2 نوجوانوں کی گرفتاری کیخلاف دیہاتی خواتین کا احتجاج

ظفر نوناری اور محمد علی کو ایک ماہ قبل گرفتار کر کے لاپتہ کر دیا گیا، مسمات نظیراں بانو


Numainda Express August 13, 2013
دو نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف گاؤں گیلو نوناری کے رہائشی مظاہرہ کررہے ہیں۔ فوٹو: شاہد علی/ ایکسپریس

گوٹھ گیلو نوناری کی رہائشی خواتین نے 2 نوجوانوں کی گرفتاری کے خلاف پیر کے روز بھی حیدرآباد پریس کلب کے سامنے احتجاج کا سلسلہ جاری رکھا۔

خواتین مظاہرین نے نوجوانوں کو گرفتار کرنے والے اہلکاروں کے خلاف نعرے بھی لگائے۔ اس موقع پر نوجوانوں کی بوڑھی والدہ مسمات نظیراں بانو نے الزام عاید کیاکہ قانون نافذکرنے والے اداروں کے اہلکاروں نے ایک ماہ قبل اس کے دو بیٹوں ظفر نوناری اور محمد علی کو گرفتارکر کے نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا ہے۔



جن کے بارے میں نہ تو کوئی معلومات فراہم کی جارہی ہیں اور اگر انہیں کسی کیس میں گرفتار کیا گیا ہے تو ان کی گرفتاری کو بھی ظاہر نہیں کیا جارہا ، جس کے باعث اہل خانہ شدید پریشان ہیں اور عید خوشیوں کے تہوار پر بھی احتجاج کرنے پر مجبور ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ اس کے بیٹوں کا تعلق قوم پرست جماعت سے ہے اور انہیں سندھ کے حقوق کے لیے کی جانے والی جدوجہد کی پاداش میں گرفتار کیا گیا ہے ۔ مسمات نظیراں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ گرفتار اس کے دونوں بیٹوں کو رہا کیا جائے۔