پاک بھارت کشیدگی میں کمی کے آثار

دونوں ممالک نے ایک ساتھ برطانیہ سے آزادی حاصل کی‘ ان کے مسائل بھی یکساں ہیں۔


Editorial August 15, 2013
بھارتی وزیراعظم نے خط میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا اظہار کیا ہے۔ فوٹو: اے ایف پی/ فائل

پاک بھارت وزراء اعظم کی طرف سے ایک دوسرے کو خطوط کا تبادلہ کنٹرول لائن پر گزشتہ کئی روز سے جاری کشیدگی اور تنائو کو کم کرنے میں خوشگوار جھونکا ثابت ہوا ہے۔ بھارت کی جانب سے کنٹرول لائن پر فائرنگ اور گولہ باری سے سرحدوں پر کشیدگی میں اضافہ ہونے کے بعد دونوں ممالک پر جنگ کے خطرات منڈلانے لگے تھے۔ ان مشکل حالات میں پاکستانی حکومت نے انتہائی تحمل اور صبر سے کام لیتے ہوئے ذمے داری کا مظاہرہ کیا اور کسی بھی ایسے بیان سے گریز کیا جس سے صورتحال مزید بگڑے جب کہ بھارتی وزیر دفاع کے اس بیان کہ بھارتی فوج سرحدی صورتحال کے مطابق مناسب جواب دینے میں آزاد ہے' نے سرحدی کشیدگی میں مزید اضافہ کر دیا تھا۔

اب دونوں ممالک کے وزراء اعظم کی جانب سے ایک دوسرے کے یوم آزادی پر مبارکباد کے خطوط نے سرحدی کشیدگی کو کم کرنے میں بنیادی کردار ادا کیا ہے۔ بھارتی وزیراعظم نے خط میں پاکستان کے ساتھ تعاون پر مبنی تعلقات قائم کرنے کا اظہار کیا ہے۔ دونوں ممالک نے ایک ساتھ برطانیہ سے آزادی حاصل کی' ان کے مسائل بھی یکساں ہیں۔ آزادی کے بعد خطے کے مسائل مل کر حل کرنے کے بجائے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کی فضا قائم ہو گئی جس کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر تھا۔ وزیراعظم نواز شریف نے برسراقتدار آنے کے بعد بھارت سے تنازعات کے حل کے لیے مذاکرات کا عندیہ دیا مگر بھارت کی طرف سے حالیہ سرحدی خلاف ورزیوں نے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو ہوا دے دی۔

بعض ماہرین کا کہنا تھا کہ یہ پاکستانی حکومت کی بھارت کے ساتھ دوستانہ اور خوشگوار تعلقات قائم کرنے کی کوششوں کو سبوتاژ کرنے کی سازش ہے مگر نواز شریف حکومت نے انتہائی ذمے داری اور سمجھ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان تمام مذموم عزائم کو ناکام بنا دیا۔ بالآخر بھارتی حکومت کو بھی اس حقیقت کا احساس ہو گیا کہ اس خطے کی بقا اور ترقی جنگ میں نہیں امن مذاکرات ہی میں ہے جس کا اعتراف بھارتی وزیر خارجہ سلمان خورشید کو بھی یہ کہہ کر کرنا پڑا کہ کچھ لوگ ہمسایوں کے تعلقات خراب کرنا چاہتے ہیں' اختلافات ہوتے ہیں تاہم آخر کار بات چیت ہی کرنا پڑتی ہے۔ انھیں یہ تسلیم کرنا پڑا کہ تمام تنازعات کا حل مذاکرات میں ہے' موجودہ کشیدگی کے باوجود پاک بھارت مذاکرات جاری رہنے چاہئیں۔

بھارتی وزیر خارجہ کا بیان گومگو کیفیت کا حامل ہے ایک جانب وہ اختلافات کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی بات کر رہے ہیں تو دوسری جانب وہ پاکستان پر سیز فائر معاہدے کی مبینہ خلاف ورزیوں کی الزام تراشیاں کر رہے اور ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستان سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ حافظ سعید کے خلاف کارروائی کرے۔ بھارتی وزیر خارجہ کے اس نوعیت کے بیانات دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور ساز گار ماحول پیدا کرنے کی راہ میں رکاوٹ پیدا کر سکتے ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارتی حکومت کے ایک اہم افسر اس بات کا اعتراف کر چکے ہیں کہ ممبئی حملے ایک سازش کے تحت بھارتی حکومت نے خود کرائے تھے اور الزام پاکستان پر لگا دیا گیا تھا۔ بھارتی حکومت تمام صورت حال سے بخوبی آگاہ ہے تو ایسے میں جب دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کی بات کی جا رہی ہے بھارتی حکام کو متنازعہ اور اشتعال انگیز بیانات سے گریز کرنا چاہیے۔

دریں اثناء وزیراعظم نواز شریف نے وزیراعظم ہائوس میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ کنٹرول لائن پر کشیدگی میں اضافہ ہمارے اور اقوام متحدہ کے لیے باعث تشویش ہے۔ پاکستان ایک ذمے دار ملک کی حیثیت سے ضبط و تحمل اور ذمے داری کے ساتھ جواب دے گا۔ کنٹرول لائن پر جب بھی کشیدگی پیدا ہوتی ہے دونوں ممالک کے درمیان دشمنی کی فضا اس قدر بڑھتی ہے کہ جنگ کی باتیں ہونے لگتی ہیں۔ اسی جانب امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری حارف نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کیا کہ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کے خدشات منڈلا رہے ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان خدانخواستہ ایٹمی جنگ چھڑ جاتی ہے تو اس کے منفی اثرات سے نہ صرف جنوبی ایشیا بلکہ ارد گرد کے بھی ممالک متاثر ہوں گے اور اس خطے میں امریکی مفادات کو بھی زد پہنچے گی ۔

لہٰذا اقوام متحدہ اور امریکا کو مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا ہو گا۔ مگر امریکا مسئلہ کشمیر حل کرنے کے لیے بھارت پر دبائو بڑھانے کے لیے قطعی آمادہ دکھائی نہیں دیتا جس کا اظہار امریکی محکمہ خارجہ کی ترجمان میری حارف کی اس بات سے ہوتا ہے کہ امریکا پاکستان اور بھارت کے درمیان لائن آٹ کنٹرول پر کشیدگی کے حل کے لیے صرف مذاکرات کی حوصلہ افزائی کر سکتا ہے، دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے کشیدگی کا خاتمہ کریں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی تنازعات کے حل کے لیے کئی بار اعلیٰ سطحی مذاکرات ہوئے مگر وہ نتیجہ خیز ثابت نہ ہو سکے اور کشیدگی کی فضا بدستور چلی آ رہی ہے۔پاکستان اور بھارت میں کشیدگی ختم ہو جائے تو ان کے درمیان تجارتی تعلقات فروغ پانے سے خطے میں خوشحالی اور ترقی کے نئے در وا ہوسکتے ہیں۔ مگر جب تک مسئلہ کشمیر موجود ہے' دوستانہ تعلقات کی کوئی بھی کوشش بار آور نہیں ہو سکتی۔

اگر کسی بھی جامع مذاکرات کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان ساز گار ماحول قائم بھی ہو جاتا ہے تو کنٹرول لائن پر چلنے والی کوئی بھی گولی تمام ماحول کو پھر سے مکدر کر سکتی ہے اور اس طرح تمام مصالحانہ کوششیں رائیگاں چلی جائیں گی۔ کنٹرول لائن پر فائرنگ میں پہل بھارتی فوج کی جانب سے کی گئی اس لیے سرحدی صورتحال بگاڑنے کا ذمے دار بھی بھارت ہی ہے' اسے پاکستان سے خوشگوار تعلقات قائم کرنے کے لیے سب سے پہلے سیز فائر معاہدے کی بہر صورت پابندی کرنا ہو گی اور پھر مسئلہ کشمیر کے حل کی جانب آنا ہو گا ورنہ مذاکرات کی باتیں ڈھونگ کے سوا کچھ ثابت نہ ہوں گی۔