کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر بھارتی اشتعال انگیزی

بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر گزشتہ کئی روز سے جاری بلا اشتعال فائرنگ کے مسلسل واقعات کے...


Editorial August 12, 2013
دو پاکستانی سفارت کاروں منظور میمن اور نعیم انور نے دس دن پہلے جے پور جانے کی اجازت مانگی تھی. فوٹو اے ایف پی

بھارت کی طرف سے کنٹرول لائن اور ورکنگ باؤنڈری پر گزشتہ کئی روز سے جاری بلا اشتعال فائرنگ کے مسلسل واقعات کے بعد کشیدگی کی فضا پیداہو گئی ہے۔ پیر کو بھی بھارتی فوج نے بٹل سیکٹر پر گولہ باری کی جس سے ایک پاکستانی شہری شہید ہو گیا۔ بھارتی فوج نے عید کے تیسرے دن اتوار کو سیالکوٹ کے بجوات اور آزاد کشمیر کے نکیال سیکٹر میں پاکستانی حدود میں بلا اشتعال فائرنگ کی' اس فائرنگ سے ایک شہری کے زخمی ہونے کی اطلاع ہے۔ رینجرز حکام کے مطابق بھارتی فورسز نے سمبل چیک پوسٹ سے بلا اشتعال فائرنگ کا سلسلہ شروع کر دیا جس پر پنجاب رینجرز کے جوانوں نے بھرپور جوابی کارروائی کر کے دشمن کی گنوں کو خاموش کرا دیا۔ فائرنگ کے ان اشتعال انگیز واقعات پر پاکستان نے بھارت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

سرحدوں پر فائرنگ کے ان واقعات سے بھارت میں انتہا پسند وں نے بھی بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی سے لاہور آنے والی دوستی بس کو امرتسر کے قریب روک لیا، مسافروں کو دھمکیاں دیں اور پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی جب کہ دوسرے واقعے میں لاہور سے دہلی جانے والی دوستی بس کو دہلی میں روکا گیا تاہم دونوں واقعات میں بس کے مسافر محفوظ رہے۔ بھارت کی جانب سے سرحد سے لے کر عوامی سطح تک اشتعال انگیزی کے واقعات پر پاکستان نے اب تک انتہائی تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کیا ہے۔

سرحدوں پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے جواب میں رینجرز کو مجبوراً فائرنگ کرنا پڑی جب کہ پاکستان میں عوامی سطح پر بھی ایسا اشتعال اور جذباتی پن دیکھنے میں نہیں آیا جس کا اظہار بھارت میں کیا جا رہا ہے۔ پاکستانی میڈیا بھی بھارتی میڈیا کے مقابلے میں ذمے داری کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ وزیراعظم میاں نواز شریف پاکستان میں ترقی اور خوشحالی لانے کا اظہار بارہا کر چکے ہیں، اس مقصد کے لیے وہ ہمسایہ ممالک چین' بھارت اور افغانستان سے تجارتی تعلقات کو زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کے خواہاں ہیں۔ مسئلہ کشمیر سمیت تمام علاقائی تنازعات کو بھی وہ بندوق کے بجائے مذاکرات کی میز پرحل کرنے کا عندیہ دے چکے ہیں۔ ایسے موقع پر جب پاکستان میں امن پر یقین رکھنے والی حکومت برسراقتدار ہے، اس کے برعکس بھارت کی جانب سے سرحدوں پر بلا اشتعال فائرنگ کرکے حالات کو بہتری کی جانب بڑھنے سے روکا جا رہا ہے۔

حیرت انگیز امر یہ ہے کہ جب بھی پاکستان کی جانب سے بھارت کی طرف دوستی کا ہاتھ بڑھایا جاتا ہے، سرحدوں پر کشیدگی کو ہوا دے کر دوستی کی اس خواہش کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ بعض سیاسی ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان اور بھارت میں موجود کچھ گروہوں کے مفادات دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کے وجود سے وابستہ ہیں۔ یہ طاقتور گروہ کبھی نہیں چاہتے کہ دونوں ممالک کے درمیان دوستی کی فضا قائم ہو کیونکہ اس طرح وہ کمزور پڑ جائیں گے' جب تک دونوں ممالک کے درمیان دشمنی اور جنگی ماحول موجود رہے گا یہ گروہ طاقتور اور مضبوط رہیں گے لہذا جب بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان دوستی کی بات کی جاتی ہے' یہ گروہ اندرون ملک اور سرحدوں پر کشیدگی کا ماحول پیدا کر دیتے ہیں۔

اس صورت حال میں بھارتی حکومت بھی جنگی ماحول کو ختم کرنے کے لیے ذمے داری کا مظاہرہ کرنے کے بجائے اشتعال انگیز بیانات دینا شروع کر دیتی ہے۔ اب بھارتی وزیر دفاع کا جارحانہ بیان کہ بھارتی مسلح افواج سرحدی صورتحال کا مناسب جواب دینے میں آزاد ہیں ،مزید کشیدگی اور تناؤ کا باعث بنے گا۔ خطے میں پائیدار امن اور تناؤ کی صورتحال کم کرنے کے لیے بھارتی حکومت کو تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کرنا چاہیے تھا مگر ایسا دیکھنے میں نہیں آ رہا۔ اگر بھارتی فوج کی طرف سے گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ یونہی جاری رہا تو معاملہ مزید بگڑ سکتا اور اس کا دائرہ پوری سرحد تک پھیل سکتا ہے جس سے دونوں ممالک میں جنگ کا خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ خدانخواستہ دونوں ممالک میں جنگ چھڑ گئی تو یہ حقیقت نہیں بھولنا چاہیے کہ دونوں ایٹمی اور میزائلی قوتیںہیں'کسی بھی جانب سے ان مہلک ہتھیاروں کے استعمال سے پورا خطہ ناقابل بیان تباہی کا شکار ہو جائے گا۔

بھارتی حکومت کو بھی اس امر کا بخوبی ادراک ہے کہ دونوں ممالک جنگ کے متحمل نہیں ہو سکتے، یہ سوال جواب طلب ہے کہ جب بھارتی حکومت اصل صورتحال کا فہم رکھتی ہے تو وہ سرحدوں پر پیدا ہونے والی کشیدگی کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کا راستہ اپنانے کے بجائے جارحانہ انداز کیوں اختیار کیے ہوئے ہے۔ بھارتی حکومت کے برعکس پاکستانی حکومت تحمل اور ذمے داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے اشتعال انگیز بیانات سے احتراز کر رہی ہے۔ پاکستانی دفتر خارجہ کے ترجمان نے سرحدی خلاف ورزی اور دوستی بس کو انتہا پسندوں کی جانب سے روکنے کے واقعات پر سخت افسوس کا اظہار کرتے ہوئے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان واقعات کا نوٹس لے اور مسافروں کے تحفظ کو یقینی بنائے۔ ترجمان نے وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی کے باوجود جارحانہ رویے کا مظاہرہ نہیں کیا' بھارتی حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ جذبات پر قابو رکھے اور مسائل کے حل کے لیے با مقصد دو طرفہ مذاکرات شروع کیے جائیں۔

بھارت کی جانب سے گولہ باری اور فائرنگ کے واقعات کے باوجود پاکستان خطے کے مسائل کو حل کرنے اور امن کے قیام کے لیے مذاکرات کا عندیہ دے رہا ہے۔ مسئلہ کشمیر دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی ایک بنیادی وجہ ہے۔ اس مسئلہ پر دونوں ممالک جنگیں بھی لڑچکے ہیں مگر اس کے باوجود یہ حل نہیں ہوا جب تک یہ مسئلہ موجود رہے گا دونوں ممالک میں کشیدگی کا خاتمہ ممکن نہیں اور خطے پر ہر وقت جنگ کا خوف چھایا رہے گا۔ بھارتی حکومت کو بالآخر مذاکرات کی طرف ہی آنا پڑے گا کیونکہ اس کے سوا امن کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ امید ہے کہ کشیدگی کا یہ ماحول جلد ختم ہو جائے گا اور دونوں ممالک اپنے تنازعات بات چیت کے ذریعے حل کرنے پر متفق ہو جائیں گے جس سے اس خطے میں ترقی اور خوشحالی کا نیا دور شروع ہو گا۔