کاغذی کارروائی منظور نہیں20اگست تک تجاوزات ختم کی جائیں سندھ ہائیکورٹ

سہراب گوٹھ سے سپرہائی وے تک تجاوزات کا خاتمہ نہ ہواتو کمشنر کراچی کیخلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوگی۔


Staff Reporter August 14, 2013
متعلقہ اداروں کو محض خانہ پری کیلیے خط لکھ دیا جاتا ہے، عدالت عالیہ فوٹو: فائل

کاغذی کارروائی منظورنہیں 20اگست تک سہراب گوٹھ سے سپرہائی تک تجاوزات کا خاتمہ نہ ہواتو کمشنر کراچی کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع ہوگی، وہ ذاتی طور پر عدالت میں پیش ہوں ، چیف جسٹس مشیرعالم کی سربراہی میں سندھ ہائیکورٹ کے دو رکنی بینچ نے آبزرو کیا ہے کہ کمشنر کراچی کاغذی مراسلوں میں تو عدالتی احترام کے بارے میں بڑے دعوے کرتے ہیں لیکن عملی طور پر یہ حال ہے کہ گزشتہ سال جاری کیے گئے حکم پر تاحال عمل درآمد نہیں ہوا۔

جس سے ان کے دعوؤں کی قلعی کھل گئی ہے، متعلقہ اداروں کو محض خانہ پری کیلیے خط لکھ دیا جاتا ہے جس سے افسر شاہی مزاج کی عکاسی ہوتی ہے، بینچ نے کمشنر کراچی کوسپر ہائی وے،سہراب گوٹھ کے اطراف اور دیگر علاقوں میں تجاوزات کے خاتمے کیلیے 20اگست کی مہلت دیتے ہوئے سماعت ملتوی کردی،عدالت نے آبزروکیا کہ عدالت نے 14 نومبر 2012 اور 23 جنوری2013کوواضح احکامات دیے تھے مگر ان پرعمل درآمد نہیں کیا گیا ،قبل ازیں عدالت نے کے ایم سی اور کمشنرکراچی کوشہر میں قائم تجاوزات،غیر قانونی پتھاروں اور اسٹالوں کے خاتمے کا حکم دیاتھا،عدالت نے ڈی آئی جی ٹریفک کو حکم دیاتھا کہ تجاوزات کے خاتمے کیلیے تعاون کریں اور رکاوٹ بننے والے افسران کے خلاف سخت کارروائی کی جائے۔



واضح رہے کہ ایڈیشنل رجسٹرارسندھ ہائی کورٹ حیدرآباد نے اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ سپرہائی وے پر تجاوزات کے باعث شدید ٹریفک جام ہوجاتا ہے جس کے باعث شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ٹریفک جام کے دوران جرائم پیشہ عناصر لوٹ مار کرتے ہیں جبکہ بعض اوقات ایمبولینسز بھی پھنس جاتی ہیں گھنٹوں گاڑیوں کوراستہ نہیں ملتا، چیف جسٹس مشیرعالم نے رپورٹ کو آئینی درخواست میں تبدیل کردیا تھا، اس سے قبل ٹریفک پولیس کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سپر ہائی وے پر زیرو پوائنٹ سے سہراب گوٹھ تک انٹرسٹی بسوں کے کاؤنٹرز،ٹھیلے اور پتھارے قائم ہیں جس کے باعث ٹریفک جام ہوجاتا ہے،الآصف اسکوائر پر انٹرسٹی بسیں آکر رکتی ہیں جس باعث معمول کا ٹریفک متاثر ہوتا ہے۔

اگر اس علاقے میں تجاوزات کے خلاف سخت کارروائی کی جائے تو امن و امان کے مسائل پیدا ہوسکتے ہیں،شہر میں ٹریفک کے مسائل کے حل کیلئے 2007 میں اہم اجلاس منعقد ہوا تھا جس میں انٹرسٹی بس اڈوں کی بیرون شہر منتقلی سمیت کئی اہم فیصلے کئے گئے تھے،فیصلے کے مطابق پہلے مرحلے میں کوئٹہ جانے والی بسوں کااڈہ یوسف گوٹھ منتقل ہوگیا تھا جبکہ دوسرے مرحلے میں دیگر شہروں میں جانے والی بسوں کو بھی بیرون شہر منتقل کیا جانا تھا مگر متبادل جگہ فراہم نہ کیے جانے کے سبب اس پر عمل نہیں ہوسکا۔