شہر کے تفریحی مقامات پر رش شہریوں نے بھرپور طریقے سے عید کا لطف اٹھایا

شہریوں نے دنیا کو پیغام دیا کہ اہل کراچی خوفزدہ نہیں، متعلقہ ادارے روایتی طور پر انتظامات کے حوالے سے لاتعلق رہے


Staff Reporter August 12, 2013
کلفٹن کے ساحل پر تفریح کے لیے آنے والے ہزاروں شہری ابر آلود موسم کا لطف اٹھارہے ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

ISLAMABAD: ماہ رمضان کی طرح عید الفطر کے موقع پر بھی بلدیہ عظمیٰ کراچی، ضلعی میونسپل کارپوریشنز، کنٹونمنٹ بورڈز، ٹریفک پولیس اور دیگر متعلقہ ادارے شہری انتظامات کے حوالے سے مکمل طور پر لاتعلق نظر آئے تاہم اہلیان کراچی نے اپنے طور پر عیدکی خوشیوں کو دوبالا کرتے ہوئے تفریح گاہوں کا رخ کیا اور عید کی خوشیوںسے بھرپور لطف اٹھایا۔

عیدالفطر کے تینوں دن تفریح گاہوں پر بے پناہ رش دنیا کیلیے پیغام ہے کہ ملک بالخصوص کراچی میں خوف ودہشت نے ڈیرے نہیں ڈالے بلکہ یہاں زندگی رواں دواں اور معمول کے مطابق ہے، امن وامان کی دگر گوں صورتحال کے باوجودشہریوں کے رویے میں مثبت تبدیلی دیکھی جارہی ہے جو اس بات کی ضمانت ہے کہ پرامن معاشرے کا قیام اب دور نہیں، شہریوں کی اکثریت نے چڑیا گھر، سفاری پارک، باغ ابن قاسم، سی ویو، عسکری پارک، مزار قائد، ہل پارک، الہ دین پارک اور دیگرتفریح گاہوں کا رخ کیا اور عید کو انجوائے کیا۔

تفصیلات کے مطابق عید الفطر کے تینوں دن مطلع جزوی و مکمل ابرآلود اور موسم خوشگوار تھا، کراچی میں عیدالفطر کے موقع پر بیشتر لوگ نماز عید کی ادائیگی کے بعد اپنے عزیز و اقارب سے ملنے ان کے گھر گئے، شہریوں نے مہمانوں کی تواضع روایتی شیرنی سے کی ، اہلیان کراچی خوشی کے موقع پر بھی اپنے ان پیاروں کو نہیں بھولے جو دنیا سے جاچکے ہیں، نماز عید کے فوری بعد قبرستانوں پر شہریوں کی آمد کا سلسلہ جاری رہا، شہریوں نے اپنے عزیر و اقارب کی قبروں پر فاتحہ خوانی کی اور ایصال ثواب کیلیے دعائیں مانگیں۔



مختلف مقامات بالخصوص قبرستانوں کے اطراف ٹریفک پولیس کی عدم موجودگی کے باعث بدترین ٹریفک جام رہا اور شہریوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا، شہریوں کی بڑی تعداد نے عید کے تینوں دن تفریح گاہوں میں وقت گزارا، بچے، بزرگ، جوان اور خواتین کی اکثریت نے چڑیا گھر، سفاری پارک، باغ ابن قاسم، سی ویو، عسکری پارک، مزار قائد، ہل پارک، الہ دین پارک اور علاقوں میں قائم پارکوں و پلے گرائونڈز میں عید کی خوشیوں کو دوبالا کیا، عیدالفطر کے تینوں دن شہری وصوبائی انتظامیہ کی کارکردگی مایوس کن رہی، شہری ادارے تفریح گاہوں کے اندرونی و بیرونی حصوں کی صفائی کرنے میں ناکام رہے، باغ ابن قاسم کے مرکزی دروازے پر برساتی و سیوریج کا پانی جمع ہونے کے باعث شہریوں کو سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، دیگر تفریح گاہوں کے اندرونی حصوں سے برساتی پانی کی نکاسی کا انتظام نہیں کیا جاسکا تھا جبکہ بیشتر مقامات پر کچرے کے ڈھیر مو جود تھے جن سے حالیہ بارشوں کے باعث تعفن اٹھ رہا تھا۔

ٹریفک پولیس کی غفلت و بے حسی کے باعث پبلک ٹرانسپورٹرز نے سرکاری مقررہ کرایوں سے زائد کرایہ وصول کیا جبکہ رکشا و ٹیکسی ڈرائیورز نے لوٹ مار مچادی اور عید کے نام پر کئی گنا کرایہ وصول کیا، ان تمام مشکلات کے باوجود کراچی کے زندہ دل شہریوں نے خوشی کے یہ لمحات مثبت رویے کے ساتھ سمیٹے اور لوگ خاندان سمیت جوق درجوق تفریح گاہوں میںآتے رہے، نوجوانوں کی ٹولیاں موٹرسائیکل پر سی ویو پر جاتی نظرآئیں، اس موقع پر تفریح گاہوں پر قائم چائے، کولڈڈرنکس، چھولے اور فروٹ چاٹ کے اسٹالوں کی چاندی ہوگئی، شہریوں نے ان اسٹالوں پر اپنے ذوق کے مطابق چیزیں خرید کر پکنک کا سماں بنالیا، سب سے زیادہ رش کراچی زو، سی ویو اور الہ دین پارک پر دیکھنے میں آیا جہاں بچے اور بڑے عید انجوائے کرتے نظر آئے، بالخصوص بچوں نے کراچی زو میں اپنا بہترین وقت گزارا جہاں مختلف قسم کے جانوروں کو دیکھ کر بچے بہت خوش ہوئے۔

اس موقع پر بچوں اور بڑوں نے جانوروں کے پنجروں کے سامنے تصویریں کھنچوائیں، لوگ اپنے خاندان اور عزیز واقارب کے ہمراہ ساحل سمندر پر چہل قدمی کرتے نظر آئے، شہریوں کی بڑی تعداد مزار قائد بھی گئی جہاں انھوں نے فاتحہ خوانی کی اور خوشگوار موسم کا لطف اٹھایا۔