اقدامات کرے جن سے پٹرولیم مصنوعات کی بچت کی جا سکے یوں زرمبادلہ کے ذخائر پر پڑنے والے دبائو کو کم کیا جا سکے گا جس سے ملکی کرنسی کی قدر بھی قائم رہے گی۔