فراڈ کیس ملزم کی حوالگی کیلیے پولیس اور ایف آئی اے میں کشمکش

ایف آئی اے حکام سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملزم اور اس کے دست راست کا سراغ لگانے میں ناکام تھے۔


Staff Reporter August 17, 2013
ایف آئی اے حکام سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملزم اور اس کے دست راست کا سراغ لگانے میں ناکام تھے۔ فوٹو: فائل

سرمایہ کاری کے نام پر 2000 سے زائد افراد سے کئی ارب روپے بٹورنے والے جعلی انویسٹمنٹ کمپنی کے مالک سید زاہد علی کی حوالگی کیلیے ایف آئی اے نے سندھ پولیس سے رابطہ کرلیا ہے۔

واضح رہے کہ زاہد علی کے خلاف ایف آئی اے کراچی نے 2000 سے زائد شہریوں سے سرمایہ کاری کے نام پر ڈیڑھ ارب روپے سے وصول کرکے ہڑپ کرجانے کے الزام میں مقدمہ درج کرکے ملزم کے کچھ ساتھیوں کو گرفتار کرلیا تھا تاہم نیشن والا نامی کمپنی کے مالک سید زاہد علی اور ان کے دست راست سمیع احمد فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے تھے، ایف آئی اے حکام سرتوڑ کوششوں کے باوجود ملزم اور اس کے دست راست کا سراغ لگانے میں ناکام تھے۔



ایف آئی اے ذرائع کے مطابق اس سلسلے میں پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بھی مدد طلب کی گئی تھی، تاہم گذشتہ روز لاڑکانہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرکے ایک پریس کانفرنس کے ذریعے ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا، سید زاہد علی کی گرفتاری کی اطلاع ملنے کے بعد ڈائریکٹر ایف آئی اے سندھ زون نجف قلی مرزا نے ملزم کی حوالگی کیلیے اعلیٰ پولیس افسران سے رابطہ کرلیا ہے تاہم ذرائع نے بتایا کہ جعل سازی کے الزامات کے تحت سندھ پولیس بھی ملزم کیخلاف متعدد مقدمات درج کرچکی ہے ۔