کارکردگی میں عدم تسلسل کا خوف کوچ کے اعصاب پر سوار

پلیئرز کمتر رینک زمبابوے سے کھیلتے ہوئے بھی غفلت کا شکار نہ ہوں، ڈیو واٹمور


Sports Reporter August 17, 2013
پلیئرز کمتر رینک زمبابوے سے کھیلتے ہوئے بھی غفلت کا شکار نہ ہوں، ڈیو واٹمور فوٹو: فائل

زمبابوے جیسی کمزور ٹیم کے خلاف بھی کارکردگی میں عدم تسلسل کا خوف کوچ ڈیو واٹمور کے اعصاب پر سوار ہے۔

انھوں نے کہا کہ کرکٹ کئی ناقابل یقین کارناموں کی تاریخ رکھتی ہے، کوشش ہوگی کہ کھلاڑی کمتر رینکنگ کی حامل ٹیم سے کھیلتے ہوئے بھی غفلت کا شکار ہونے کے بجائے تینوں فارمیٹس میں صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کریں۔ تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کا بارش سے متاثرہ تربیتی کیمپ این سی اے میں جاری ہے۔

جمعے کو بھی کھلاڑیوں نے انڈور سرگرمیوں میں وقت گزارا، اس موقع پر میڈیا سے بات کرتے ہوئے کوچ ڈیو واٹمور نے کہا کہ رینکنگ میں واضح فرق کے باوجود کسی بھی ٹیم کو اس کی سرزمین پر کمزور سمجھنے کی غلطی نہیں کی جا سکتی، کئی ناقابل یقین کارنامے کرکٹ کی تاریخ کا حصہ ہیں، واحد خطرہ کھلاڑیوں کے غیر ضروری طور پر مطمئن ہوکر غفلت کا شکار ہونے کا ہے، ذرا سی غفلت برتنے سے کارکردگی میں عدم تسلسل پریشانی کا باعث بن سکتا ہے۔



ہر میچ میں مکمل پلاننگ کے ساتھ میدان میں اتریں گے، کوشش ہوگی کہ تینوں فارمیٹ میں صلاحیتوں کا بھرپور اظہار کرتے ہوئے فتوحات سمیٹیں، انھوں نے مزید کہا کہ کمزور حریف کے خلاف اچھی پرفارمنس کی ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے، ہر سیریز سے قبل ٹیم میں اکھاڑ پچھاڑ کے بارے میں انھوں نے کہا کہ تبدیلیوں کی وجہ سے نئی پلاننگ کرنا پڑتی ہے، دوسری طرف فائدہ بھی ہوتا ہے، نئے ٹیلنٹ کو آزمانے اور گروم کرنے کے مواقع ملتے ہیں، میرا فرض ہے کہ دستیاب وسائل کو مؤثر بنانے کی بھرپور کوشش کروں۔

ایک سوال پر انھوں نے کہا کہ کرکٹ کو سمجھنے والے جانتے ہیں کہ اسکواڈ کو متوازن رکھنا زیادہ ضروری ہوتا ہے، محمد حفیظ آل راؤنڈر ہیں ، ان کا موازنہ اسد شفیق سے کرنا درست نہیں ہوگا، 2 کپتانوں کے ساتھ کام کرنے میں دشواری کے سوال پر انھوں نے کہا کہ محمد حفیظ اور مصباح الحق الگ شخصیات اور اپنے انداز میں پرفارم کرنے والے کھلاڑی ہیں، ان کے ساتھ کام کرتے ہوئے کوئی دشواری نہیں ہوتی بلکہ میرے لئے یہ ایک مختلف اور خوشگوار تجربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ معین خان کی بطور مینجر تقرری خوش آئند ہے، اپنے کنٹریکٹ میں توسیع کے سوال پر انھوں نے کہا کہ ابھی تو تکمیل میں ساڑھے 6 ماہ باقی ہیں، جب مدت ختم ہوگی تو مینجمنٹ کو فیصلے کا اختیار ہوگا، صورتحال دیکھ کر ہی کچھ کہا جاسکے گا۔