بنگلہ دیشی فکسنگ کیس کئی شرفا کے چہروں سے نقاب الٹنے کا وقت آگیا

تحقیقاتی رپورٹ لیے آئی سی سی چیف، اینٹی کرپشن یونٹ سربراہ و دیگر آفیشلز ڈھاکا پہنچ گئے، آج پریس کانفرنس کرینگے


Sports Desk August 13, 2013
دنیائے کرکٹ میں بھونچال آنے کا امکان، چند غیرملکیوں کے نام بھی سامنے آ سکتے ہیں(ذرائع) اشرفل پر تاحیات پابندی کا خدشہ۔ فوٹو: وکی پیڈیا/فائل

لاہور: کئی شرفا کے چہروں سے نقاب الٹنے کا وقت آ گیا، بنگلہ دیش پریمیئر لیگ فکسنگ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ ڈھاکا پہنچ گئی، منگل کو آئی سی سی حکام پریس کانفرنس میں ملوث افراد کا پول کھولیں گے۔

دنیائے کرکٹ میں بھونچال آنے کا امکان ہے، ممکنہ تاحیات پابندی کے خدشے سے اشرفل عید بھی نہیں منا پائے، پڑوسیوں نے بھی اس بار گلے ملناگوارا نہیں کیا، مشرف حسین اور محبوب عالم کے ساتھ چند غیرملکیوں کے نام بھی سامنے آسکتے ہیں۔ تفصیلات کے مطابق انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا ایک اعلیٰ سطح کا وفد بی پی ایل فکسنگ کیس کی تحقیقاتی رپورٹ لے کر بنگلہ دیش پہنچ گیا، اس میں کونسل کے چیف ایگزیکٹیو ڈیو رچرڈسن، اینٹی کرپشن و سیکیورٹی یونٹ کے سربراہ وائے بی سنگھ، میڈیا اینڈ کمیونی کیشن منیجر سمیع الحسن برنی اور لیگل ڈپارٹمنٹ کے سربراہ ای ین ہگنز اور تحقیقاتی افسر ایلن پیکاک شامل ہیں۔ اس فکسنگ اسکینڈل نے بنگلہ دیشی کرکٹ کو ہلا کر رکھ دیا تھا، ملک کے سب سے بہترین کرکٹر محمد اشرفل بھی اس میں ملوث پائے گئے جس پر انھیں پہلے ہی معطل کیا جا چکا ہے۔

بی سی بی کو اس رپورٹ کا شدت سے انتظار تھا جو اب اس کی دسترس میں ہے۔ منگل کی سہ پہر ایک پُرہجوم پریس کانفرنس میں یہ رپورٹ پیش کی جائے گی جس سے پوری دنیا پر کرپٹ کرکٹرز کا کچا چٹھا کھل جائے گا، ذرائع خطرہ ظاہر کررہے ہیں کہ اس میں صرف بنگلہ دیش ہی نہیں بلکہ دیگر ممالک کے پلیئرز وغیرہ کے نام سامنے آسکتے ہیں جس سے دنیائے کرکٹ میں ایک اور بھونچال آ جائے گا۔ لیفٹ آرم اسپنر مشرف حسین اور فاسٹ بولر محبوب عالم کا بھی اس سلسلے میں نام لیا جارہا ہے، بی پی ایل فرنچائز ڈھاکا گلیڈی ایٹر کے مالکان کا بھی نام رپورٹ میں آسکتا ہے۔ بی سی بی کے صدر نظم الحسن پہلے ہی کہہ چکے کہ چند غیرملکی پلیئرز کے نام سامنے آنا خارج الامکان نہیں ہے۔



ڈھاکا گلیڈی ایٹر کے مالک سلیم چوہدری پر الزام ہے کہ انھوں نے محمد اشرفل کو میچ فکسڈ کرنے کی ہدایت کی تھی تاہم انھیں اپنے بے قصور ہونے پر پورا یقین ہے، ان کا کہنا ہے کہ اینٹی کرپشن یونٹ میرے خلاف کچھ بھی ثابت نہیں کرپائے گا، اگر میرا نام لیا بھی گیا تو میں اس کے خلاف ہر فورم پر فائٹ کروں گا کیونکہ جہاں تک میں جانتا ہوں میں نے کچھ بھی غلط نہیں کیا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ اس کیس میں ملوث پائے جانے والے کرکٹرز پر 2 سال سے تاحیات پابندی تک کی سزا ملنے کا امکان موجود ہے۔

آئی سی سی یا پھر بنگلہ دیشی بورڈ کی جانب سے دی جانے والی سزا کو پوری دنیا میں تسلیم کیا جائے گا۔ ادھر اشرفل کی اس بار عید بھی کافی بے رونق گزری، گزشتہ برس انھوں نے بڑے دھوم دھام سے عید منائی تھی مگر اس بار ان کا گھر خاموشی میں ڈوبا رہا، وہ پڑوسی جو پہلے نماز عید کے بعد سب سے پہلی اشرفل سے گلے ملنا اپنے لیے باعث فخر سمجھتے تھے اس بار انھوں نے پوچھا تک نہیں ، اشرفل کا کہنا ہے کہ میری فیملی اور پرانے دوست اس مشکل وقت میں میرا ساتھ دے رہے ہیں، مجھے بھی اس رپورٹ کا شدت سے انتظار ہے۔